کھانا ختم پیسہ ہضم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر اعظم کی ریس میں ابھی نریندر مودی ہی خم ٹھونک کے بظاہر دوڑتے نظر آ رہے ہیں

الیکشن بس اب ہونے کو ہیں اور فی الحال وزیر اعظم کی کرسی کی دوڑ میں بظاہر صرف ایک امیدوار شامل ہے۔ باقی رہنماؤں نے یا تو ابھی بھاگنا شروع ہی نہیں کیا ہے اور اگر بھاگ رہے ہیں تو بہت خاموشی سے کہ کہیں کسی کو خبر نہ ہوجائے۔

لیکن نریندر مودی خاموشی سے کچھ نہیں کرتے۔ چاہے وہ چائے بیچ رہے ہوں یا کھانا۔ خاموشی سے ہی کام کرنا ہو تو پھر 56 انچ کے سینے کا فائدہ کیا ہے؟

اگرچہ اب ان کی پارٹی انکار کر رہی ہے لیکن خبر یہ تھی کہ دلّی میں مودی کے ساتھ ڈنر کا انتظام کیا جارہا ہے، جس کی جیب جنتی گہری ہوگی، کھانے کی میز پر وہ مسٹر مودی کے اتنا ہی قریب بیٹھ سکے گا۔ لیکن جو لوگ ایک رات کے کھانے پرصرف ایک لاکھ روپے ہی خرچ کرسکتے ہیں، وہ زیادہ خوش نہ ہوں کیونکہ انھیں سب سے پیچھے کی سیٹ ملنی تھی! ڈھائی لاکھ میں آگے کی قطار میں جگہ مل سکتی تھی اور ڈھائی کروڑ میں آپ مسٹر مودی کی ہی میز پر بیٹھ سکتے تھے۔

ویسے تو شوق کی کوئی قیمت نہیں ہوتی لیکن اگر ایسے کسی ڈنر میں آپ کی دلچسپی ہو تو بس اتنا یاد رکھیے گا کہ اگر مسٹر مودی وزیر اعظم نہیں بنتے تو کوئی پیسہ واپس نہیں کیا جائے گا!

کھانا ختم پیسہ ہضم۔

مذاق ہے تو ہنستے کیوں نہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption راہل گاندھی نے کہا ہے کہ وہ انتخابی جائزے، جو بی جے پی کی کامیابی اور کانگریس کی شکست فاش کی پیشن گوئی کر رہے ہیں، مذاق ہیں

اب جب بھی راہل گاندھی کو خبر ہوگی، وزیر اعظم کی ریس میں وہ بھی بھاگیں گے۔ خرگوش اور کچھوئِے کی کہانی تو آپ نے سنی ہی ہوگی، بس اب وقت بدل گیا ہے، خرگوش راستے میں کتنا بھی سوئے، کچھوا کبھی نہیں جیتتا! ہمیں نہیں معلوم کہ اس ریس میں کچھوا کون ہے اور خرگوش کون، یہ فیصلہ تو آپ خود ہی کیجیے گا، لیکن ہماری بات سن کر یا کسی ٹی وی یا اخبار کے بہکاوے میں آکر نہیں کیونکہ جب سے عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کیجریوال نے پورے میڈیا پر بکنے کا الزام لگایا ہے، کچھ اپنی اور کچھ باقی میڈیا کی معتبریت سے بھروسہ اٹھ گیا ہے!

اسی لیے راہل گاندھی نے کہا ہے کہ وہ انتخابی جائزے، جو بی جے پی کی کامیابی اور کانگریس کی شکست فاش کی پیش گوئی کر رہے ہیں، مذاق ہیں!

ہوسکتا ہے کہ یہ جائزے مذاق ہوں لیکن کسی بھی کانگریسی رہنماؤں کے چہرے پر ہنسی کے آثار کیوں نہیں ہیں!

وزیر دفاع اے کے اینٹونی، وزیر خزانہ پی چدمبرم، وزیر اطلاعات و نشریات منیش تیواری اور کئی دیگر سرکردہ سیاسی رہنماؤں کے بارے میں خبر ہے کہ وہ الیکشن لڑنا ہی نہیں چاہتے! سینئر رہنما کچھ ایسے بیان دے رہے ہیں جن سے لگتا ہےکہ انھوں نے ہتھیار اٹھانے سے پہلے ہی شکست تسلیم کر لی ہے۔ یہ ہم نہیں تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں اور الزام ابھی سے بے چارے من موہن سنگھ پر رکھا جارہا ہے۔

جی ہاں! وہ ابھی بھی وزیر اعظم ہیں، اخبار میں تو وہ نہ پہلے کبھی نظر آتے تھے اور نہ اب آتے ہیں!

راہل، یہ جائزے مذاق ہوسکتے ہیں لیکن اشارے اور بھی ہیں، اگر وقت ملے تو یہ ضرور سوچیے گا کہ دوسرے رہنماؤں کے پاس ایسی کیا معلومات ہیں جو ابھی آپ تک نہیں پہنچیں!

ترکش ابھی خالی نہیں ہوا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس ریس میں کچھ سائے بھی شامل ہیں جو دن بہ دن گہرے اور لمبے ہوتے جارہے ہیں

لیکن جو لوگ ابھی سے جشن منا رہے ہیں وہ بھی یہ یاد رکھیں کہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں اور ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔

نریندر مودی کو اگر باہر سے نہیں تو خود اپنی پارٹی کے اندر اختلاف کا سامنا ہے۔ سینئر لیڈر مرلی منوہر جوشی ان کے لیے بنارس کی سیٹ چھوڑنے کو تیار نہیں تھے، لکھنؤ سے ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے ان کے معتمد راج ناتھ سنگھ کو ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑا اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کی رہنما سشما سواراج اپنے ترکش سے تیر چلاتی ہی رہتی ہیں۔ وہ خود وزیر اعظم بننا چاہتی تھیں لہٰذا یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ نشانے پر کون ہے۔

اب اخباروں کی مانیں تو بی جے پی کی ناراض قیادت اس انتظار میں ہےکہ پارٹی کو 160 سے زیادہ سیٹیں نہ ملیں ورنہ مسٹر مودی کو وزیر اعظم کی کرسی سے دور رکھنا ممکن نہیں ہوگا! اگر پارٹی کی سیٹیں 160 کے آس پاس رہ جاتی ہیں تو اسے حکومت بنانے کے لیے اتحادیوں کی ضرورت ہوگی اور ایسے میں سشما سواراج اور ایل کے اڈوانی پھر پی ایم کی دوڑ میں واپس آسکتے ہیں کیونکہ بہت سی علاقائی جماعتیں کسی قیمت پر مسٹر مودی کی حمایت نہیں کریں گی۔

اس ریس میں کچھ سائے بھی شامل ہیں جو دن بہ دن گہرے اور لمبے ہوتے جارہے ہیں! دیکھنے میں یہ ایک کچھوئے اور ایک خرگوش کی دوڑ ضرور نظر آتی ہے لیکن اس میں کچھ نئے پرانے خرگوش ابھی شامل ہونا باقی ہیں۔

اسی بارے میں