انڈین پارٹی برائے عاشقان

تصویر کے کاپی رائٹ

کچھ ہی دنوں میں بھارت کے آٹھ کروڑ چالیس لاکھ رائے دہندگان عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے جا رہے ہیں۔ انڈیا میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی تعداد ایک ہزار چھ سو سے زیادہ ہے جن میں کچھ کے نام ایسے ہیں کہ سننے والا حیران ہو جائے۔

سنہ 2008 کے ویلنٹائن ڈے پر کمار سری سری نے ایک جماعت کے قیام کا اعلان کیا جس کا نام ’انڈین لوًورز پارٹی‘ یعنی ’بھارتی جماعت برائے عاشقان‘ رکھا۔ اس پارٹی کے نارنجی رنگ کے پوسٹر کے مطابق پارٹی کا نصب العین ان پیار کرنے والوں کو ایک دوسرے سے ملانے کے لیے جدوجہد کرنا ہے جن کے والدین انھیں اس وجہ سے نہیں ملنے دیتے کہ لڑکے اور لڑکی کا تعلق مختلف مذہب یا ذات سے ہے۔

مسٹر کمار اس مرتبہ تامل ناڈو میں اپنے امیدوار انتخابی میدان میں اتار رہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ان کے امیداوار چالیس سے پچاس ہزار تک ووٹ ضرور لے لیں گے۔ پارٹی تامل ناڈو میں رجسٹرڈ ہے جبکہ مسٹر کمار ان انتخابات کے بعد اسے مرکزی سطح پر رجسٹر کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے جماعت کا نشان بھی خود ہی تخلیق کیا ہے جس میں انھوں نے ایک تیر کو محبت کی شاہکار علامت یعنی تاج محل کا دل چیرتے ہوئے دکھایا ہے۔

انسانی مذہب کی گھومتی ہوئی سیاسی جماعت

تصویر کے کاپی رائٹ

انڈین الیکشن کمیشن کے ساتھ رجسٹر کرانے کے لیے کسی جماعت کے لیے ضروری ہے کہ آپ پارٹی بنانے والے کا نام، پتہ، ارکان کی تعداد، اس کے مقاصد اور اس کے اندرونی ڈھانچے کی تفصیل مہیا کریں۔ دہلی کے ایک تھِنک ٹیکنک سے منسلک انیل ورما کہتے ہیں کہ جب مذکورہ کوائف مہیا کرنے کے بعد دس ہزار روپے کی فیس جمع کرا دیتے ہیں تو پھر آپ کی پارٹی بن جاتی ہے۔

الیکشن کمیشن کو اختیار ہے کہ مذکورہ شرائط پوری کے علاوہ اگر جماعت کے نام یا منشور میں کسی خاص مذہب یا ذات کا ذکر شامل ہے تو وہ رجسٹریشن کی درخواست مسترد کر سکتا ہے۔

لیکن لگتا ہے کہ ’ریلیجن آف مین ریوالونگ پولیٹیکل پارٹی آف انڈیا‘ ان شرائط سے بچ گئی۔

اس جماعت کے نام میں سبھی کچھ تو ہے ۔۔۔ انسان، مذہب، سیاست، پارٹی، انڈیا۔ لیکن نام میں ایک لفظ کی سمجھ نہیں آ رہی ہے اور وہ ہے ’ریواونگ‘ جس کے اردو معنی ہیں گھومتا ہوا یا گھومتی ہوئی چیز۔

لیکن سومیادِپ چوہدری اپنے بلاگ میں لکھتے ہیں کہ بھارت کے شمال مشرقی علاقوں میں اس قسم کے نام خاصے عام ہیں۔ ’ ہمارے ایک وزیر کا نام ایڈولف ہٹلر تھا۔ آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے ہاں کس قسم کے سیاسی نام رکھے جاتے ہیں۔‘

انڈیا میں کچھ دیگر جماعتوں کے نام بھی خاصے مضحکہ خیز معلوم ہوتے ہیں، مثلاً ’غریب آدمی کی پارٹی‘ اور ’میری آپ کی پارٹی‘ وغیرہ۔

’انڈین سمندری پارٹی‘

سنہ 2010 میں منظر عام پر آنے والی ’انڈین اوشنک پارٹی‘ کا دعویٰ ہے کہ ان کی جماعت میں کئی سمندر پائے جاتے ہیں۔ فلسفے کا ایک سمندر، دیانتدار لوگوں کا ایک سمندر، اور طاقت کا سمندر جس کا نصب العین انڈیا کو ایک طاقتور ملک بنانا ہے۔

پارٹی کے اندر اتنے زیادہ سمندر ہونے کے باوجود اس جماعت نے اپنی انتخابی علامت کے لیے سمندر کا انتخاب نہیں کیا بلکہ ان کی جماعت کی علامت ٹیلیفون سیٹ ہے۔ پارٹی کی ویب سائیٹ کے مطابق اس علامت کا مطلب یہ ہے کہ ان کی جماعت لوگوں کو آپس میں جوڑتی ہے، ان کا آپس میں رابطہ کراتی ہے۔

جاگتے رہو پارٹی

تصویر کے کاپی رائٹ

انڈین الیکشن کمیشن کے ساتھ رجسٹرڈ جماعتوں میں ایک نیا اضافہ ’جاگتے رہو پارٹی‘ کا ہے۔ اس پارٹی کا نام گلی محلوں میں رات کے وقت چوکیدار کے ’جاگتے رہو‘ کے نعرے سے لیا گیا ہے۔

اس جماعت کے بانیوں کا کہنا ہے کہ عام چوکیدار صرف ایک محلے کی چوکیداری کرتا ہے، جبکہ اس پارٹی کے ارکان کا نصب العین پورے بھارت کی چوکیداری کرنا ہے۔ پارٹی کا خیال ہے کہ ان کی جماعت بھارت کو بدعنوانی سے بچانے کے لیے پہرہ دے گی اور ملک کی چوکیداری کرے گی۔

سیاسی جماعتوں کے ضوابط کے مطابق اگر کوئی جماعت مسلسل چھ برس تک انتخابات میں حصہ نہیں لیتی تو وہ رجسٹرڈ جماعتوں کی فہرست سے نکال دی جاتی ہے، لیکن عموماً الیکشن کمیشن کے اہلکار اس کی زیادہ پرواہ نہیں کرتے۔ ایک تجزیہ کار کے مطابق عموماً لوگ اپنی ذاتی شان و شوکت اور علاقے میں طاقت کے لیے پارٹیاں بناتے ہیں، اور اس کے علاوہ سیاسی جماعت بنانے کا مقصد ٹیکس بچانا بھی ہوتا ہے۔

اسی بارے میں