دہلی سے لاہور کتنا دُور؟؟؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دہلی سے لاہور تک کے فاصلے کا تنازع اب عدالت میں پہنچ گیا ہے اور ہائی کورٹ کے مشورے پر دلی ٹرانسپورٹ کارپوریش (ڈی ٹی سی) نے ایک ریٹائرڈ جج کی خدمات حاصل کی ہیں

یہ سوال سب کے لیے ہے، چاہے آپ نے لاہور دیکھا ہو یا کبھی دیکھنے کی تمنا رکھتے ہوں۔ دہلی سے لاہور کتنی دور ہے اور اگر سڑک ایک ہی ہو تب بھی کیا آنے اور جانے کی مسافت میں فرق ہوسکتا ہے؟

اگر آپ کے پاس اس پیچیدہ سوال کا جواب نہ بھی ہو تو پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں کیونکہ تنازع اب عدالت میں پہنچ گیا ہے اور ہائی کورٹ کے مشورے پر دلی ٹرانسپورٹ کارپوریش (ڈی ٹی سی) نے ایک ریٹائرڈ جج کی خدمات حاصل کی ہیں! اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

جھگڑا ڈی ٹی سی اور ایک نجی کمپنی کےدرمیان ہے جو ’صدا سرحد‘ کے نام سے دہلی اور لاہور کے درمیان بس سروس چلاتی ہے۔

چونکہ عدالتیں تو سنی سنائی باتوں پر یقین کرتی نہیں ہیں لہٰذا ہوسکتا ہے کہ ریٹائرڈ خاتون جج راستہ ناپنے کے لیے خود لاہور کا سفر کریں یا یہ ذمہ داری کسی معتمد کے سپرد کردیں۔

فی الحال، عدالت کے سامنے چار ممکنہ متبادل ہیں۔ ڈی ٹی سی کے مطابق دلی سے لاہور 491 کلومیٹر دور ہے، پرائیویٹ آپرییٹر کے مطابق 540 کلومیٹر، قومی شاہراہ اتھارٹی کے خیال میں 523 کلومیٹر اور پاکستان ٹورسٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے حساب سے یہ فاصلہ 514 کلومیٹر ہے!

اور اگر مناسب سمجھیں اور جی پی ایس اور گوگل میپس پر بھروسہ کر سکیں اور سفر سے بچنا چاہیں تو دلی میں بی بی سی کے دفتر سے لاہور میں صدا سرحد کا بس سٹیشن 518 کلومیٹر ہے! ڈیڑھ دو کلومیٹر کم کر لیجیے اور جھگڑا ختم کیجیے۔

حیرت اس بات پر ہے کہ بس روز ایک ہی جگہ کیسے پہنچ جاتی ہے! بہرحال، یہ تنازع حل ہو جائے تو بس پھر صرف کشمیر، اور جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش کا مسئلہ باقی رہ جائے گا!

فوجی کبھی نہیں مانتے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جنرل وی کے سنگھ نے اپنی ہی حکومت کے خلاف (عدالتی) جنگ چھیڑ دی تھی

اب جنرل سنگھ کا ذکر آہی گیا تو آپ کو بتاتے چلیں کہ وہ دلی کے قریب غازی آباد سے بی جے پی کے ٹکٹ پر پارلیمنٹ کا الیکشن لڑ رہے ہیں اور اپنے نامزدگی کے فارم میں انہوں نے وہی متنازع تاریخ پیدائش لکھی ہے جسے وزارت دفاع نے ماننے سے انکار کر دیا تھا اور جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی ہی حکومت کے خلاف (عدالتی) جنگ چھیڑ دی تھی۔

لوگ عام طور پر شکایت کرتے ہیں کہ انڈیا میں انصاف بہت دیر سے ملتا ہے لیکن عدالتوں کی مجبوری بھی تو دیکھیے، ان کے پاس 62 سال کے جنرل کی اصل تاریخ پیدائش کا تعین کرنے اور دلی سے لاہور کا راستہ ناپنے کے بعد وقت ہی کہاں بچتا ہوگا؟

مسکرائیے اور گھر جائیے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اڈوانی گاندھی نگر کے بجائے بھوپال سے الیکشن لڑنا چاہتے تھے مگر اجازت نہیں ملی

بی جے پی کے سب سے بزرگ رہنما ایل کے اڈوانی اور پارٹی میں ان کے ساتیھوں او ر مداحوں کے لیے آج کل برا وقت چل رہا ہے۔ اڈوانی گاندھی نگر کے بجائے بھوپال سے الیکشن لڑنا چاہتے تھے مگر اجازت نہیں ملی، سشما سواراج، جو کبھی وزارت عظمی کی امیدوار تھیں، اب پارٹی کے فیصلوں پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتی ہی رہتی ہیں کیونکہ ان کی رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی، اور اب بی جے پی نے سابق وزیر خزانہ جسونت سنگھ کو بارمیر (راجستھان) سے ٹکٹ دینے سے انکار کردیا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ بہت ناراض ہیں۔

لیکن نئے لیڈر نریندر مودی کے معتمد ارون جیٹلی نے ناراض رہنماؤں کومشورہ دیا ہے کہ جب پارٹی کا فیصلہ آپ کے خلاف جائے تو ناراض مت ہوئیے، مسکراکر اس فیصلے کو تسلیم کر لیجیے!

یا یوں کہیے کہ چاچا اب گھر جانےکا وقت آگیا ہے!

اسی بارے میں