افغان صدراتی انتخابات: امیدوار کون ہیں؟

افغانستان میں صدراتی انتخابات پانچ اپریل کو ہو رہے ہیں۔ انتخابات کے لیے 11امیدوار نے کاعذات نامزدگی جمع کرائے مگر دو امیدواروں نے صدارتی امیدوار زلمے رسول کی حمایت کر دی اور ایک گھر چلے گئے۔ اب آٹھ امیدوار انتخابات میں مدِمقابل ہیں جن کا تعارف مندرجہ ذیل ہے۔

عبد اللہ عبد اللہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عبداللہ عبداللہ 1959 میں کابل کے ایک پشتون خاندان میں پیدا ہوئے تھے

افغان صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ سال 2009 کے انتخابات میں صدر کرزائی کے خلاف ایک اہم امیدوار تھے۔ وہ ’تبدیلی اور امید‘ نامی جماعت کے ساتھ انتخابات میں اترے۔ انتخابات میں واضح برتری حاصل نہ ہونے کے باعث الیکشن کمیشن نے حامد کرزئی اور عبداللہ عبدللہ کو دوسرے مرحلے کے صدارتی انتحابات کے لیے اہل قرار دیا تھا۔

تاہم عبدللہ عبداللہ نے دوسرے مرحلے میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ انتحابات کا پہلا مرحلہ شفاف نہیں تھا جس کے نتجے میں افغان الیکشن کمیشن نے حامد کرزئی کو فاتح قراد دیا اور وہ صدر کے عہدے پر فائز ہو گئے۔

گذشتہ صدارتی انتخابات میں عبداللہ عبدللہ کا اہم نعرہ تھا کہ وہ ملک میں صدارتی نظام ختم کر کے پارلیمانی نظام رائج کریں گے۔ ان کے خیال میں ملک میں پھیلی بدعنوانی کی اصل وجہ صدارتی نظام ہے۔ عبداللہ عبداللہ نے آئین میں تبدیلی لانے کی بات بھی کی۔

گذشتہ انتخابات کے بعد عبدللہ عبداللہ کی جماعت کے ساتھ دیگر اہم سیاسی رہنما شامل ہو گئے جس کے بعد جماعت کا نام ’ملی اتحاد‘ میں تبدیل ہو گیا۔ ’ملی اتحاد‘ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن گئی مگر پھر ’جبیہ ملی‘ کے نام پر جمعیت اسلامی ، وحدت اسلامی مردم اور جنبش ملی اسلامی نامی سیاسی جماعتیں ایک ہی چھتری تلے آگئیں۔ اس طرح ’جبیہ ملی‘ ایک بڑی سیاسی جماعت بن گئی۔

پانچ اپریل 2014 میں ہونے والے افغان صدارتی انتحابات میں عبداللہ عبداللہ کے نائب صدر اوئل محمد خان ہیں جبکہ محمد محقق نائب صدر دوئم ہیں۔

عبداللہ عبداللہ 1959 میں کابل کے ایک پشتون خاندان میں پیدا ہوئے تھے مگر ان کی والدہ تاجک تھیں۔ محمد ظاہر شاہ کے دور میں ان کے والد غلام محی الدین خان زمریانی صوبہ قندھار کے سینیٹر تھے۔

صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ نے کابل میڈیکل یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی جس کے بعد انھوں نے کابل میں آنکھوں کے ایک ہسپتال میں دو سال ملازمت کی۔ 1984 میں وہ پاکستان منتقل ہو گئے تھے جہاں انھوں نے صحت کے شبعے میں کام کیا۔ اس کے بعد بہت جلد ہی انھوں نے واپس آ کر پنج شیر صوبے کے مقبول رہنما احمد شاہ مسعود سے ہاتھ ملا لیا۔ انھوں نے بہت جلد ہی احمد شاہ مسعود کا اعتماد حاصل کر لیا۔

احمد شاہ مسعود جب وزیر دفاع تھے اس دور میں عبداللہ عبداللہ وزرات دفاع کے ترجمان کے ساتھ ساتھ ورزات دفاع کے اعلیٰ منتظم تھے۔

