دہلی میٹرو پر خواتین کی نشستوں پر مرد

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ تصویر سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں شیئر کی گئی ہے جس میں کئی میں ان مردوں کے چہرے واضح نظر آ رہے ہیں اور لکھا ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں

کیا بھارت کی عوامی ٹریفک نظام میں خواتین کے لئے سیٹوں پر ریزرویشن اصلی ہے؟

یہ سوال ان بہت سے سوالات میں سے ایک ہے جس پر اس وقت بھارت میں سوشل میڈیا پر بحث ہو رہی ہے۔

یہ بحث شروع ہوئی ہے ایک تصویر کے انٹرنیٹ پر آنے کے بعد جس میں چند مرد خواتین کے لیے مخصوص نشستوں پر بیٹھے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ اس تصویر میں ان مردوں کی نشستوں کے پیچھے واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ یہ سیٹیں خواتین کے لیے محضوص ہیں مگر پھر بھی خواتین کھڑی ہوئی ہیں حتیٰ کہ ایک عورت کی گود میں تو بچہ بھی ہے۔

خواتین کو سفر کے دوران چھیڑ چھاڑ سے بچانے اور تحفظ اور سہولت دینے کے لیے عوامی ٹریفک نظام میں ان کے لیے سیٹیں ریزرو ہوتی ہیں۔

لیکن سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی جانے والی اس تصویر کے بعد سوال اٹھ رہے ہیں کہ یہ ریزرویشن کا نظام کس قدر کام کر رہا ہے اور کارگر ہے؟

یاد رہے کہ دہلی میں دسمبر سنہ 2012 میں ایک چلتی بس میں ایک طالبہ سے گینگ ریپ کے بعد ملک بھر میں مظاہرے ہوئے تھے جن کے بعد ریپ کے خلاف سخت قوانین بنائے گئے تھے۔

تصویر کے بارے میں رچو دپكا کہتی ہیں تہ یہ تصویر عکاسی کرتی ہے کہ روز مرہ زندگی میں خواتین بھارت میں کیسے حالات کا سامنا کرتی ہیں۔ کئی بار بسوں میں لوگ خواتین کا بدن چھونے کی کوشش کرتے ہیں اور مخالفت کرنے پر خواتین کو ہی بس سے اتار دیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اب دہلی کے میٹرو نظام پر خواتین کے لیے مخصوص ڈبے ہیں مگر بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مسئلے کا حل نہیں ہے

كال مجمدار کہتے ہیں کہ یہ تصویر بتاتی ہے کہ انڈین مرد خواتین کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

دہلی میٹرو میں اب خواتین کے لیے الگ سے محفوظ ڈبا بھی ہے جس میں صرف خواتین ہی سفر کر سکتی ہیں۔ مردوں کو اس میں سوار ہونے پر سزا بھی دی جاتی ہے اور کئی بار تو مردوں کی پٹائی بھی کی گئی ہے۔

لیکن کیا خواتین کو الگ سے ڈبہ دینا مسئلے کا حل ہے؟

دہلی کے رہائشی مدھكر پانڈے مانتے ہیں کہ سیٹوں پر خواتین کو ریزرویشن جنسی برابری کے بنیادی اصول کے ہی خلاف ہے۔

خواتین کے حقوق کے کارکن جسمين پٹھیجا کا کہنا ہے کہ یہ ایک وقتی حل ہے مگر مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