’افغانستان میں بچا امریکی اسلحہ پاکستان کے لیے نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption افغانستان کی حکومت نے امریکی اسلحے کے پاکستان کو دیے جانے کی مخالفت کی ہے

امریکی فوج نے کہا ہے کہ افغانستان میں باقی بچ جانے والا امریکی اسلحہ پاکستان کونہیں دیا جائےگا اور اس کے حوالے سے افغان رہنماؤں کے خدشات اور امریکی میڈیا میں خبریں درست نہیں ہیں۔

اخبار واشنگٹن پوسٹ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ شاید امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون افغانستان سے اس سال افواج نکالنے سے پہلے پاکستان کو پانچ ارب ڈالرکا اسلحہ دے گا جس میں بکتربند گاڑیاں بھی شامل ہیں۔

امریکی ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی خبروں کےبعد افغانستان کے صدارتی ترجمان ایمل فیضی نے کہا تھا کہ ان کا ملک پاکستان کو اسلحہ دینے کی مخالفت کرے گا۔

افغان سرکاری خبر رساں ایجنسی باختر کے مطابق افغان ’مشرانو جرگہ‘ یا سینٹ نے بھی اس منصوبے پرشدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کودہشت گردی کے خلاف جنگ کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

سینٹ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’اگر امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے وعدوں میں مخلص ہے تو ایسے ملک کو اسلحہ نہ دے جو دہشت گردی کی حمایت اور افغان، امریکی اور دیگر ملکوں کے شہریوں کے قتل میں ملوث ہے۔‘

افغان صدارتی ترجمان ایمل فیضی نے کہا تھا کہ افغانستان کواس قسم کی اسلحے کی ضرورت ہے اور ایک اتحادی ملک کی حیثیت سے امریکہ کو کسی دوسرے ملک کو اسلحہ دینے سے پہلے افغانستان سے مشورہ کرنا چاہیے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے گذشتہ ہفتے افغان سینٹ کے الزامات پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔

تسنیم اسلم نے کہا تھا کہ ’پاکستان میں گذشتہ تین دہائیوں کے دوران دہشت گردی اور انتہا پسندی کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصانات سرحد کے اس پار جنگ کی وجہ سے ہیں۔‘

افغانستان میں امریکی فوجی کمانڈروں نے ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں موجود سڑک کنارے نصب دھماکہ خیز مواد سے بچاؤ کی امریکی گاڑیاں (ایم آر اے پی) اور کوئی اسلحہ نہیں دیا جا رہا ہے اور نہ ہی دینے کا ارادہ ہے۔ ایساف افواج کے امریکی کمانڈر جنرل جوزف ڈنفورڈ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ افغان سکیورٹی فورسز اور عوام کی حمایت جاری رکھے گا۔

کابل میں حالیہ ہفتوں میں طالبان حملوں میں شدت کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور افغان حکام اکثرحملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہیں جبکہ پاکستان ایسے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتا ہے۔

اسی بارے میں