کابل:سرینا ہوٹل پر حملہ، نو افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کابل کا سرینا ہوٹل شہر کی محفوظ ترین جگہوں میں سے شمار کیا جاتا ہے

افغانستان کے ایک حکومتی وزیر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دارالحکومت کابل کے فائیو سٹار ہوٹل سرینا میں مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ سے کم سے کم نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

نائب وزیر داخلہ جنرل محمد ایوب سالنگی کے مطابق مرنے والوں میں چار غیر ملکی اور دو بچے بھی شامل ہیں جبکہ چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سپیشلفورسز کی کارروائی میں چاروں حملہ آور بھی مارے گئے ہیں۔

یہ ہوٹل غیر ملکیوں میں کا مقبول ہے۔طالبان نے جمعرات کی شام کیے گئے اس حملے کی ذمہ دار قبول کر لی ہے۔

حکام کے مطاقب حملہ آور نوجوان تھے اور انہوں نے پسٹلز اپنی جرابوں میں چپھا رکھے تھے۔

یہ لوگ شام چھ بجے ہوٹل مںی داخل ہوئے اور نئے سال کے موقع پر نوروز کے لیے خصوصی کھانے کی خواہش ظاہر کی۔ جس کے بعد تین گھنٹے غسل خانے میں چھپے رہے اور عین رات کے کھانے کے وقت باہر آکر فائرنگ شروع کر دی۔

مرنے والوں میں چار خواتین، تین مرد اور دو بچے شامل ہیں۔غیر ملکیوں کی شہریت کے بارے میں ابھی کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔

زخمیوں میں افغان ممبر پارلیمان حبیب افغان بھی شامل ہیں۔ ان کے چہرے، پیٹ اور ٹانگ میں گولی لگی ہے۔

افغان وزراتِ کے مطابق گارڈ سے ملنے والے معلومات کے مطاقب حملے آوروں کی عمریں 18 سال سے کم تھیں۔

حملے کے فورا بعد عمرات کو سکیورٹی اہلکاروں نے گھیر لیا اور کارروائی میں حملہ آور مارے گئے۔

سرینا ہوٹل صدارتی محل اور دیگر سرکاری عمارتوں سے ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر واقع ہے۔

یہاں اقوامِ متحدہ کا عملہ بھی قیام پذیر ہے جو آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کی نگرانی کرے گا۔

اسی بارے میں