غیرملکی صحافی خواتین پر حملہ: ایک ہلاک، دوسری زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بی بی سی کی نامہ نگار لیز ڈیوسیٹ کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار چودہ کے انتخابات میں طالبان کی دھمکیوں کے بعد تشدد کے واضح شواہد موجود ہیں

افغانستان کے مشرقی صوبے خوست میں اطلاعات کے مطابق ایک شخص نے فائرنگ کر کے ایک غیرملکی خاتون صحافی کو ہلاک اور دوسری کو شدید زخمی کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق حملہ آور پولیس کی یونیفارم میں ملبوس تھا۔ خبر رساں ادارے روئٹر نے پولیس حکام کے حوالے سے بتایا کہ اس حملے میں اینا نیدرنگہس ہلاک جبکہ کیتھی گینن شدید زخمی ہوگئیں۔ دونوں صحافی خواتین ایسوسی ایٹیڈ پریس نیوز ایجنسی کے لیے کام کررہی تھیں۔

اینا کی عمر اڑتالیس برس تھی اور ان کا تعلق جرمنی سے تھا۔ وہ فوٹو جرنلسٹ تھیں۔ کیتھی گینن کا تعلق کینیڈا سے ہے۔ دونوں خواتین صحافیوں نے اسلام آباد میں کافی عرصے تک کام کیا ہے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک بھر میں انتخابات کے لیے سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

افغانستان میں سنیچر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے موقعے پر طالبان کی طرف سے حملے روکنے کے لیے دو لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

نئے منتخب ہونے والے صدر حامد کرزئی کی جگہ لیں گے جو سنہ 2001 میں طالبان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے اقتدار میں ہیں۔ تاہم وہ افغان آئین کے تحت مسلسل تیسری بار صدارتی انتخاب نہیں لڑ سکتے۔

لیکن مبصر کہتے ہیں کہ آگے مشکلات بھی ہیں اور افغانستان سے نیٹو کے انخلا کے تناظر میں طالبان کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

انتخابات کے موقع پر سکیورٹی کے سخت اتنظامات کیے گئے ہیں اور طالبان کے حملے روکنے کے لیے بہت بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ طالبان نے انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی دھمکی دی ہے۔

افغانستان میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لیون کا کہنا ہے کہ طالبان کی حکومت ختم ہونے کے بعد ایک بہت بڑے فوجی آپریشن کے ذریعے حالیہ انتخابات کو سکیورٹی فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ہر پولنگ سینٹر کے اردگرد سکیورٹی کے حصار بنائے گئے ہیں جس میں پہلے دائرے میں پولیس اور باہر کی طرف سینکڑوں فوجی تعینات ہیں۔

خبروں کی ترسیل پر بھی حد بندی لگا دی گئی ہے اور یہ بتا دیا گیا ہے کہ امیدواروں کے بارے میں کیا نشر کیا جا سکتا ہے اور کیا نہیں۔

اگر صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں کوئی امیدوار 50 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں ناکام ہوتا ہے تو پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدواروں کے درمیان انتخابات کا دوسرا مرحلہ ہوگا۔

کابل میں بی بی سی کی نامہ نگار لیز ڈوسیٹ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان انتخابات میں دھاندلی، الزام تراشی اور تشدد ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ انتخابی مہم کےدوران پہلے ہی کافی تشدد ہو چکا ہے اور دھاندلی کے خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔

ان صدارتی انتخابات میں آٹھ امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں دو سابق وزرائے خارجہ زلمے رسول، عبداللہ عبداللہ، اور سابق وزیرِ خزانہ اشرف غنی بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں