اقوامِ متحدہ بھارت سے فوجی چھڑانے میں مدد کرے: اٹلی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اٹلی کے دو میرین دہلی میں اطالوی سفارت خانے میں موجود ہیں

اٹلی نے بھارت میں دو بھارتی مچھیروں کو مبینہ طور پر قتل کرنے کے واقع میں ملوث دو اطالوی میرین (فوجیوں) کی رہائی کے لیے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق اطالوی وزیر داخلہ اینجیلینو ایلفانو نے کہا ہے کہ اٹلی کی حکومت ان دونوں فوجیوں پر اٹلی میں مقدمہ چلانے کے لیے تیار ہے لیکن پہلے انھیں بھارت سے رہائی دلوا کر اٹلی لانا ہوگا۔

اطالوی وزیر داخلہ نے یہ بیان اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے اپنی ملاقات سے قبل دیا۔

اٹلی کی حکومت بھارت کی قید سے اپنے دو فوجیوں کی رہائی کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جن میں یورپی برادری، امریکی اور نیٹو میں اس کے اتحادی ممالک شامل ہیں۔

اٹلی کے دو میرین فوجیوں میسیمیلانو لاتورے اور سلواتورے گیرونی نے فروری سنہ دو ہزار بارہ میں بھارت کی جنوبی ریاست کیریلہ میں دو مچھیروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد سے بھارت اور اٹلی کے درمیان سفارتی تعلقات کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے۔

اٹلی کے ایک آئل ٹینکر پر سوار ان دونوں فوجیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نےمچھیروں کو بحری قزاق سمجھ کر ہلاک کر دیا تھا۔ فی الحال یہ دونوں میرین دہلی میں اٹلی کے سفارت خانے میں ہیں اور اپنے مقدمے کی سماعت شروع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption اٹلی کے لکژی ہیلی کاپٹر اہم شخصیات کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں

دریں اثناء بھارت اور اٹلی کے درمیان ہیلی کاپٹر کے ایک سودے میں بھارت کی طرف سے اٹلی کو بینک گارنٹی کے طور پر ادا کی گئی اڑتیس کروڑ ستر لاکھ ڈالر کی رقم بھی وجہ تنازع بنائی ہوئی ہے۔

اٹلی کی ایک عدالت نے بھارت کی یہ درخواست رد کر دی تھی کہ ہیلی کاپٹروں کے سودے میں گارنٹی کے طور پر اٹلی کو دی گئی رقم بھارت کو واپس کی جائے۔

بھارت اٹلی کی اس عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے پر غور کر رہا ہے۔

بھارت نے بدعنوانی کے الزامات سامنے آنے کے بعد گزشتہ ماہ اٹلی سے ہیلی کاپٹر خریدنے کی پچہتر کروڑ تیس لاکھ ڈالر کا معاہدہ ختم کر دیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت اٹلی نے بارہ ’لگژری ہیلی کاپٹر‘ جو وی آئی پی شخصیات کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں بھارت کو فراہم کرنے تھے۔

بھارت کی حکومت اٹلی کے شہر میلان میں اس فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کرنے والی ہے۔

اسی بارے میں