حزبِ اسلامی کی جمہوری عمل میں شرکت مثبت ہے

Image caption افغانستان میں سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکمتیار نے بہت دیر سے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا

افغانستان کے سابق وزیراعظم گلبدین حکمتیار کی قیادت میں غیر ملکی افواج کے خلاف لڑنے والی دوسری بڑی مزاحمتی تحریک حزب اسلامی نے طالبان سے بہت مختلف پالیسی اختیار کر لی ہے۔ جنگ سے تباہ حال ملک کی تاریخ کے شاید سب سے اہم انتخابات میں حصہ لے کر حزبِ اسلامی نے مستقبل میں اپنے لیے ممکنہ سیاسی کردار کے لیے ایک اچھی بنیاد رکھی ہے۔

حزب اسلامی کے حمایت یافتہ صدارتی امیدوار قطب الدین ہلال اہم امیدواروں میں شامل نہیں رہے۔ تاہم غیر ملکی افواج کے خلاف جنگ ختم نہ کرتے ہوئے بھی جمہوری عمل میں حصہ لے کر اس جماعت نے سب کو حیران کردیا ہے۔

یاد رہے کہ حکمتیار نے 2001 میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد دو صدارتی انتخابات میں اس دلیل کی بنیاد پر حصہ نہیں لیا تھا کہ غیر ملکی افواج کی موجودگی میں شفاف انتخابات ممکن نہیں۔

حزب اسلامی کی سیاسی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر غیرت بحیر کا کہنا ہے کہ انتخابات میں اس بار حصہ لینے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ سیاسی میدان دوسروں کے لیے نہ چھوڑا جائے۔

حکمتیار نے سب سے پہلے صوبائی کونسلوں کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے افغانستان کے اندر اپنے رہنماوں کو ہدایات جاری کی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ صوبائی کونسلوں کے انتخابات بھی اس لیے اہم تھے کہ وہ 102 ممبران والے ایوان بالا کا انتخاب کرتے ہیں۔

انتخابات میں حصہ لینے سے حزب اسلامی کا سیاسی رخ بھی سامنے آیا ہے اور پانچ اپریل کے صداراتی اور صوبائی کونسلوں کے انتخابات میں لوگوں کی شرکت نے ثابت کر دیا کہ افغانستان میں جمہوریت کا مستقبل روشن ہے۔

افغانستان میں سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکمتیار نے بہت دیر سے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا اور شاید یہ بھی اس جماعت کی اس مرتبہ زیادہ ناکامی کی وجہ ہو لیکن اس فیصلے سے یہ مسلح گروہ سیاسی میدان میں داخل ہوا اور اب صرف طالبان میدان میں ایک مزاحمتی گروہ رہ گیا ہے۔

طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان میں بہت سی سیاسی جماعتیں رجسٹر ہوگئی تھیں تاہم اس ملک میں تین دہائیوں سے زیادہ کی جنگوں کی وجہ سے سیاسی جماعتیں ابھی تک مضبوط نہیں ہوئیں۔ اس وقت بھی سیاست شخصیات، جنگجو کمانڈروں اور لسانی بنیادوں پر ہو رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اس وقت بھی افغانستان کے انتخابی کمیشن کے پاس 57 سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں۔ اگرافغانستان میں سیاسی عمل اس طرح جاری رہا تو وہ وقت دور نہیں کہ یہاں بھی جمہوری نظام مضبوط ہو کیونکہ پانچ اپریل کے انتخابات میں نوجوانوں نے زیادہ تعداد میں حصہ لیا۔

انتخابی کمیشن کے مطابق 35 فیصد خواتین نے بھی انتخابات میں ووٹ کا استعمال کر کے سیاسی عمل میں بھرپور کردار ادا کرنے کا اچھا آغاز کیا ہے۔

اسی بارے میں