تُرک ڈرامے:پُرتشدد مگر بہت مقبول

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ترک ڈرامے بھیریو کی وادی کے مرکزی کردار فولاد علمدار بچوں اور جوانوں سب کا پسندیدہ کردار ہے جو جرم کے خلاف لڑتا ہے

ایک جاسوس گولی چلاتا ہے اور اپنے مخالف کو موقعے پر ڈھیر کر دیتا ہے اور چند لمحے بعد ایک کلہاڑی پاس کھڑے شخص کے ہاتھ پر گر جاتی ہے اور ہر طرف خون ہی خون نظر آتا ہے۔

یہ افغانستان میں انتہائی مقبول ڈرامے کا ایک سین ہے جس کا نام ہے ’بھیڑیوں کی وادی‘ اور یہ بچوں میں بے حد مقبول ہے۔

ترکی کی ٹی وی سیریز جسے افغانستان میں وادئ گرگاہ کہا جاتا ہے نے افغان ناظرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہوئی ہے جس میں زیرِ زمین دنیا کے منشیات کے گروہوں اور سمگلنگ کے مافیا کے گروہوں کے درمیان لڑائی کا عکاسی کی گئی ہے۔

تاہم افغانستان کے ایک دیہی علاقے میں ہونے والے ایک حادثے کے نتیجے میں بچوں کو اس قسم کے پرتشدد ڈراموں سے دور رکھنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ سال اکتوبر میں غزنی صوبے کے جغوری ضلعے میں دس سالہ علی سینا اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل میں مصروف تھا جس میں وہ اس ’بھیڑیوں کی وادی‘ کے ایک سین کی نقل کر رہے تھے اور ان کا کردار اس شخص کا تھا جسے پھانسی دی جاتی ہے۔

علی کی موت پھانسی کے نتیجے میں دم گھٹنے سے ہوئی جو انہیں ایک درخت کی شاخ سے سکارف کی مدد سے ان کے دوستوں نے ڈرامے کے کردار کی نقل کرتے ہوئے دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فولاد علمدار کا کردار بہت سوں کے لیے امید کی کرن جبکہ بعض ماہرین کی نظر میں تشدد کو ہا دینے کا باعث ہے

علی کے دوستوں نے اس کے چچا عبدالکریم کو بتایا کہ اس نے اپنی جان چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر انہیں لگا کہ وہ کردار کے مطابق اداکاری کر رہا ہے ۔

عبدالکریم کا کہنا ہے ’اس پر یقین کرنا بہت تکلیف دہ تھا۔ ہم خود کش حملوں کا سامنا کرتے ہیں، سڑک کنارے نصب بموں کا سامنا کرتے ہیں اور فضائی حملوں کا نشانہ بنتے ہیں مگر علی کی موت سے بچا جا سکتا تھا۔‘

علی کی موت کے بعد طلوع ٹی وی جس پر یہ ڈرامہ نشر ہوتا تھا نے اپنے ناظرین کو ہر قسط سے پہلے خبردار کرنا شروع کیا ہے کہ یہ ڈرامہ 14 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے موزوں نہیں ہے۔

تاہم کابل کے رہائشی شیر علی کے خاندان کے لیے یہ کوئی معنی نہیں رکھتا جس کے گھر کے بچے سب کے ساتھ یہ ڈرامہ دیکھتے ہیں۔

آٹھ سالہ سبرینہ نے ٹی وی سکرین سے نظریں ہٹائے بغیر مجھے بتایا کہ ’میں یہ ڈرامہ گزشتہ دو سال سے دیکھ رہی ہوں، میں بھیڑیوں کی وادی ڈرامے کو بہت پسند کرتی ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آٹھ سالہ سبرینہ کا پورا خاندان جس میں بچے بھی شامل ہیں اس ڈرامے کو مل کر دیکھتا ہے جس میں تشدد کے کئی مناظر بھی شامل ہوتے ہیں

سبرینہ اور اس کے خاندان کے 14 افراد جس میں کئی بچے شامل ہیں اس ڈرامے کے دوران ٹی وی سکرین سے چمٹے رہتے ہیں۔

ٹی سکرین پر ڈرامے کا کردار فولاد علمدار نظر آتا ہے جو اس ڈرامے کا پرکشش مرکزی کردار ہے او اپنے ملک کو خطرات سے بچانے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔

علمدار بچوں اور جوانوں سب کا پسندیدہ کردار ہے اور سبرینہ کے ایک کزن کا نام اس کے نام پر رکھا گیا ہے۔

سبرینہ کے چچا صابر کہتے ہیں کہ ڈرامہ ہمیں اس ملک میں جاری جنگ سے فرار دلاتا ہے۔

سبرینہ کے ایک اور چچا عابد کا کہنا ہے کہ ’یہ سب نارمل ہے اور میں اپنے بچوں کو نہیں روک سکتا۔ اگر میں انہیں روکوں گا تو وہ اس ڈرامے کو اگلی صبح نشرِ مکرر میں دیکھیں گے جب کوئی بڑا گھر پر نہیں ہوگا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فولاد علمدار کی جنگ سے افغان اپنا تعلق جوڑ سکتے ہیں جن کے معاشرے میں بم دھماکے اور تشدد زندگی کا حصہ بن چکا ہے

ایک اور چچا خالد کہتے ہیں کہ ’یہ ہمارے خاندان کو قریب لاتا ہے اور اگریہ ڈرامہ نہ ہوتا تو ہم سب خاندان والے اس کمرے میں اکٹھے نہیں ہوتے۔‘

دوسری جانب سبرینہ کے والد کا کہنا ہے کہ بم، لڑائی اور قاتلانہ حملے ایسی چیزیں ہیں جن کے درمیان ہم پلے بڑھے ہیں۔

اس ڈرامے اور علی کی افسوسناک موت نے افغانستان میں ایک بحث کا آغاز کیا ہے جس میں بعض ماہرین سمجھتے ہیں کہ قسط سے پہلے خبردار کرنا کافی نہیں ہے اور نہ اس سے بچے اس ڈرامے کو دیکھنے سے رک سکتے ہیں۔

تاہم مسعود سنجر جو طلوع ٹی کے پروڈکشن کے سربراہ ہیں کا کہنا ہے کہ فولاد علمدار کے روپ میں امید کا ایک پیغام دیا جاتا ہے۔

’افغانستان جیسے ملک میں جہاں 30 سال سے جنگ اور تشدد جاری ہے ایک ہیرو جو یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ لوگوں کو ان کے مسائل سے نجات دلائے گا ایک خوش کُن نشان ہے۔ کوئی بھی ہیرو جو ملک کی مدد کرسکے اور تبدیلی لاسکے وہ فوری کامیابی کی ضمانت ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو اجازت نہ دیں۔ آٹھ بجے پرائم ٹائم ہے اور نو بجے تو بچوں کے سو جانے کا وقت ہے۔‘

ترکی کے ڈراموں سے قبل ہندی فلمیں افغانستان میں بے حد مقبول تھیں مگر اب 200 کے قریب ترک ڈرامے افغانستان میں ٹی وی چینلز پر دکھائے جاتے ہیں۔

ترکی اور افغانستان کی ثقافتی قربت ان ڈراموں کی مقبولیت کی بڑی وجہ ہے اور بعض افغانوں کے لیے تو یہ روزی کا ذریعہ ہے۔

کابل کے بازار ترک مصنوعات سے بھرے پڑے ہیں جن میں ٹی شرٹیں، پل اوور، ٹوپیاں، پوسٹر جن پر ان ڈراموں کے کرداروں کی تصویریں ہیں کثیر تعداد میں ملتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جہاں اس ڈرامے کی مقبولیت سے ٹی چینل کماتے ہیں وہیں اس سے بنی مصنوعات کے ساتھ کئی لوگوں کا روزگار وابسطہ ہے

ایک سٹال کے مالک یما کوہستانی کا کہنا ہے کہ ’میں 400 سے 500 ٹی شرٹیں روزانہ بیچتا ہوں اور گذشتہ چھ مہینے میں میں 60 ہزار سے زیادہ ٹی شرٹیں بیچ چکا ہوں۔‘

اس ڈرامے کے کرداروں کے پوسٹر اب حجام کی دکانوں کے علاوہ کاروں اور بسوں کی ونڈ سکرینوں پر نظر آتے ہیں اور اس کی مذید اشتہار بازی صابن، چیونگ گم، حتیٰ کے کاروں تک پر نظر آتی ہے۔

ان ترک ڈراموں نے ملک میں ترک کھانوں، فرنیچر اور دوسری اشیا کی مقبولیت میں بھی اضافہ کیا ہے اور افغانوں کے لیے یہ ڈرامے اپنی سرحد کے پار کی دنیا پر ایک نظر ہے اور ایسے طرز زندگی کے اپنانے کی جانب قدم ہے جو گذشتہ 40 سال سے ان کے لیے موجود نہیں تھا۔

اسی بارے میں