’اب ایرانی آئیں یا پاکستانی۔۔۔‘

Image caption عام آدمی پارٹی اور کانگریس میں ملی بھگت ہے یہ سب جانتے ہیں: سمراتی ایرانی

بھارت میں عام آدمی پارٹی کے لیڈر اور شاعر کمار وشواس نے کہا ہے کہ ’اب ایرانی آئیں یا پاکستانی، امیٹھی لوک سبھا حلقے کے عوام اپنا فیصلہ کر چکے ہیں۔‘

انڈیا کے پارلیمانی انتخاب میں کمار وشواس امیٹھی سے کانگریس پارٹی کے لیڈر راہل گاندھی کے خلاف الیکشن لڑ رہے ہیں اور بی جے پی کی جانب سے انتخابی جنگ میں سابق اداکارہ سمرتی ایرانی کو اتارے جانے پر اپنا ردِعمل ظاہر کر رہے تھے۔

سمرتی ایرانی بی جے پی کی نائب صدر ہیں اور حال ہی میں راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئی ہیں۔ امیٹھی سے راہل گاندھی لگاتار تین مرتبہ لوک سبھا کا الیکشن جیت چکے ہیں۔

کمار وشواس پہلے بھی کئی مرتبہ اپنے بیانات کی وجہ سے تنازعات میں گھر چکے ہیں۔ جب سے وہ انتخابی میدان میں اترے ہیں ان پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ ماضی میں بھی خواتین کے لیے غیر معیاری زبان کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ لیکن کمار وشواس اس الزام کو مسترد کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مزاحیہ شاعر بھی ہیں اور ان کی شاعری کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

جواب میں سمرتی ایرانی نے کہا کہ عام آدمی پارٹی اور کانگریس میں ملی بھگت ہے اور یہ بات یہ سب جانتے ہیں، اسی لیے انھوں نے دہلی میں کانگریس کی حمایت سے حکومت بنائی تھی۔ انھوں نے کہا ہے کہ جہاں تک کمار وشواس کا سوال ہے وہ پہلے بھی کئی مرتبہ عورتوں کے لیے توہیں آمیز زبان کا استعمال کر چکے ہیں۔ میں صرف اتنا کہوں گی کہ مقابلہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ہے، بی جے پی اور کانگریس کی بی ٹیم کے درمیان نہیں۔

اتر پردیش میں کانگریس کی سربراہ ریتا بہوگنا جوشی نے کہا کہ دونوں جماعتوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کے پاس سیاسی بیک گراؤنڈ کے رہنما نہیں ہیں۔

انتخابی مہم جیسے جیسے تیز ہو رہی ہے، سیاسی بحث کا معیار بھی گرتا جا رہا ہے۔

کانگریس کو اس الیکشن میں بی جے پی سے سخت چیلنج کا سامنا ہے۔ اگرچہ امیٹھی کانگریس کا مضبوط گڑھ مانا جاتا ہے لیکن دو برس پہلے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں وہاں سے سماج وادی پارٹی نے پانچ میں سے تین انتخابی حلقوں میں کامیابی حاصل کی تھی۔

اس لیے راہول گاندھی کے لیے امیٹھی میں یہ پہلی سخت آزمائش ہوگی۔

اسی بارے میں