امریکہ کا حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ رواں برس کے موسم گرما میں افغانستان میں اپنی افواج کی تعداد کو بیس ہزار تک لانے کےمنصوبے پر عمل پیرا ہے

امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک افغانستان کے انتخابات کے عمل کو سبوتاژ ہونے سے بچانے کے لیےافغان مزاحمت کار گروہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا منصبوبہ بنا رہے ہیں۔

افغانستان میں صدارتی انتخابات اپریل میں ہونا طے ہیں۔حقانی نیٹ ورک نے کہا ہے کہ وہ انتخابات کو درہم برہم کرنے کے لیے بڑے بڑے سیاسی اہداف کو نشانہ بنائےگا۔

امریکی میرین جنرل جوزف ڈنفورڈ نےمحکمہ دفاع کے رپورٹوں کو بتایا ہے کہ امریکہ حقانی نیٹ ورک کےفنڈ اکھٹے کرنے کی صلاحیت اور ان کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے اس کے خلاف کارروائیاں تیز کر رہا ہے۔

افغان طالبان کو جیت کا یقین اور نگاہیں پھر سے اقتدار پر

جنرل ڈنفورڈ نےکہا کہ گزشتہ کچھ مہینوں میں حقانی نیٹ ورک نے اپنی کارروائیوں تیز کر دی ہیں لہذا امریکہ نے بھی اس گروپ کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

حقانی نیٹ ورک نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ انتخابات کے عمل کو درہم برہم کرنے کے لیے بڑے سیاسی اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔ماضی میں حقانی نیٹ ورک کو افغانستان میں ہونے والے دہشگردی کی بڑی بڑی کارروائیوں کا ذمہ دار قرار دیا جاتا رہا ہے۔

امریکہ ماضی میں پاکستان سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف زیادہ جارحانہ انداز میں کارروائیاں کرے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک نے پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں اپنے اڈے بنا رکھے ہیں جہاں سے وہ افغانستان میں کارروائیوں کے لیے منصوبہ بندی کرتا ہے۔

جنرل ڈنفورڈ نے صحافیوں کو سنہ 2014 کے بعد افغانستان میں امریکی افواج کے منصوبوں اور مجوزہ کارروائیوں کی تفصیلات بھی مہیا کیں۔

جنرل ڈنفورڈ نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ دو طرفہ معاہدے کی صورت میں امریکہ سنہ 2014 کے بعد افغانستان میں ہزاروں فوجی رکھےگا۔ ماضی میں امریکی اہل کار کہتے رہے کہ امریکہ سنہ 2014 کے بعد افغانستان میں آٹھ سے بارہ ہزار تک فوجیوں کو رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ان امریکی فوجیوں کو انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں میں استعمال کیا جائے گا۔ امریکی جنرل نے کہا ہے کہ سنہ 2014 کے بعد امریکی افواج کا ہدف القاعدہ ہوگا لیکن حقانی نیٹ ورک کی طرف سے امریکی افواج کے خلاف کارروائیوں کو روکنے کے لیے امریکی افواج تمام ضروری اقدامات کریں گی۔

افغانستان کے موجودہ صدر حامد کرزئی نے سنہ 2014 کے بعد افغانستان میں امریکی افواج کے رکنے سے متعلق معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکہ کو امید ہے کہ اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد نئے افغان صدر دو طرفہ معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔

امریکہ صدر براک اوباما نے پینٹاگان کو ہدایت کر رکھی ہے کہ وہ سنہ 2014 کے بعد افغانستان سے تمام امریکی افواج کو نکالنے کی تیاری کرے۔ امریکی جنرل نے کہا ہے کہ اگر انھیں تمام افواج کو افغانستان سے نکالنے کا کہاگیا تو وہ یہ کام 102 دنوں میں سرانجام دے سکتے ہیں۔

افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد 33,600 ہے۔ پینٹاگون موسم سرما تک ان افواج کی تعداد کو بیس ہزار تک لانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

اسی بارے میں