کابل ڈائری

Image caption ایک سٹیشن صرف دو گھنٹوں میں 200 ووٹ ڈالے جا چکے تھے

افغانستان میں آج انتخابات تو صدارتی ہوئے لیکن افغانوں کی اکثریت نے لگتا ہے جمہوریت کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ سخت سکیورٹی، سرد موسم اور بارش کے باوجود ووٹروں کی پولنگ سٹیشنوں کے باہر لمبی لمبی قطاریں اس کا ثبوت تھیں۔

افغانوں نے ووٹ صرف جمہوریت کو نہیں بلکہ امن کو دیا ہے۔ نتیجہ جو بھی اب آئے افغان ایک مرتبہ پھر جیت گئے ہیں۔

کابل کے مرکزی علاقے میں خواجہ عبداللہ انصاری مسجد میں قائم پولنگ سٹیشن پہنچا تو حیرت ہوئی۔ کم از کم پاکستان میں مسجد کے اس استعمال کی شاید ہی مذہبی عناصر اجازت دیں۔ دو مقام پر پولیس والوں نے تلاشی لی۔ وہ بھی اتنا ضرور ضرور سے کہ مالش جیسا مزا آگیا۔ لہذا اگر آپ آج تین چار پولینگ سٹیشن گئے ہوں تو دبا دبا کر مالش کا مزا مفت میں لے سکتے ہیں۔

مسجد میں اسّی سالہ عبدالغنی بھی ووٹ ڈالنے آئے۔ ہاتھ میں ہرے پیلے ووٹ کارڈ میں دو سراخوں سے معلوم ہوا کہ وہ دوسری مرتبہ ووٹ دے رہے ہیں۔پوچھا کہ خطرے کے باوجود ووٹ کیوں ڈالا تو ان کا دری میں کہنا تھا کہ ’امن کے لیے، معاشی بہتری کے لیے اور ملازمتوں کے لیے۔‘

افغان قوم کی ترجیحات پر کون شک کرسکتا ہے۔ صرف دو گھنٹوں میں 200 ووٹ اس سٹیشن پر ڈالے جا چکے تھے جبکہ ایک ایک کر کے لوگ ابھی بھی آ رہے تھے۔ پولنگ کو آخری وقت میں بعض سٹیشنوں میں بیلٹ پیپر بھی کم پڑنے کی اطلاع ملی۔

دھاندلی کی روک تھام کے لیے پاکستان کے مقابلے ڈبل انتظام کیا گیا ہے۔ ایک تو انگلی پر سیاہی لیکن ساتھ میں ایک دوسری انگلی پر سفید محلول لگایا جاتا ہے۔ بتایا گیا کہ یہ صرف الٹراوائٹ روشنی میں دکھائی دیتا ہے۔

میڈیا پل پل کی خبر خصوصی نشریات میں دے رہا ہے۔ بحث مباحثے بھی جاری ہیں اور سرکاری حکام کی اخباری کانفرنسیں بھی۔

لیکن افغان میڈیا کو پاکستان سے اس طور بہتر پایا کہ یہاں ’بریکنگ نیوز‘ کا خوفناک بلڈ پریشر بڑھانے والا رجحان نہیں ہے۔ اس کی ایک وجہ شاید ڈی ایس این جیز کا نہ ہونا بھی ہوسکتا ہے لیکن ٹشوں ٹشوں کرتی خبریں نہیں ملتی ہیں۔ سب سے دلچسپ بات یہ کہ یہاں ’دھماکے کی آواز‘ بھی نہیں سنی جاتی ہے۔

امیدواروں سے متعلق دلچسپ باتیں بھی جاری ہیں۔ بیلٹ پیپر پر پانچویں نمبر پر ان کی تصویر ہے لہذا ان کے حامی کہہ رہے ہیں کہ آج پانچ تاریخ ہے، صدارتی عہدہ پانچ برسوں کے لیے ہے تو ووٹ بھی پانچویں نمبر کو دیں۔

انتخابات کے مخالف طالبان افغانوں کو دھمکیاں دینے کے باوجود خاموش ہیں۔ یہ وہی سلسلہ ہے جو پاکستان میں گزشتہ برس کے عام انتخابات کے دوران بھی دیکھا گیا تھا۔ انتخابات کے دن سے قبل حملے اور بیانات لیکن الیکشن کے دن پھر خاموشی۔

عام افغانوں کا کہنا ہے کہ ان کے آج کے فیصلے کے بعد طالبان کو اپنی حکمت عملی پر غور کرنا ہوگا۔

اسی بارے میں