بھارت: نوٹوں کی گڈّی یا شراب کی بوتل انتخابی نشان کیوں نہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت کے معرف انتخابی نشانات میں ہاتھ کا پنجہ، کنول کا پھول، ہاتھی، جھاڑو وغیرہ شامل ہیں

انتخابات کے دوران ہر امیدوار کو ایک عدد اچھے نعرے اور ایک جاندار انتخابی نشان کی تلاش رہتی ہے۔ لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ کوئی لیڈر انسانی ڈھانچہ یا کوئی امیر امیدوار نوٹوں کی گڈی انتخابی نشان کے طور پر کیوں نہیں لیتا؟

جن امیدواروں کو الیکشن کمیشن سے منظورشدہ قومی یا صوبائی پارٹیوں سے ٹکٹ مل گیا ہے ان کے لیے تو انتخابی نشان کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن جو آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنا چاہتے ہیں وہ بظاہر ایسا نشان لینا چاہتے ہیں جو ان کے ووٹروں کا دل اور ووٹ دونوں جیت سکے۔

مثلا ہر انتخابات میں کئی ایسے انتہائی امیر شخص آزاد امیدوار کے طور پر کھڑے ہوتے ہیں جو عوام کے درمیان صرف اپنے پیسے کی وجہ سے ہی جانے جاتے ہیں اور وہ ایسا ہی چاہتے ہیں۔

بعض امیدواروں پر یہ الزام بھی لگتا ہے کہ وہ ووٹروں میں پیسے بانٹ رہے ہیں۔ امیدواروں سے ان کا پسندیدہ انتخابی نشان پوچھا جائے تو ان میں سے بہت سے نوٹوں کی گڈی یا نوٹ بھرا لفافہ یا شراب کی بوتل جیسے انتخابات کے نشان کو ضرور اپنانا چاہیں گے۔

لیکن اس طرح کے تمام لوگوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے بھارت کا الیکشن کمیشن۔ بھارت کے الیکشن کمیشن کے مشیر كےجے راؤ کہتے ہیں کہ انتخابی نشان کے بارے میں الیکشن کمیشن کا رخ شروع سے ہی بہت سخت رہا ہے۔

آزاد امیدواروں کی مجبوری ہے کہ انھیں الیکشن کمیشن کے طے شدہ 75 انتخابی نشانات میں سے ہی کسی ایک کو منتخب کرنا ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Election Commission of India
Image caption بھارت کی سرکردہ پارٹیوں کے انتخابی نشانات

ویسے ان طے شدہ نشانات میں سے کئی ایسے ہیں جن کا مذاق اڑانا آسان ہے۔

مثلا ’قینچی‘ کے انتخابی نشان لینے والوں کے بارے میں ان کے مخالفین یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’یہ سب کی جیب کاٹ لیں گے۔‘ یا جن کا انتخابی نشان غبارہ ہو تو ان کے حریف یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’ان کی ہوا نکلنا طے ہے۔‘

ویسے تو دو موم بتیوں کا انتخابی نشان اچھا ہے لیکن اس کے ساتھ بس یہ دقت ہے کہ یہ دو موم بتیاں بجھی ہوئی ہیں اور آدھی جل چکی ہیں۔

اگر آپ آزاد امیدواروں کے لیے الیکشن کمیشن کے انتخابی نشانات کی فہرست دیکھیں گے تو یہ پائیں گے کہ یہ اشیائے خوردنی کے گرد کچھ زیادہ ہی گھوم رہی ہے۔

مجموعی طور پر 75 انتخابی نشانات میں سے آٹھ صرف کھانے کی چیزیں ہیں مثلا کیلا، ٹافی، کیک، ناریل، مکئی کا بھٹا، آئس کریم، گاجر اور بریڈ۔

ان کے علاوہ ایسی کئی چیزیں ہیں جو کھانا پکانے سے تعلق رکھتی ہیں جیسے گیس کا چولہا، گیس سلینڈر، گلاس، جگ، فرائی پین، چمچہ، کھانا کھانے کا کانٹا، چائے کی پیالی اور طشتری، چائے کی کیتلی۔

فٹبال اگر چہ دنیا کا سب سے مقبول کھیل ہے لیکن دنیا کے سب سے بڑے انتخابی نشان میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انتخابی نشانات میں کرکٹ کا بیٹ اور بلے باز ہیں لیکن پتہ نہیں کیوں بولر کو اس فہرست میں شامل کرنے کے قابل نہیں سمجھا گیا۔

مان لیجیے کہ کسی ایک انتخابی نشان کو لے کر دو امیدواروں نے مطالبہ کر دیا تو اس صورت میں كےجے راؤ کے مطابق قرعہ اندازی کے ذریعے نشان طے کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Election Commission of India
Image caption بھارت کے الیکشن کمیشن نے مجموعی طور پر 75 انتخابی نشانات طے کر رکھے ہیں جن میں سے آزاد امیدواروں کو اپنا انتخابی نشان منتخب کرنا پڑتا ہے

كےجے راؤ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’الیکشن کمیشن قومی امیدواروں کو انتخابی نشان دینے کے معاملے میں بھی بہت غور فکر کے بعد قدم اٹھاتا ہے۔ پارٹیوں کو انتخابی نشان طلب کرتے وقت تین نشانات کی تجویز پیش کرنی پڑتی ہے۔

اگر کوئی پارٹی اپنے انتخابی نشان بدلتی ہے تو اسے اس کی واضح وجہ بتانی ہوتی ہے۔

کے جے راؤ کے مطابق الیکشن کمیشن کسی پارٹی کو صرف پارٹی کی تقسیم کی صورت میں ہی انتخابی نشان تبدیل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

کئی برسوں سے کانگریس پارٹی کے بارے میں رپورٹنگ کرنے والے صحافی رشید قدوائی بتاتے ہیں کہ ’سنہ 1980 میں کانگریس لیڈروں نے ہاتھی اور ہاتھ کا پنجہ دو نشان منتخب کیے تھے۔ لیکن اندرا گاندھی نے محسوس کیا کہ ہاتھی کا نشان ان کے لیے اچھا نہیں ہو گا اور انھوں نے ہاتھ کے پنجے کا انتخاب کیا۔

بعد میں کئی سال بعد بہوجن سماج پارٹی نے ہاتھی کا نشان اپنا لیا اور اس سے اس نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔ بلکہ اسے اتنا فروغ حاصل ہوا کہ کانگریس پارٹی کے لیے ریاست اتر پردیش میں بی ایس پی سے بڑی پارٹی بننا خواب ہو گیا ہے۔

قدوائی یہ بھی بتاتے ہیں کہ 1990 کی دہائی میں جب کانگریس انتخابات میں مسلسل شکست سے دو چار تھی تب راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کے دباؤ کے بعد پارٹی نے الیکشن کمیشن سے اپنے انتخابی نشان ہاتھ کے پنجے کے اندر ہاتھ کی لکیروں کو نئے طریقے سے دکھانے کا بات کہی تھی۔

اسی بارے میں