برہان الدین ربانی کے دور میں عبداللہ عبداللہ وزرات خارجہ کے نائب وزیر تھے۔ انھوں نے اس دوران افغانستان کی خارجہ پالسی میں اہم کردار ادا کیا۔ پروفیسر ربانی کے پاس ملک کے 10 فیصد سے زیادہ کا کنٹرول نہیں تھا لیکن ان کے بیرونی ممالک اور اقوام متحدہ کے ساتھ تعلقات گہرے تھے۔

احمد شاہ مسعود کی ہلاکت کے بعد عبداللہ عبداللہ سیاسی جماعت ’جبیہ متحدہ‘ کے ترجمان رہے۔ وہ غیر ملکی میڈیا پر چھائے رہے۔ جرمنی میں بون کانفرنس کے بعد انھیں وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز کر دیا گیا۔ وہ اس عہدے پر عبوری حکومت کے دوران بھی فائز رہے۔ تاہم سال 2006 کے بعد عبداللہ عبدللہ صدر کرزئی کی کابینہ کا حصہ نہیں بن سکے اور اس کے بعد وہ کسی حکومتی عہدے پر فائز نہیں رہے۔

2014 کے صدارتی انتخابات میں ابتدائی طور پر عبداللہ عبدللہ کے ساتھ 13 سیاسی جماعتیں تھیں مگر وہ اتحاد اب ٹوٹ چکا ہے۔ اب عبداللہ عبداللہ کو حزب اسلامی، حزب وحدت اسلامی مردم، حزب جمعیت اسلامی اور چند دیگر اہم سیاسی جماعتیں کو حمایت حاصل ہے۔

اشرف غنی احمد زئی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اشرف غنی احمد زئی سال 2002 سے 2004 تک وزیر خزانہ بھی رہ چکے ہیں

60 سالہ پشتون اشرف غنی کابل کے جنوب میں واقع صوبہ لوگر میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے امریکن یونیورسٹی آف بیروٹ اور کولمبیا یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ انھوں نے بشریات میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔

ان کے پہلے نائب صدر عبدالرشید دوستم اور دوسرے نائب صدر سرور دانش ہیں۔

انھوں نے کئی برس ورلڈ بینک میں کام کیا جبکہ وہ دیگر بین الاقوامی اداروں میں افعان تجزیہ کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ وہ جان ہاپکنز یونیورسٹی امریکہ میں پروفیسر رہ چکے ہیں۔

2001 میں وہ اقوام متحدہ کے افغان امور کے خصوصی اہلکار اخضر ابراہیمی کے مشیر تھے جس کے چند ماہ بعد وہ حامد کرزئی کی حکومت میں سینئیر مشیر کے طور پر شامل ہو گئے۔

جون 2002 میں وہ وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز ہوئے جہاں وہ دستمبر2004 تک فرائض سرانجام دیتے رہے۔

حکومت سے علحیدگی کے بعد وہ صدر کرزئی کے مخالف کے طور پر ابھرے۔ وہ کہتے آئے ہیں کہ کرزئی حکومت کی سب سے بڑی ناکامی کی وجہ سرکاری اہلکاروں میں بدعنوانی ہے۔

2004 کے صدارتی انتخابات کے بعد سے اشرف غنی پارلیمان میں اپنی جگہ بنانے میں ناکام رہے مگر انھیں کابل یونیورسٹی کا سربراہ بنا دیا گیا۔ دو برس بعد انھوں نے اپنا استعفیٰ دے دیا اور وہ کرزئی حکومت کے مخالف بن کر سامنے آئے۔

انھیں2006 میں اقوام متحدہ کے سربراہ کے لیے نامزد کیا گیا تھا تاہم بان کی مون نے انھیں شکست دے دی۔ 2009 کے صدارتی انتخابات میں وہ صدارتی امیدوار تھے مگر جیت نہ پائے۔ حامد کرزئی نے صدارت کے اپنے دوسرے دور میں انھیں بین الاقوامی افواج سے کنٹرول افغان افواج کو دینے کا کام سونپا۔

زلمے رسول

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زلمے رسول طالبان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد حامد کرزئی کے ہمراہ کابل آنے والے افراد میں سے ایک تھے

