کابل ڈائری

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایک دن قبل وزارت داخلہ میں خودکش حملہ آور نے داخل ہونے کی ناکام کوشش میں چھ پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا

افغانستان کے صدارتی انتخابات میں کم وقت رہ گیا ہے لیکن دارالحکومت کابل جیسے کہ مراقبے میں چلا گیا ہے۔ کئی ماہ کی دھواں دار انتخابی مہم کے گزرنے کے بعد شہر ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کہ گہری سوچ میں ہو۔

اس سوچ میں کہ کیا پُرامن انتخابات ممکن ہوں گے اور اگر ہوں گے تو کیا اس کے نتیجے میں جو بھی منتخب ہو وہ اس ملک کو پائیدار امن کی جانب لے جا سکے گا یا نہیں۔

اگرچہ سہہ پہر کافی تاخیر سے کابل پہنچا لیکن سارے شہر کو سکیورٹی اداروں کی مضبوط گرفت میں پایا۔ لوگ کم اور سکیورٹی زیادہ دکھائی دے رہی تھی۔ اس کی وجہ پہلے سے بند تعلیمی ادارے اور ہفتہ وار عام تعطیل بھی ہے۔

خواجہ رواش ائرپورٹ سے لے کر راستے میں جگہ جگہ افغان پولیس اور فوج کے چاک و چوبند سپاہی آنے جانے والوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آج کا دن خاموشی سے گزر گیا یہی یہاں کے لوگوں کے لیے اہم ہے۔ وہ کہتے ہیں کل کی کل دیکھیں گے۔ لیکن ایک دن قبل وزارت داخلہ میں خودکش حملہ آور نے داخل ہونے کی ناکام کوشش میں چھ پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا۔ اس واقعے نے ہر ایک کو ’ریڈ الرٹ‘ کی سطح پر لے آیا ہے۔ شہر ایسا لگتا ہے کہ جیسے سکیورٹی لاک ڈاون سے گزر رہا ہے۔

ٹیکسی ڈرائیور نے بتایا کہ لوگ احتیاط کر رہے ہیں اور غیرضروری طور پر گھروں سے باہر نہیں نکل رہے۔ تاہم اس کا کہنا تھا کہ ووٹ ڈالنے لوگ ضرور نکلیں گے۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ ووٹ ہی ان کا ہتھیار ہے انتہا پسندی کے خلاف۔

ایک سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ شہر سے تقریباً آدھی تعداد میں غیر ملکی واپس جاچکے ہیں جو باقی بچے ہیں انھوں نے محفوظ مقامات تک اپنے آپ کو محددود کر دیا ہے۔

اس کا کہنا تھا کہ گزشتہ اختتام ہفتہ ایک غیر ملکی شہر کے اس ریستوران گیا جہاں ان اوقات میں جانے سے پہلے میز بک کرانی پڑتی تھی لیکن اس روز وہ وہاں اکیلا تھا۔

مرکزی سڑکوں کے اطراف اور عمارتوں پر صدارتی امیدواروں کے بڑے پوسٹر لگے ہیں لیکن انتہائی نفاست کے ساتھ پاکستانی انداز میں نہیں کہ جہاں چسپاں کرنے کی جگہ ملی لگا دیا۔ خواتین امیدواروں کے پوسٹر بھی حالات میں تبدیلی کا اشارہ دیتے ہیں۔

ائیرپورٹ سے جب ہوٹل پہنچے تو ایسی تلاشی ہوئی کہ شاید ماضی میں کہیں اتنی تفصیل سے ہوئی ہو۔ طبیعت صاف ہوگئی۔ ایک ایک کر کے ایک بند کمرے میں ایک ایک چیز کھول کر دکھانی پڑی یہاں تک کہ کیمرے بھی آن کر کے دکھائے۔ تاہم محافظ کافی خوش اخلاق تھا کہنے لگا آپ کے لیے ہی کر رہے ہیں یہ سب کچھ۔

پی آئی اے نے جو کیا وہ بھی سن لیں گرم گرم چاول دیئے لیکن کھانے کے لیے پورے جہاز میں نہ چمچ تھے نہ فورک۔ لہذا ایرہوسٹس نے باقی مسافروں کو محض سنیکس پر ٹرخا دیا۔ ہینڈ بیگ کے لیے ٹیگ بھی ’حج جدہ‘ والا دیا۔ آخر اتنے چھاپے کیوں؟

اسی بارے میں