بڑے ڈیم: برہماپتر پر جنگ

تصویر کے کاپی رائٹ SAMEER BAKSHI
Image caption صدیوں سے برہماپتر لوگوں کو خوراک اور پانی دیتا چلا آیا ہے

چین اور بھارت، دونوں کی نظریں بڑے دریا برہماپترا میں پوشیدہ توانائی پر جمی ہوئی ہیں۔ خطے میں ’بڑے ڈیموں‘ کی اس نئی لہر سے لوگوں کو توانائی نصیب ہو گی یا لاکھوں لوگ ایک نئے خطرے سے دوچار ہو جائیں گے؟ بھارتی ریاست آسام سے بی بی سی کی عالمی سروس کے ماحولیات کے نامہ نگار نوین سنگھ کھدکا نے ذیل میں اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

اگر آپ برہماپتر کے کنارے کھڑے ہوں تو آپ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ یہ عظیم دریا شروع کہاں سے ہوتا ہے اور ختم کہاں۔ اس کا آغاز آسام سے بہت دور تبت کی ایک پہاڑی ندی کی شکل میں ہوتا ہے۔ آسام کے سیلابی میدانوں میں جہاں تک آپ کی نظریں جاتی ہیں آپ کو اس دریا کا پانی ہی دکھائی دیتا ہے، اتنی دور تک کہ جہاں افق اور آسمان ملتے ہیں وہاں بھی پانی ہی دکھائی دیتا ہے۔

یہاں سے آگے یہ دریا شمال مشرقی بھارت سے ہوتے ہوئے بنگلہ دیش میں داخل جاتا ہے جہاں یہ دریائے گنگا سے مل کر ایک عظیم تر دریا بن جاتا ہے۔

صدیوں سے برہماپتر زمین کی نشوونما کرتا رہا ہے اور اپنے کنارے آباد لوگوں کو خوراک اور پانی دیتا چلا آیا ہے۔

لیکن آج اس دریا کو چین اور انڈیا کی بڑھتی ہوئی معیشتیں توانائی کے ذریعے کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ دونوں ممالک اس دریا پر بڑے بڑے ڈیم بنانے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔

جہاں تک ریاست آسام کا تعلق ہے تو یہاں منصوبوں پر شکوک کا اظہار بھی ہو رہا ہے اور کچھ لوگ خوف کا شکار ہیں۔ خوف اس بات کا اگر دریا کے آسام تک پہنچنے سے پہلے چین نے اس پر ڈیم بنا لیا تو آسام کے لوگوں کی زندگیوں پر چین کا اثر و رسوخ بڑھ جائے گا۔ آسام میں بہت سے لوگوں کو خوف ہے کہ آیا چین کی نیت ٹھیک بھی ہے یا نہیں۔

سنہ 2004 میں لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے دریا کا پانی چین میں کئی دن کے لیے رک گیا تھا۔ آسام کے لوگوں کو اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ جب دریا کا پانی لینڈ سلائیڈ کی رکارٹ کو چیرتا ہوا آسام پہنچا تو یہ سیلاب کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ لوگوں کو اس کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ آسام کے لوگوں کو شک ہے کہ ایسا دوبارہ ہو سکتا ہے۔

کچھ لوگوں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ چین اپنی خشک زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے باقی جنوبی دریاؤوں کی طرح برہماپتر کا رخ بھی تبدیل کر دے گا۔

لیکن بھارت کی مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ چین نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ تبت میں نئے ڈیم بنانے سے بھارت کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ ادھر چین کا کہنا ہے کہ برہماپتر پر ڈیم بنانے کا مقصد اس علاقے میں آباد لوگوں کی بجلی کی ضروریات پوری کرنا ہے۔

’چین کی وزارت خارجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تمام نئے منصوبوں کا مکمل سائنسی جائزہ لیا جائےگا اور متوقع ڈیموں کے اوپر اور نیچے کے علاقوں پر ان ڈیموں کے اثرات کو ہر صورت مدنظر رکھا جائے گا۔‘

وزارت کا کہنا ہے کہ چین نے جن تین نئے ڈیموں کی منصوبہ بندی کی ہے وہ تینوں چھوٹے ڈیم ہوں گے اور ان سے خوراک اور ماحولیات پر کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

چین کی وزارت خارجہ کا یہ بیان اپنی جگہ، لیکن دونوں ممالک کے درمیان پانی کی شراکت کا کوئی باقاعدہ معاہدہ موجود نہیں ہے۔ اسی وجہ سے مقامی لوگوں کے علاوہ ماہرین اور کچھ دیگر تنظیمیں بھی ان ڈیموں کے بارے میں شکوک کا شکار ہیں۔

اسی بارے میں