راہبہ کے ساتھ ریپ کے ملزموں کو قید کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگست 2008 میں عیسائیوں کے خلاف تشدد کے واقعات کے دوران اس راہبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آیا تھا

بھارت کی ریاست اوڑیسہ کے ضلع کٹک کی سیشن عدالت نے کندھمال میں ایک راہبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کے معاملے میں تین مجرموں کو سزا سنائی ہے۔ ان میں سے ایک مجرم کو 11 سال کی اور باقی دونوں کو 26 ماہ کی قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

اگست سنہ 2008 میں عیسائیوں کے خلاف تشدد کے واقعات کے دوران ایک راہبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کا یہ معاملہ بین الاقوامی شہ سرخیوں میں رہا تھا۔

ضلعی عدالت کے گیانا رنجن پروہت نے اہم ملزم سنتوش پٹنائک عرف ميتو کو تعزیراتِ ہند کی دفعہ 376 کے تحت اجتماعی جنسی زیادتی کا مجرم قرار دیا اور اسے 11 سال قید اور دس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

دو دیگر ملزمان گجیندر ديگل اور سروج بدھي کو مختلف دفعات کے تحت جنسی استحصال کا مجرم قراردیا گیا ہے۔ ان دونوں کو 26 ماہ قید کی سزا دی گئی ہے۔

اس معاملے میں پولیس نے 10 افراد کو گرفتار کیا تھا جن میں سے چھ کو عدالت نے بری کر دیا جبکہ ایک ابھی تک مفرور ہے۔

اہم ملزم سنتوش پٹنائک کو کم سے کم 10 سال کی سزا یا زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے جبکہ دیگر دو ملزمان کو زیادہ سے زیادہ تین سال کی سزا دی جا سکتی ہے۔

دونوں دیگر ملزمان کے وکلاء نے عدالت سے کہا ہے کہ سزا دیے جاتے وقت دونوں کے جیل میں گزارے وقت کو بھی ذہن میں رکھا جانا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ n
Image caption بھارت میں دہلی کی ایک بس میں طالبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کے واقعے کے نتیجے میں ملک بھر میں مظاہرے ہوئے اور ریپ کے خلاف قوانین کو سخت بھی کیا گیا

اس معاملے میں اس وقت صرف سنتوش پٹنائک ہی جیل میں ہیں۔ باقی دونوں ملزم ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔

اوڑیسہ کے کندھمال ضلع میں ہندو مذہبی رہنما لكشماند سرسوتی اور ان کے چار پیروکاروں کے قتل کے دو دن بعد ہونے والے عیسائی مخالف تشدد کے واقعات میں 25 اگست 2008 کو مشتعل ہجوم نے ایک عیسائی راہبہ پر جنسی حملہ کیا تھا۔

راہبہ کے ساتھ مبینہ طور پر باليگڈا کے نزدیک واقع كجومیڈي گاؤں میں اجمتاعی جنسی زیادتی کی گئی تھی۔

اس معاملے میں سپریم کورٹ کی ہدایات کے بعد کٹک کی ضلعی عدالت میں سماعت ہوئی تھی۔

راہبہ نے اپنی حفاظت کا حوالہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ سے کیس کی سماعت کو کندھمال سے منتقل کرنے کی درخواست کی تھی۔

عدالت نے اس معاملے میں چار مارچ کو اپنی سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

اسی بارے میں