ایک ’اور قسم کی‘ رنگ گورا کرنے والی کریم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بالی وڈ کے کئی اداکاروں نے رنگت گورا کرنے والی کریموں کے اشتہارات میں حصہ لیا ہے جن میں کرکٹر اور فلمی ستارے شامل ہیں

ایک بھارتی کامیڈین نے انڈیا میں رنگ گورا کرنے کے رجحان پر ایک تنقیدی مزاحیہ فلم بنائی ہے جو مردوں کے رنگ گورا کرنے کے لیے بنائے گئے ایک اشتہار کے طور پر نظر آتی ہے۔

اس کے بنانے والے کا کہنا ہے کہ وہ ’اس رجحان کی بے ہودگی‘ کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں جس میں گورے رنگ کو زیادہ مطلوب ظاہر کیا جاتا ہے۔

اس ویڈیو کو جمعے کے دن یوٹیوب پر جاری کرنے کے بعد دو لاکھ بار دیکھا جا چکا ہے۔

اس ویڈیو میں ایک نوجوان لڑکے کو دکھایا گیا ہے جس کا کردار مزاحیہ اداکار ورن ٹھاکر نے ادا کیا ہے جسے ایک بیوی نہیں ملتی کیونکہ اس کی رنگت کالی ہے۔

تاہم اس نقل شدہ کریم کی وجہ سے اس کی قسمت چمک اٹھتی ہے اور وہ جلد ہی ایک فریفتہ کر دینے والی دلہن حاصل کر لیتا ہے۔

مگر کہانی میں ایک انتہائی مضحکہ خیز موڑ آتا ہے جس میں یہ پتا چلتا ہے کہ یہ کریم مردانہ اعضا کے لیے ہے اور یہ بے شک اتنا مضحکہ خیز یا بے ہودہ لگتا ہو مگر ایسی ہی ایک کریم بھارت میں خواتین کے لیے دستیاب ہے۔

اس ویڈیو کا آئیڈیا ایک سٹینڈ اپ کامیڈی کے نتیجے میں سامنے آیا جو ٹھاکر نے بھارت بھر میں کی تھی۔

ٹھاکر نے بی بی سی ٹرینڈنگ کو بتایا کہ ’میں اس بات پر تبصرہ کرنا چاہتا تھا کہ کیسے بھارت میں رنگ گورا کرنے والی کریموں کا جنون ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے ہاں ایک اندامِ نہانی کو گورا کرنے والی کریم ہے اور ہمارے ہاں خصیوں کے علاوہ جسم کے ہر حصے کو گورا کرنے والی کریم ہے‘۔

اس ویڈیو کے نتیجے میں کئی تبصرے سامنے آئے ہیں کئی نے اس کی تعریف کی ہے جیسا کہ ایک نے لکھا کہ ’یہ گوری رنگت بیچنے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے‘۔ جبکہ ایک اور نے مذاق اڑاتے ہوئے تبصرہ کیا کہ ’بلآخر وہ کریم آگئی جس کا مجھے انتظار تھا۔‘

بالی وڈ کے کئی اداکاروں نے رنگت گورا کرنے والی کریموں کے اشتہارات میں حصہ لیا ہے جیسا کہ گزشتہ سال اداکار شاہ رخ خان نے ایک رنگت گورا کرنے والی کریم کے اشتہار میں کام کیا جس پر بہت تنقید کی گئی اور ایک آن لائن پٹیشن شروع کی گئی جس کا عنوان تھا ’گہری رنگت خوبصورتی ہے‘۔

سمیر پیتل والا جن کا تعلق کلچر مشین سے ہے جس نے یہ مزاحیہ آن لائن ویڈیو بنائی ہے کا کہنا ہے کہ ’یہ بہت سارے انڈین ستارے ہیں جو اس طرح کی مصنوعات کی تشہیر کرتے ہیں جس کے لیے انہیں پیسے ملتے ہیں۔‘

پیتل والا کے بقول یہ اشتہارات بھارتی ثقافت میں موجود ’گہری نسل پرستی‘ کے رجحانات کو ہوا دیتے ہیں۔

2010 میں کیےگئے ایک سروے کے مطابق رنگ گورا کرنے والی کریموں کی منڈی 432 ملین ڈالر کی ہے اور 18 فیصد کے حساب سے ہر سال بڑھ رہی ہے۔

ایک بھارتی ثقافتی مبصر جیری منٹو کا کہنا ہے کہ گورے رنگ والے لوگ زیادہ بہتر ملازمتیں حاصل کر پاتے ہیں انہیں زیادہ توجہ ملتی ہے اور وہ ٹی وی پر آتے ہیں۔ یہ ایک نسل پرستانہ عدم مساوات ہے۔‘