کیجریوال کی طاقت اور کمزوری

Image caption کیجری وال کا دعویٰ ہے کہ انھیں پارلیمانی انتخابات میں 100 سے زیادہ سیٹیں مل جائیں گی

عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کیجریوال کے ساتھ چند گھنٹے ان کے روڈ شو میں گزاریں تو آپ کو ان کی طاقت اور کمزوری دونوں کا اندازہ ہوتا ہے۔

دہلی میں بظاہر ان کی مقبولیت کم ہوئی ہے، اب اتنی بھیڑ ان کے ساتھ نظر نہیں آتی جتنی دسمبر میں اس وقت تھی جب انھوں نے دہلی کے اسمبلی انتخابات میں 28 سیٹیں جیت کر بڑے بڑے سیاسی پنڈتوں کو خاموش کر دیا تھا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے پڑھے لکھے لوگ ان کے کام کاج کے غیر روایتی طریقوں سے اتفاق نہیں کرتے۔ وہ وزیر اعلیٰ بھی رہیں اور دھرنے پر بھی بیٹھیں، یہ بات بہت سے لوگوں کو ہضم نہیں ہوئی۔ وہ مانتے ہیں کہ دہلی میں حکومت سنبھالنے کے بعد بھی عام آدمی پارٹی حزب اختلاف کی طرح کام کر رہی تھی۔

لیکن عام تاثر یہ ہے کہ مقبولیت متوسط طبقے میں ہی کم ہوئی ہے، غریبوں میں نہیں جو اب بھی مضبوطی کے ساتھ ان کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ میں نے پیدل چار گھنٹے ان کے ایک روڈ شو میں گزارے، جگہ جگہ ان کا گلاب کی پتیوں سے استقبال کیا گیا، پردہ نشیں خواتین اپنے تنگ فلیٹوں کی بالکونی سے گل پاشی کرتی نظر آئیں۔ انھیں دیکھ کر ہی لگتا ہے کہ اروند کیجریوال میں انہیں امید کی کرن اور تبدیلی کی امید نظر آتی ہے۔

بیکری میں کام کرنے والے، رکشا چلانےوالے، کباڑ کا کاروبار کرنے والے، پان بیڑی سگریٹ بیچنے والے، آپ کسی سے بھی بات کریں، ان کے انداز اور الفاظ مختلف ہو سکتے ہیں لیکن شکایت نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کیجریوال کے جلسوں میں اب بھی کثیر تعداد میں لوگ نظر آتے ہیں

وہ مہنگائی سے پریشان ہیں، بدعنوانی کاخاتمہ چاہتے ہیں، کانگریس اور بی جے پی دونوں کو’چور‘ مانتے ہیں اور انھیں لگتا ہے کہ یہ سب کچھ اروند کیجریوال بدل سکتے ہیں: ’کانگریس اور بی جے پی کو بہت چانس دے دیا، اب کیجریوال کو آزمائیں گے۔‘

خود کیجریوال جگہ جگہ اپنی مختصر تقریروں میں انھیں یاد دلاتے رہتے ہیں کہ عام آدمی پارٹی کی غیر معمولی کامیابی کے پیچھے کوئی آسمانی طاقت کارفرما ہے ورنہ وہ تو بہت چھوٹے اور معمولی آدمی ہیں۔

مداح ان کے خلاف کچھ سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ وہ ووٹرز ہیں جو امیدوار کی شکل دیکھے بغیر پارٹی کو ووٹ دیں گے۔ یہ مسٹر کیجریوال کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

لیکن روڈ شو میں اروند کیجریوال کے ساتھ مشرقی دہلی سے پارٹی کے امیدوار اور مہاتما گاندھی کے پوتے راج موہن گاندھی بھی جیپ میں کھڑے تھے۔ چار گھنٹے میں انھوں نے صرف اس وقت ہاتھ جوڑ کر لوگوں کا شکریہ ادا کیا جب اروند کیجریوال نے ان کا تعارف کرایا۔ اور یہ تصویر ہی پارٹی کی سب سے بڑی کمزوری کی عکاس ہے۔

عام آدمی پارٹی صرف ایک لیڈر کی پارٹی ہے اور لوگ صرف کیجریوال کوسننا اور دیکھنا چاہتے ہیں۔ شاید اسی لیے بہت سے تجزیہ نگار اور’عام لوگ‘ بھی مانتے ہیں کہ ایک سال پرانی پارٹی پورے ملک میں انتخابات نہیں لڑ سکتی اور ’ کیجریوال نے تقریباً 400 امیدوار میدان میں اتار کر غلطی کی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کیجری وال نے گذشتہ دسمبر میں ناقابل یقین فتح حاصل کی تھی

’اور اس غلطی کا خمیازہ انھیں دہلی میں بھی بھگتنا پڑسکتا ہے کیونکہ نہ اتنے وسائل ہیں اور نہ اتنے ورکر کہ سب جگہ مضبوطی سے الیکشن لڑا جاسکے۔۔۔ انھیں صرف تیس چالیس سیٹیوں کا انتخاب کرنا چاہیے تھا۔‘

اروند کیجریوال کا دعویٰ ہے کہ پارٹی سو سے زیادہ سیٹیں جیتے گی لیکن انتخابی مہم میں ایسے دعوے سبھی پارٹیاں کرتی ہیں۔

عام آدمی پارٹی ابھی ارتقا کے عمل سے گزر رہی ہے۔اگرچہ اس کے حیرت انگیز سفر نے ملک کا سیاسی منظرنامہ بدل دیا ہے لیکن منزل ابھی دور ہے۔

وفاقی سطح پر انڈیا کی سیاست بہت پیچیدہ ہے، پرانی پارٹیاں ایک الیکشن میں کمزور پڑ سکتی ہیں، لیکن ختم نہیں ہوتیں اور ماضی میں ہم نے اس کی کئی مثالیں دیکھی ہیں۔ 1977 میں ایمرجنسی کے بعد جب پہلا الیکشن ہوا تھا تو اندرا گاندھی اور کانگریس پارٹی دونوں کا سیاسی سفر ختم مانا جارہا تھا لیکن صرف تین سال بعد انھوں نے شاندار انداز میں دوبارہ اقتدار حاصل کر لیا تھا۔

اروند کیجریوال کا یہ سفر انھیں کہاں تک پہنچاتا ہے، یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن فی الحال انھوں نے اپنے غیر روایتی انداز سے انتخابی دوڑ کو زیادہ دلچسپ ضرور بنا دیا ہے۔

اسی بارے میں