بی جے پی نے جسونت سنگھ کو پارٹی سے نکال دیا

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption جسونت سنگھ بی جے پی کے سرکردہ رہنماؤں میں شمار کیے جاتے تھے اور واجپئی حکومت میں وہ اہم وزارتوں پر فائز رہے

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپنے سینئر لیڈر جسونت سنگھ کو پارٹی سے چھ سال کے لیے نکال دیا ہے۔

جسونت سنگھ نے گذشتہ دنوں راجستھان کی باڑمیر سیٹ سے آزاد امیدوار کے طور پر کاغداتِ نامزدگی داخل کروائے تھے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سنہ 2009 میں انھیں پاکستان کے بانی محمد علی جناح پر کتاب لکھنے اور ان کی تعریف کرنے کے لیے پارٹی سے نکالا گیا تھا لیکن پھر انھیں جون سنہ 2010 میں پارٹی میں شامل کر لیا گيا تھا۔

بی جے پی کی جانب سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ باڑمیر انتخابی سیٹ کے لیے پارٹی کی جانب سے طے کیے جانے والے امیدوار کے خلاف میدان میں اترنے کے لیے انھیں پارٹی سے نکالا جا رہا ہے۔

جسونت سنگھ کے ساتھ ہی بی جے پی نے ایک دوسرے لیڈر سبھاش مہیريا کو بھی پارٹی سے چھ سال کے لیے نکال دیا۔ سبھاش مہیريا نے بھی راجستھان کی سیکر پارلیمانی سیٹ سے پارٹی کی جانب سے نامزد امیدوار کے خلاف آزاد امیدوار کے طور پر کاغداتِ نامزدگی داخل کروائے تھے۔

پارٹی کے سینئر لیڈر پرکاش جاوڑیکر نے بی بی سی کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ پارٹی کی جانب سے نامزد امیدوار کے خلاف انتخاب لڑنا بے ضابطگی ہے اور اسی وجہ سے پارٹی نے تادیبی کارروائی کرتے ہوئے جسونت سنگھ کو پارٹی سے نکالا ہے۔

ٹکٹ کی تقسیم سے پہلے جسونت سنگھ نے باڑمیر سے انتخاب لڑنے کی خواہش ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اپنی زندگی کا آخری الیکشن اپنے آبائی علاقے سے لڑنا چاہتے ہیں لیکن بی جے پی نے کانگریس پارٹی چھوڑ کر آنے والے رہنما سونارام چودھری کو وہاں سے پارٹی کا امیدوار نامزد کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption ایل کے اڈوانی پارٹی کا فیصلہ مانتے رہے ہیں

پارٹی کے سینیئر لیڈر لال کرشن اڈوانی گاندھی نگر انتخابی سیٹ سے انتخابات لڑنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے لیکن انھیں پارٹی کے فیصلے کے سامنے جھکنا پڑا تھا۔

پارٹی کے اس فیصلے سے جسونت سنگھ ناراض ہو گئے اور باڑمیر سے آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات میں زور آزمائي کا فیصلہ کیا۔

اس سے قبل جسونت سنگھ کی جانب سے کاغذاتِ نامزدگی داخل کیے جانے پر بی جے پی نے کہا تھا کہ وہ نام واپس لینے کی آخری تاریخ تک جسونت سنگھ کا انتظار کرے گی۔ اگر انھوں نے اپنا نام واپس نہیں لیا تو ان کے خلاف کارروائی پر غور کیا جائے گا۔

سنیچر کو نام واپس لینے کا آخری دن تھا اور جسونت سنگھ آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنے کے اپنے فیصلہ پر قائم رہے، اس لیے پارٹی نے سنیچر اور اتوار کی شب انھیں پارٹی سے برطرف کرنے کا فیصلہ سنایا۔

گذشتہ 24 مارچ کو باڑ میر سے کاغذات داخل کرنے کے بعد جسونت سنگھ نے کہا تھا کہ ’مجھ سے پارٹی کے کسی بھی رہنما نے رابطہ نہیں کیا ہے اور میں پارٹی کے رویہ سے ناراض ہوں۔ میں عوام کے حکم پر الیکشن لڑ رہا ہوں۔‘

سیاسی مبصرین اسے وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے اور جسونت سنگھ کے درمیان بالادستی اور شخصیت کی جنگ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ کاغذاتِ نامزدگی داخل کرنے کے بعد جسونت سنگھ نے واضح طور پر یہ کہا تھا کہ پارٹی صدر راج ناتھ سنگھ اور وسندھرا راجے نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ جسونت سنگھ بی جے پی کے سرکردہ رہنماؤں میں شمار کیے جاتے تھے اور واجپئی حکومت میں وہ اہم وزارتوں معاشیات، خارجہ اور دفاع پر فائز رہے۔

اسی بارے میں