زلمے رسول سال 2010 سے لے کر2013 تک وزیر خارجہ رہے چکے ہیں۔ ان کی عمر 70 سال ہے۔

وہ 1943 میں کابل میں پیدا ہوئے تھے۔ نسلی اعتبار سے وہ پشتون ہیں اور ان کا تعلق محمد زئی قبیلے سے ہے۔

ان کے پہلے نائب صدر احمد ضیا مسعود ہیں جبکہ حیبیہ سرابی دوسرے نائب صدر ہیں۔ موجودہ صدر حامد کرزئی نے ان کو وزیر خارجہ نامزد کیا تھا۔ وہ حامد کرزئی کے قریبی سمجھے جاتے ہیں اور حامد کرزئی کے ساتھ ان کے کئی اہم بیرونی دوروں کا حصہ رہے ہیں۔

زلمے رسول سات زبانیں بول سکتے ہیں جن میں دری، فارسی، پشتو، فرانسیسی، انگریزی، اطالوی اور عربی شامل ہیں۔ وہ 2001 میں ہونے والے بون معاہدے کے اہم رکن تھے۔

زلمے رسول طالبان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد حامد کرزئی کے ہمراہ کابل آنے والے افراد میں سے ایک تھے۔ 2002 کے بعد حامد کرزئی نے زلمے رسول کو کچھ عرصے کے لیے وزرات ہوا بازی کا وزیر مقرر کیا۔ اس کے بعد وہ 2010 تک صدر کے سکیورٹی مشیر بھی رہے۔2010 میں انھیں وزیر خارجہ نامزد کیا گیا جس کے بعد اکثریت ووٹ کے ذریعے وہ اس عہدے پر فائز ہو گئے۔

محمد داؤد سلطان زوی

تصویر کے کاپی رائٹ Tolonews
Image caption مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ پر تجزیہ کار کے طور جانے جاتے ہیں

محمد داؤد سلطان زوی صوبہ غزنی میں 1953 میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک پشتون ہیں۔محمد داود جرمنی میں کئی سال مقیم رہے۔

وہ گذشتہ پارلیمانی انتحابات میں غزنی سے منتخب ہوئے تھے جبکہ دوسرے مرحلے کے پارلیمانی انتخابات میں شکست کے بعد انھوں نے نجی ٹی وی طلوع میں’داود سلطان زوی‘ کے نام سے ایک پروگرام شروع کر دیا تھا۔

وہ گذشتہ کچھ عرصے سے مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ پر تجزیہ کار کے طور جانے جاتے ہیں۔ وہ سرکاری افغان ائیر لائن میں پائلٹ بھی رہے چکے ہیں۔

قطب الدین حلال

Image caption ہ پیشے کے لحاظ سے ماہرِ تعمیرات ہیں اور وزرات دفاع کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں

قطب الدین حلال حزب اسلامی جماعت کے سرگرم رہنما رہے چکے ہیں۔

یاد رہے کہ حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار ہیں۔ 1993 میں حکمت یار اول نائب صدر تھے جبکہ حلال ان کے نائب تھے۔ قطب الدین حلال جماعت کے خارجہ امور دیکھتے رہے ہیں۔

قطب الدین حلال کو حکمت یار کے ساتھ کام کرنے پر پاکستان کے شہر پشاور سے گرفتار بھی کیا گیا۔

وہ 1952 میں صوبہ خوست میں پیدا ہوئے۔

کابل واپسی پر انھوں نے اعلان کیا تھا کہ ان کا جماعت حزب اسلامی سے کوئی تعلق نہیں ہے تاہم مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی حزب اسلامی کے سرگرم رہنما ہیں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ماہرِ تعمیرات ہیں اور وہ وزارتِ دفاع کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔ صدارتی انتخابات کے لیے ان کے نائب صدر اول عنایت اللہ عنایت ہیں جبکہ نائب صدر دوئم محمد علی نبی زادہ ہیں۔

گل آغا شیر زئی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گل آغا سیاست دان کے علاوہ کاروبای شخصیت بھی ہیں

