’بابری سازش کے تحت گرائی گئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption ایودھیا میں بابری مسجد کے شہید کیے جانے سے بھارت کی سیکولر ساکھ پر بھی سوال اٹھنا شروع ہو گئے تھے

بھارت کی ایک سرکردہ تفتیشی ویب سائٹ ’کوبرا پوسٹ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ بابری مسجد کو ہندو تنظیموں نے ایک منظم سازش کے تحت گرایا تھا اس سازش کے بارے میں بی جے پی کے رہنما ایل کے اڈوانی، منوہر جوشی اور وزیر اعظم نرسمہا راؤ باخبر تھے۔

کوبرا پوسٹ کے مطابق مسجد کو گرانے والوں کو سبکدوش فوجیوں نےگجرات میں تربیت دی تھی۔ بی جے پی اور ہندو تنطیموں نے کوبرا پوسٹ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے اور اسے انتخابات کے دوران ماحول خراب کرنے کی کانگریس کی چال قرار دیا ہے ۔

Image caption بابری مسجد کی جگہ پر مندر تعمیر کرنے کا کام بھی کیا جا رہا تھا

تفتیشی پورٹل نے ہندو تنظیموں کے متعدد رہنماؤں سے بات چیت کی خفیہ ریکارڈنگ کی بنیاد پر انکشاف کیا ہے کہ ایودھیا کی بابری مسجد کو گرانے کی سازش ہندو تنظیموں کی قیادت کی اعلی سطح پر تیار کی گئی تھی اور بجرنگ دل کے جن کارکنوں کو مسجد گرانے کی تربیت کے لیے منتخب کیا گیا تھا انہیں ایک مہینے پہلے تک اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔

ایودھیا کی بابری مسجدکو ایودھیا میں ہندوؤں کے ایک اجتماع کے دوران 6 دسمبر 1992 میں ہندوؤں کے ایک ہجوم نے منہدم کر دیا تھا۔

پورٹل کے مطابق بجرنگ دل نے تربیت کے لیے اپنے 38 کارکن منتخب کیے تھے اور انہیں ایک مہینے تک فوجی نوعیت کی تربیت دی گئی تھی۔ یہ تریبت سابق فوجی اعلی افسروں نے دی تھی۔ انہیں نظریاتی تربیت وشو ہندو پریشد کے اعلی رہنماؤں نے دی تھی ۔

کوبرا پوسٹ نے یہ انکشاف کیا ہے کہ مہاراشٹر کی سخت گیر ہندو نواز جماعت شیو سینا نے بھی اپنے طور پر بابری مسجد کو گرانے کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔ شیو سینا کے بعض کارکنوں نے بھی مسجد گرانے کے لیے تربیت حاصل کی تھی ۔

کوبرا پوسٹ اپنے ’سٹنگ آپریشن‘ میں رام جنم بھومی تحریک سے وابستہ 23 افراد سے بات چیت کی ہے ان میں سے پندرہ ایسے ہیں جنہیں بابری مسجد کے انہدام کی تحقیقات کرنے والے لبراہن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں قصوروار قرار دیا تھا۔ اور سی بی آئی نے بابری مسجد کے انہدام کے مقدمے میں ان میں سے 19 کے خلاف فرد جرم داخل کی تھی ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بابری مسجد کی جگہ پر مندر تعمیر کرنے کے مقدمہ ایک عرصے سے چل رہا ہے

بی جے پی نے کوبرا پوسٹ کی اس رپورٹ کو کانگریس کی ایک سیاسی سازش قرار دیا ہے ۔ پارٹی کے سینئر ترجمان مختار عباس نقوی نے کہا ’یہ فرضی رپورٹ انتخابی سرگرمیوں کے درمیان جاری کی گئی ہے ۔ کانگریس اپنی شکست کے امکان سے بوکھلائی ہوئی ہے اور اب وہ اس طرح کی سازش پر اتر آئی ہے۔‘'

بابری ایکشن کمیٹی کے رہنما اور وکیل ظوریاب جیلانی نے اس رپورٹ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’اس رپورٹ میں کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ یہ تو سبھی کو معلوم ہے کہ بابری مسجد کو سازش کے تحت گرایا گیا تھا۔ اس رپورٹ سے یہ حقیقت اب قصورواروں کی زبانی سب کے سامنے آگئی ہے۔‘

ایودھیا کی بابری مسجد کے بارے میں بی جے پی کا کہنا ہے کہ یہ مسجد ہندوؤں کے بھگوان رام مندر کی جائے پیدائش پر ایک مندر کو توڑ کر بنائی گئی تھی ۔ انہدام کے بعد مندر مسجد کا یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں ہے ۔ لیکن مسجد کے انہدام کے سلسلے میں ابھی تک کسی کو سزا نہیں ہوئی ہے۔