کابل ڈائری

Image caption اطلاعات کے مطابق اس مرتبہ انتخابات میں طالبان حملے کم ہوئے ہیں لیکن خوف زیادہ ہے

افغانستان صحافیوں کے لیے بھی اتنا ہی ظالم ثابت ہوا ہے کہ جتنا پاکستان۔ میری ماضی کی باس کیتھی گینن کے زخمی ہونے کی اطلاع یہیں کابل میں گھومتے پھرتے ملی۔ ٹوئٹر سے معلوم ہوا کہ ان کی ایک ساتھی اس حملے میں ہلاک جبکہ وہ خود شدید زخمی ہوئی ہیں۔ افسوس بھی ہوا کہ اس عورت ذات کا خوست جیسے خطرناک علاقے میں کیا کام؟ لیکن پھر یہی بات میرے جیسے صحافیوں کے بارے میں بھی کی جا سکتی ہے۔

غیرملکی صحافی خواتین پر حملہ: ایک ہلاک، دوسری زخمی

لیکن جیسا کہ اسے پایا وہ عورت ہے ہی نڈر اور بےباک۔ کام کا تو جیسے اسے جنون ہے اور شدت پسندی اور طالبان اس کا محبوب موضوع رہا ہے۔ کابل شہر کے مرکز سے کارتے پروان کے علاقے تک کے چند کلومیٹر کے سفر میں مرکزی شاہراہ پر جگہ جگہ پولیس ناکے ملے۔ تقریباً ہر چوکی پر گاڑی کھڑا کرنے کا اشارہ ملا۔ دو تین جگہ کاغذات چیک کروائے، صحافی ہونے کی سند دکھائی تب جانے دیا گیا۔

جو دوست اپنی گاڑی میں گھما رہا تھا اس سے مذاق میں کہا کہ یا تو آپ کی گاڑی میں کوئی مسئلہ ہے یا پھر ہماری شکلوں میں۔ شہر آج بھی بند ہے اور سڑکیں خالی۔

سنا ہے کہ ان دو خواتین صحافیوں پر حملہ پولیس کی وردی میں کسی شخص نے کیا ہے۔ خود اِن لاتعداد چوکیوں سے گزرنے سے معلوم ہوا کہ اگر کابل میں یہ حال ہے تو باقی ملک میں سکیورٹی ادارے کتنے الرٹ اور سنجیدہ ہوں گے۔ یہ ملک اس وقت کس قدر تناؤ کا شکار ہے۔ مذاق کے موڈ میں کوئی نہیں۔ دو لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کے کندھوں پر اس ملک کو آگے لے کر چلنے کی بھاری ذمہ داری ہے۔

لیکن آج کابل کی سیر کے دوران اسی دوست نے چند روز قبل پیش آنے والا ایک دلچسپ قصہ سنایا۔ اس کے پاس دو غیرقانونی کلاشنکوفیں تھیں جنھیں وہ گھر سے دفتر منتقل کرنا چاہتے تھے۔ لہٰذا جب گاڑی میں لے کر نکالے تو ہر چوکی پر روکا گیا اور پوچھا گیا کہ اسلحہ تو نہیں؟ تو جواب میں وہ سچ بتا دیتے کہ دو ہیں، تو سپاہی مذاق سمجھ کر ہنس دیتے اور آگے چلنے کو کہہ دیتے۔ خیر ہم سے بھی اسلحے کا ہر جگہ پوچھا گیا۔

اکثر شہر آج بھی بند ہے۔ مقامی موبائل سم حاصل کرنا جان جوکھوں کا کام بن گیا ہے۔ حکومت نے پابندی عائد کی ہے کہ کوئی نئی سم انتخابات تک فعال نہیں کی جائے گی۔ ہوٹل میں بھی انٹرنیٹ کیبل کے علاوہ کسی اور شکل میں دستیاب نہیں۔ وائی فائی کو ٹرائی کرتے کرتے ہائے ہائے ہی منہ سے نکالتا ہے لیکن ملتا نہیں۔

اس مرتبہ انتخابات میں کہتے ہیں کہ طالبان حملے کم ہوئے ہیں لیکن خوف زیادہ ہے۔ نفسیاتی جنگ عملی لڑائی سے زیادہ موثر ہے۔ میڈیا اس میں شاید کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

طالبان کے اس دعوے نے اس جنگ میں اہم وار کیا ہے کہ انھوں نے سکیورٹی پلان حاصل کر لیا ہے، جس کا جواب سڑکوں پر زیادہ متحرک سپاہی تلاشیوں کی صورت میں دے رہے ہیں۔

24 گھنٹے رہ گئے ہیں، دیکھیں کس کا پلڑا بھاری پڑتا ہے۔

اسی بارے میں