ڈھلتے ہو ئے لکھنؤ کے دن بدلنے والے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption چوٹی کے بھارتی سیاست دان اترپردیش سے انتخاب لڑ رہے ہیں

ریاست اتر پردیش کا دارالحکومت لکھنؤ ان دنوں بھارت کی سیاست کا محور بنا ہو اہے۔

ملک کے بڑے بڑے سیاسی رہنما ، تجزیہ کار اور انتخابی حکمت عملی کے ماہرین اتر پردیش پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

چین، امریکہ اور روس کے بعد دنیا میں شاید ایک یا دو ملک اور ہوں جن کی آبادی اترپردیش سے زیادہ ہوگی۔

یو پی کی آبادی اکیس کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ رقبے کے لحاظ سے بھی یہ ریاست بہت بڑی ہے اور یہاں لوک سبھا کی 543 میں سے 80 نشستوں کے حلقے واقع ہیں۔

گزشتہ 20 برس سے اس ریاست میں مذہب یا ذات کی بنیاد پر حکومتیں بنتی رہی ہیں اور اس وقت یہاں ملائم سنگھ یادو کی ایک علاقائی جماعت سماجوادی پارٹی اقتدار میں ہے۔

ذات پات اور مذہب کی سیاست سے یہ ریاست وقت کے بھنور میں پھنسی ہوئی ہے اور ملک کے ہی نہیں بلکہ دنیا کے انتہائی غریب علاقوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں بجلی کی دائمی قلت رہی ہے، طبی سہولیات مشکل اور ناکافی ہیں، تعلیمی مراکز اور ادارے زوال آمادہ ہیں اور جدید دورمیں اپنی معنویت کھو چکے ہیں۔

بدعنوانی یہاں بدترین شکل میں نظر آتی ہے اور امن و قانون کی صورتحال ایسی کہ یہاں کوئی صنعتکار لوٹ مار اور بھتہ وصولی کے خوف سے اپنے کارخانے نہیں لگانا چاہتا غرض یہ کہ اپنے فرسودہ سیاسی نظام کے ساتھ دارالحکومت لکھنؤ بھی اب تھکا تھکا سا نظر آتا ہے۔

ان دنوں یہاں لوک سبھا کی انتخابی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔ یہاں سے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی ، وزارت عظمیٰ کے غیر اعلان شدہ امیدوار راہل گاندھی، بی جے پی کی وزارت عظمیٰ کے امیدوار، نریندر مودی، عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجروال ، بی جے کے صدر راج ناتھ سنگھ ،سینیٹر رہنما مرلی منوہر جوشی، بی ایس پی کی مایاوتی اور سماجوادی پارٹی کے ملائم سنگھ یادو جیسے چوٹی کے سیاست دان انتخاب لڑ رہے ہیں۔

کانگریس اس ریاست میں 25 برس پہلے ہی اپنی گرفت کھو چکی تھی اور نریندر مودی کے میدان میں اترنے کے بعد یوپی کی دونوں روایتی حریف جماعتوں سماجوادی اور بہوجن سماج پارٹی کے لیے بہت بڑا چیلنج کھڑا ہو گیا ہے۔ دونوں ہی جماعتیں اس وقت دفاعی پوزیشن میں ہیں اور وہ اپنے مقبولیت کے زوال کو محسوس کرنے لگی ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ جو یہاں سے فتح یاب ہوا وہی مرکز میں حکومت بنائے گا۔ بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی نے اترپردیش میں فتح حاصل کرنے کے لیے اپنے سب سے معتمد ساتھی امیت شاہ کو لکھنؤ میں خیمہ زن کر رکھا ہے۔ وہ انتخابی حکمت عملی اور تنظیمی کاموں کے ماہر ہیں۔ ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے کئی ہزار کارکن گھر گھر جا کر بی جے پی کو ووٹ دینے کے لیے لوگوں کو تیار کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ پارٹی نے ہزاروں کی تعداد میں بوتھ نمائندے تیار کیے ہیں جو پولنگ کے دن لوگوں کی مدد کریں گے۔

اتر پردیش نے ملک کو کم از کم نو وزرائے اعظم دیے ہیں۔ لکھنؤ میں بے جے پی اور آر ایس ایس کے حلقوں میں زبردست جوش و خروش ہے۔ بے جے پی کے کارکنوں کومحسوس ہو رہا ہے کہ ایک بار پھر ملک میں ان کا وقت آ رہا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ڈھلتے ہوئے لکھنؤ کے دن اب پلٹنے والے ہیں ۔

پارلیمانی انتخابات کا عمل بہت لمبا ہے اور بی جے پی کے حامیوں کا یہ انتظار بھی بڑا طویل ہے۔

اسی بارے میں