ایران کےمغوی سکیورٹی گارڈز پاکستان میں رہا

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption فروری میں ان سرحدی محافظوں کی ایک ویڈیو جاری کی گئی تھی

ایران کے پانچ سکیورٹی گارڈز جنہیں رواں برس فروری میں ایک شدت پسند سنی گروہ نے اغوا کر کے پاکستان میں منتقل کر دیا تھا، ان میں سے چار کو پاکستان میں رہا کر دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پانچ مغوی سکیورٹی گارڈز میں سے چار کو رہا دیا گیا ہے۔ جیش عدل نامی تنظیم نے کہا ہے کہ اس نے ایک شخص کو ہلاک کر دیا ہے۔

جیشِ عدل نامی تنظیم نے فروری میں پانچ ایرنی سکیورٹی گارڈز کو اغوا کیا تھا۔

سکیورٹی گارڈز کے اغوا کے بعد ایران اور پاکستان کےتعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ایران نے دھمکی تھی کہ اگر پاکستان نے ان سکیورٹی گارڈز کو رہا کرانے کی کوشش نہ کی تو ایران کے سکیورٹی ادارے پاکستان میں کارروائی کا حق رکھتے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق چند گھنٹے قبل جیشِ عدل کے جنگجوؤں نے مغوی افراد کو پاکستان میں موجود ایرانی ترجمان کے حوالے کیا ہے۔

جیشِ عدل نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا ہے کہ انھوں نے ایران میں موجود اہم سنی علما کی استدعا پر ان فوجیوں کو رہا کیا ہے۔

اغوا کیے جانے والے پانچوں فوجی ایران میں دو سال کی لازمی فوجی سروس پوری کر رہے تھے جب انھیں ایران کے سیستان بلوچستان صوبے سے اغوا کیا گیا۔ یہ صوبہ افغانستان اور پاکستان کی سرحدوں سے متصل ہے۔

ان فوجیوں کی رہائی کے لیے شدت پسندوں نے ایرانی اور شامی تحویل میں 300 سّنی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

گذشتہ ماہ جیشِ عدل نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے ایک شخص کو ہلاک کر دیا ہے اور اگر ایران نے ان کے مطالبات پر عمل نہیں کیا تو مزید فوجیوں کو مار دیا جائے گا۔

جیشِ عدل 2012 میں تشکیل دی گئی تھی اور تنظیم کا دعویٰ ہے کہ وہ ایران میں سنّی اقلیت کے حقوق کے لیے لڑ رہی ہے۔

سیستان بلوچستان کے صوبے میں ایران کی سنّی اقلیت کا بڑا حصہ ہے اور اکثر یہاں پر ایرانی سکیورٹی اہلکاروں اور منشیات سمگلرز اور سنّی باغی گروہوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملتی ہیں۔

اکتوبر 2013 میں اسی صوبے میں 14 ایرانی سرحدی محافظوں کے قتل کی ذمہ داری جیشِ عدل نے قبول کی تھی۔

حکام نے جوابی کارروائی میں صوبائی دارالحکومت زاہدان میں اُن 16 افراد کو پھانسی کی سزا دے دی تھی جن کے بارے میں حکام کا کہنا تھا کہ ان کے شدت پسند تنظیموں کے ساتھ روابط ہیں۔ نومبر میں جیشِ عدل نے ایک مقامی وکیلِ استغاثہ اور ان کے ڈرائیور کو ہلاک کر دیا تھا۔

اسی بارے میں