گاندھی، کیجریوال اور مودی کے درمیان لفظوں کی جنگ

Image caption یہ تینوں سیاسی رہنما گزشتہ ایک سال سے ایک دوسرے کے خلاف لفظوں میں جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں

بھارتی انتخابات کے دوران حکمران جماعت گانگرس، حزب اختلاف کی جماعت بھارتی جنتا پارٹی اور نو وارد جماعت عام آدمی پارٹی کے درمیان ووٹرز کی توجہ حاصل کرنے کے لیے شدید لفظی جنگ جاری ہے۔

گزشتہ سال ستمبر میں بی جے پی نے متنازعہ سیاست دان نریندر مودی کو وزیر اعظم کے امیدوار کا اعلان کیا تھا جبکہ کانگرس نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے جنوری میں راہول گاندھی کو انتخابی مہم کے روح رواں کے طور پر پیش کیا تھا۔

راہول گاندھی اپنی جماعت کی طرف سے وزیراعظم کے امیدوار نہیں ہیں لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ کانگرس انہی کی سربراہی میں انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔

دوسری جانب اروند کیجریوال کی سربراہی میں نئی سامنے آنے والی کرپشن مخالف جماعت عام آدمی پارٹی کی شمولیت نے انتخابی عمل کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔

یہ تین سال قبل بھارت بھر میں کرپشن مخالف تحریک کی کامیابی کے بعد وجود میں آئی اور نئی دہلی کے ریاستی انتخابات میں پہلی بار کامیاب شرکت کی۔

یہ تینوں سیاسی رہنما گزشتہ ایک سال سے ایک دوسرے کے خلاف لفظوں میں جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں، اس دوران وہ ملک کے طول و عرض میں سیاسی تقاریر کر رہے ہیں اور لوگوں کے مل رہے ہیں۔

ان سیاسی رہنماؤں میں ایسا کیا ہے جس کی وجہ سے ان کی سیاسی جماعتوں نے ان کا انتخاب کیا، اور وہ سیاسی جلسوں میں لوگوں سے کیا کہتے ہیں۔ بی بی سی مانیٹرنگ کے وکاس پانڈے ان سوالوں کا جواب حاصل کرنے کے لیے ’'لفظی بادل‘ (Word Cloud) کی مدد سے تجزیہ کرتے ہیں۔

نریندر مودی

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption نریندر مودی کو متنازعہ ماضی کے باعث تلخ سوالوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے

نریندر مودی اپنی تقاریر میں اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے بجائے بھارت کے بارے میں اپنے وژن کا زیادہ تذکرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

’'ڈیویلپمنٹ‘ اور ’'بھارت‘ کے الفاظ مودی کی تقاریر میں دیگر الفاظ کی نسبت زیادہ مرتبہ استعمال ہوتا ہے۔ مغربی ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ اکثر اپنی حکومت کی ’'پرو ڈیویلپمنٹ‘، ’'پرو یوتھ‘ اور ’صاف شفاف گورننس‘ پالیسیوں کا ذکر کرتے ہیں۔

گجرات کی معاشی ترقی کا کریڈٹ ان کو دیا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کے متنازعہ ماضی کے باعث انہیں تلخ سوالوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

ان پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے سنہ 2002 میں مسلم کش فسادات کی روک تھام کے لیے بہت کم اقدامات کیے۔ ان فسادات میں 1000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ البتہ مودی نے ہمیشہ اس الزام کی تردید کی ہے۔

ہندو قوم پرست رہنما اپنی تقاریر میں فسادات کا ذکر کرنے سے گزیر کرتے ہیں اور اپنی توجہ زیادہ تر کانگرس کو کرپشن کے حوالے سے تنقید پر مرکوز رکھتے ہیں۔ نریندر مودی کانگرس میں نہروگاندھی خان کی اثرورسوخ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’'ایک خاندان‘ پورا ملک نہیں چلا سکتا۔

نریندر مودی اپنی تقاریر میں خارجہ پالیسی کے موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار زیادہ نہیں کرتے لیکن چین اور پاکستان کا ذکر ان کی تقاریر میں اکثر ملتا ہے۔

وہ حب الوطنی کے جذبات کا ابھارتے ہوئے اکثر چین اور پاکستان کی جانب سے خطرات کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں ’بھارت کو اپنے پڑوسیوں کی جانب سے خطرات کا سامنا کرنے کی تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔‘

راہول گاندھی

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption راہول گاندھی اپنی جماعت کے 10 سالہ دور کی کامیابی کا سہرا اپنی والدہ سونیا گاندھی اور وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کے سر قرار دیتے ہیں

راہول گاندھی اس جماعت کی نمائندگی کر رہے ہیں جو گزشتہ ایک دہائی سے اپنی والدہ سونیا گاندھی اور وزیراعظم من موہن سنگھ کی قیادت میں برسراقتدار رہی ہے۔

من موہن سنگھ کی حکومت میں کئی بڑے کرپش کیسز منظر عام پر آئے اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ امر اس جماعت کی مقبولیت کو شدید متاثر کرے گا۔

راہول گاندھی پارٹی کے اندر جمہوریت کے اپنے خیال کو فروغ دیتے نظر آتے ہیں۔

وہ اکثر اپنی جماعت کی ’غریبوں کے لیے پالیسیز‘ کی بات کرتے اور خوراک کے حق کے بل حمایت اور سستی خوراک کے وعدوں پر بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

وہ اپنی تقریروں میں مودی کا نام لینے کے احتراز کرتے ہیں تاہم انہوں نے بارہا یہ کہا ہے ’ایک آدمی تنہا بھارت کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔‘

کانگرس کے نائب صدر کو اکثر کرشماتی رہنما کے طور پر بیان کیا جاتا ہے اور وہ یہ ظاہر کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے کہ انہیں انتخابی مہم پر پورا کنٹرول حاصل ہے۔

انہوں نے باقاعدگی کے ’نئے بھارت‘ کے اپنے تصور کا ذکر کیا ہے جس میں ’غریب طاقتور‘ ہو گا، جہاں بدعنوانی کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

انہوں نے اپنی والدہ سونیا گاندھی اور وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کا اکثر نام لیا اور کہا کہ اپنی جماعت کے دس سالہ کامیاب دور کا سہرا ان کے سر ہے۔

اروند کیجریوال

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کیجری وال کو امید ہے کہ متوسط طبقہ ان کی جانب متوجہ ہو گا

عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجری وال کی تقاریر میں سیاستدانوں، بیوروکریٹس، بڑے تاجروں اور میڈیا آمروں کے خلاف بدعنوانی کے الزامات بھرے پڑے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ بھارت کو بدعنوانی سے ’آزادی‘ چاہیے۔ وہ تمام بدعنوان سیاستدانوں اور افسران کو سزا دلوانے کا وعدہ کرتے ہیں۔

دہلی کے سابق وزیرِ اعلی قومی جماعتوں، صنعت کاروں اور میڈیا میں ’رابطے‘ کی بات بپی کرتے ہیں۔

اپنی تقریروں میں کیجری والے ’عام آدمی‘ کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہیں جن میں پانی کی کمی، مہنگی بجلی اور گیس کی قیمتیں۔

وہ عوام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارت میں ’انقلاب‘ کے لیے ان کی حمایت کریں اور اس سال بی جے پی اور کانگرس کو اقتدار میں نہ آنے دیں۔

ماہرین کے مطابق کیجری وال کی امید ہے کہ ان کی پیشکش متوسط طبقے کو ان کی جانب متوجہ کرے گی۔

اسی بارے میں