’چین سے شکست کے لیے نہرو بھی ذمہ دار تھے‘

Image caption میکسویل نے اپنی کتاب میں بھی شکست کے لیے بھارت کی اعلٰی فوجی اور سویلین قیادت کو ذمہ دار ٹھہرایا

آسٹریلیا کے ایک صحافی نے بھارتی حکومت کی ایک خفیہ رپورٹ کے کچھ مبینہ حصے اپنی ویب سائٹ پر جاری کیے ہیں جن میں چین کے خلاف 1962 کی جنگ میں بھارت کی شکست کے لیے اس وقت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

رپورٹ کے ان مبینہ حصوں کے منظر عام پر آنے کے بعد بھارت میں اس جنگ پر پھر بحث شرو ع ہوگئی ہے۔

بھارتی حکومت نے ابھی اس بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے کہ رپورٹ کے جو حصے شائع کیےگئے ہیں وہ اصلی ہیں یا نہیں۔

تاہم جب سے آسٹریلوی صحافی نیویل میکسویل نے انہیں اپنی ویب سائٹ پر جاری کیا ہے، ملک میں یہ مطالبہ دوبارہ سے شرو ع ہوگیا ہے کہ چین کے ہاتھوں بھارت کی شکست کا جائزہ لینے والی خفیہ رپورٹ کو اب عام کر دیا جانا چاہیے۔

بی جے پی کے ترجمان روی شنکر پرساد نے کہا کہ ’رپورٹ کے جو حصے ہم نے دیکھے ہیں ان میں جواہر لال نہرو کو شکست کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ فوج اس وقت جنگ کے لیے تیار نہیں تھی لیکن اس کے تحفظات کو نظر انداز کر دیاگیا۔ اب یہ پوری رپورٹ عام کر دی جانی چاہیے تاکہ اس سے سبق حاصل کیا جا سکے۔‘

رپورٹ لیفٹیننٹ جنرل ہینڈرسن بروکس اور بریگیڈیئر پی ایس بھگت نے اس وقت کے فوج کے سربراہ کے حکم پر تیار کی تھی۔

جنگ کے دوران نیول میکسویل برطانوی اخبار دی ٹائمز کے لیے رپورٹنگ کر رہے تھے اور مبینہ طور پر انھیں یہ رپورٹ مل گئی تھی۔

تجزیہ نگار راہول بیدی کےمطابق اسی کی بنیاد پر انہوں 1962 کی جنگ پر کتاب لکھی تھی۔ اس کتاب میں بھی شکست کے لیے فوج اور سویلین حکومت کی اعلیٰ ترین قیادت کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔

میکسویل نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ اس رپورٹ کو جاری نہ کر کے وہ بھی ایک طرح سے اس راز کو خفیہ رکھنے کی کوششوں کا حصہ بن گئے تھے۔

رپورٹ میں حکومت کی فارورڈ پالیسی پر سخت تنقید کی گئی ہے جس کے تحت مبینہ طور پر محاذ پر تعینات افسران کے موقف کو نظر انداز کر کے جارحانہ حکمت عملی اختیار کی گئی تھی حالانکہ ان کے مطابق فوج کے پاس ساز و سامان اور اسلحہ کی قلت تھی۔

یہ رپورٹ 1963 میں حکومت کو سونپی گئی تھی اور تب سے ہی اسے خفیہ رکھا گیا ہے۔

اسی بارے میں