’چوری شدہ پاسپورٹ پر سفر کرنے والے ایرانی دہشت گرد نہیں تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماہرین کا کہنا ہے کہ چوری شدہ پاسپورٹ پر دو اشخاص کا سفر کرنا سکیورٹی کی ناکامی ہے

ملائشیا کی پولیس کا کہنا ہے کہ لاپتہ مسافر جہاز پر جو شخص چوری شدہ پاسپورٹ پر سفر کر رہا تھا وہ ایرانی تھا اور اس کا کسی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ تعلق نہیں تھا۔

پولیس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اٹھارہ سالہ نور محمد مہرداد چوری شدہ پاسپورٹ پر جرمنی جانے کی کوشش میں تھا۔

انٹرپول کے مطابق دوسرا شخص جو چوری شدہ پاپسورٹ پر اس جہاز میں سفر کر رہا تھا اس کا تعلق بھی ایران سے تھا۔

ملائیشیا نے لاپتہ مسافر طیارے کی تلاش کے دائرہ کار کو ملک کے مغربی ساحلی علاقوں تک بڑھا دیا ہے جس کے لیے چین نے بھی دس سیٹیلائٹ تعینات کیے ہیں۔

ملائیشیا کی قومی فضائی کمپنی کا طیارہ ایم ایچ 370 کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئےجنوبی چین کے سمندری علاقے میں لاپتہ ہوگیا تھا۔ اس پر 239 افراد سوار تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چوری شدہ پاسپورٹ پر دو اشخاص کا سفر کرنا سکیورٹی کی ناکامی ہے۔

ملائیشیا کی پولیس کے سربراہ جنرل خالد ابو بکر کا کہنا ہے کہ دو ایرانی باشندوں کا کسی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ تعلق ثابت نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکام جرمنی میں ایک ایرانی باشندے کی والدہ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے فرینکفرٹ آنا تھا۔

دوسری جانب پیرس میں انٹرپول کے سیکریٹری جنرل رونلڈ نوبل نے کہا کہ دوسرا ایرانی باشندہ 29 سالہ دلاور سید محمد رضا تھے۔

مختلف ممالک کی امدادی ٹیمیں مسافر بردار طیارے کے باقیات کے نشانات کی تلاش میں ہیں۔

ملائیشیا کے حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے تلاش کے دائرے میں توسیع کرتے ہوئے اسے دوگنا کر دیا ہے جبکہ ایئر لائنز کا کہنا ہے کہ انھوں نے ملائیشیا کے مغربی ساحل سے دور سمندر میں اپنی تلاش کو مرکوز کیا ہے۔

دریں اثنا چین نے بھی ملائیشیا کے طیارے کی تلاش میں تعاون دینا شروع کردیا ہے اور اس نے اس نے تلاش کے لیے اپنے 10 سٹیلائٹ تعینات کیے ہیں۔

لاپتہ مسافروں کے لواحقین میں ناامیدی بڑھتی جا رہی ہے۔ ان لواحقین سے جن میں بیشتر چینی باشندے شامل ہیں، کہا گیا ہے کہ بری خبر کے لیے تیار رہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لاپتہ مسافروں کے لواحقین سے جن میں بیشتر چینی ہیں، کہا گیا ہے کہ بری خبر کے لیے تیار رہیں

ملائیشیا کی قومی فضائی محکمے کے سربراہ اظہرالدین عبدالرحمٰن نے سوموار کو نمائندوں سے بتایا کہ ’جہاں سے طیارہ لاپتہ ہوا تھا وہاں سے تلاش کے دائرے میں توسیع کرتے ہوئے اسے 50 نوٹیکل میل سے 100 نوٹیکل میل کر دیا گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’تلاش کا کام جنوبی چینی سمندر تک پھیلا دیا گیا ہے۔‘

اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ ’ملائیشیا کے مغربی ساحل سے دور ملکّا سٹریئٹ (آبنائے) کے بعض علاقوں تک لاپتہ طیارے کی تلاش کی جا رہی ہے۔‘

ملائیشیا کی قومی فضائی کمپنی نے کہا ہے کہ ’تلاش اور امدادی ٹیم طیارے کے راستے سے پرے بھی تلاش کا دائرہ بڑھا دیا ہے۔ اب توجہ کا مرکز ملک کے مغربی خطے میں ملکّا آبنائے ہے۔‘

ملائیشیا ائیر لائنز کے طیارے کو لاپتہ ہوئے تین دن سے زیادہ وقت گزر چکا ہے تاہم کثیر الملکی ٹیم جنوبی ویتنام کے سمندر میں اب بھی اس کی تلاش کر رہی ہے۔

اسی بارے میں