شیرزئی 2001-2003 تک صوبہ قندھار کے گورنر تھے۔ وہ کچھ عرصے کے لیے فوائد عامہ کے وزیر بھی رہے چکے ہیں۔2004 میں ننگرہار صوبے کے گورنر منتخب ہوئے۔ صوبے کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری لانے کی وجہ سے لوگ انہیں ’بولڈوزر‘ کہتے تھے۔

گل آغا صوبہ قندھار میں 1954 میں پیدا ہوئے۔انھوں نے تعلیم قندھار سے ہی حاصل کی جس کے بعد انھوں نے ڈاکٹر نجیب کے خلاف جہادی مہم میں حصہ لیا۔ وہ سیاسی جماعت حزب محاذ ملی کا حصہ ہیں۔ سیاست دان کے علاوہ وہ کاروبای شخصیت بھی ہیں۔

انتخابات میں ان کے نائب صدر اول سیعد حسین عالمی بلخی ہیں جبکہ ان کے نائب صدر دوئم محمد ہاشم زارع ہیں۔

عبدالرب رسول سیاف

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد مخلتف حکومتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں

عبدالرب رسول سیاف ماضی کے جہادی کمانڈر ہیں۔ 2009 کے صدارتی انتخابات میں انھوں نے حامد کززئی کی حمایت کی تھی جس کے نتجیے میں انھوں نے کرزئی مخالف جماعت’جبیہ ملی‘ میں شمولیت اختیار نہیں کی۔

اس مرتبہ کے صدارتی انتخابات میں وہ خود امیدوار کے طور پر کھڑے ہو رہے ہیں۔ ان کے نائب صدر اول کلیک اسماعیل خان ہیں جبکہ نائب صدر دوئم عندالوھاب عرفان ہیں۔

1979 میں پلِ چرخی جیل سے رہائی کے بعد وہ پاکستان روانہ ہوگئے۔ وہاں انھوں نے مجاہدین کے ساتھ کام شروع کر دیا۔ انھوں نے بعض مذہبی سیاسی جماعتوں کے ساتھ کام کرنے کے بعد اپنی سیاسی جماعت تشکیل دی جس کا نام ’اتحاد اسلامی افغانستان‘ ہے۔

وہ سعوی عرب میں اسلامک سڈیز کے طالب علم رہے جس کی وجہ سے انھیں مسلم ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ ڈاکٹر نجیب کی حکومت گرنے کے بعد انھوں نے مخلتف سیاسی جماعتوں کے ساتھ کام کیا۔ طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ مخلتف حکومتی عہدوں پر فائز رہے۔

ہدایت امین ارسلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طالبان کی حکومت کے بعد حامد کرزئی کی صدارت میں وزیر تجارت رہے

68 سالہ ہدایت امین ایک پشتون ہیں۔ گذشتہ انتخابات میں بھی وہ حامد کرزئی کے مدِمقابل تھے۔ مگر تین ہزاز سے بھی کم ووٹ حاصل کر کے وہ 30ویں نمبر پر رہے۔

ان انتخابات میں ان کے نائب صدر اول جنرل خداداد ہیں جبکہ صفیہ صدیقی ان کی نائب صدر دوئم ہیں۔

ہدایت امین نے ابتدائی تعلیم کابل میں حاصل کی جس کے بعد وہ سدرن النوے یونیورسٹی امریکہ چلے گئے۔ انھوں نے جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے اکنامکس میں پی ایج ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1969 میں وہ پہلے افغان تھے جو عالمی بینک کا حصہ بنے۔ 1987 میں استعفی دے کر وہ جہادی مہم میں شامل ہو گئے۔

1993 میں وہ وزیر حارجہ نامزد ہوئے لیکن وہ وزیر خارجہ نہیں بن سکے۔ طالبان کی حکومت کے بعد وہ حامد کرزئی کی صدارت میں وزیر تجارت رہے۔ جس کے بعد وہ کبھی بھی صدر کرزئی کی حکومت کا حصہ نہیں رہے تاہم انھیں سینیئر وزیر کے لیے نامزد کیا گیا لیکن یہ عہدہ افغان پارلیمان میں نہیں ہے اس لیے پارلیمان نے اسے رد کر دیا۔ تاہم افغان پارلیمان کے مسترد کرنے کے باوجود وہ سینیئر وزیر کے طور پر کام کرتے رہے۔

اسی بارے میں