سینکڑوں افغان مترجم ویزے کے متلاشی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شنواری اب میٹ زیلر کے ساتھ افغانسان میں موجود مترجموں کو ویزہ دلوانے کے لیے کوشاں ہیں

امریکی خفیہ ایجنسی کے ایک سابقہ اہلکار میٹ زیلز کئی سال کی کوشش کے بعد اپنے مترجم جانس شنواری کو امریکی ویزہ دلوانے میں کامیاب تو ہو گئے لیکن شنواری اب بھی ان سینکڑوں افغان ساتھیوں کی زندگی کے لیے فکر مند ہیں جنھیں باوجود کوشش کے اب تک امریکی ویزہ نھیں مل پایا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اکتوبر 2013 میں اپنی اہلیہ اور دو بچوں کے ہمراہ امریکہ پہنچنے والے جانس شنواری اب میٹ زیلر کے ساتھ افغانسان میں موجود مترجموں کو ویزہ دلوانے کے لیے کوشاں ہیں اور دونوں ایک مہم چلا رہے ہیں۔

مسٹر شنواری کہتے ہیں کہ جب بھی امریکی فوج جنگ کرتی ہے توطالبان کی ترجیح ان کے ساتھ موجود مترجم کو ہلا ک کرنا ہوتی ہے ۔’مترجم پہلی صف میں موجود پہلا فرد ہوتا ہے اور طالبان کا سب سے زیادہ نشانہ ہوتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے ملک اور عوام کی مدد کے لیے مترجم بنے اس عرصے میں انھوں نے بہت سے امریکی فوجیوں کی جانیں بچائیں اور اسی وجہ سے ان کا نام طالبان کو انتہائی مطلوب افراد میں شامل ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ ماضی کی نسبت اب زیادہ تیزی سےامریکی ویزے کے لیے افغان باشندوں کی درخواستوں کو نمٹا رہا ہے اور رواں برس امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے 3 ہزار کے قریب افغان اہلکاروں کو ویزے مل جائیں گے۔

تاہم امریکی خفیہ ایجنسی کے سابقہ اہلکار میٹ زیلز اور امریکہ پہنچنے والے جانس شنواری کچھ مایوس نظر آتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ابھی اس سلسلے میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

میٹ زیلز کہتے ہیں کہ افغان مترجموں نے ان کے ملک کے لیے سال ہا سال خدمات سرانجام دیں۔ ہمیں انھیں اپنے ملک آنے کے لیے ویزہ دینا چاہیں لیکن ہم ایسا نہیں کر رہے۔

وہ کہتے ہیں کہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ انھیں مترجموں بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔چھ سال تک ہم نے عراق اور 5 سال تک افغانستان میں ویزہ پروگرام چلایا تھا ۔

اس دوران ہمارے ساتھ 13 ہزار لوگ تھے لیکن ان میں سے کسی ایک کے خلاف بھی نہ تو کبھی تحقیقات ہوئیں نہ کوئی فرد جرم عائد ہوئی اور نہ ہی کبھی ان پر دہشت گردوں کی معاونت کا الزام لگا۔

مسٹر شنواری نے بتایا کہ انھیں روزانہ کی بنیاد پر افغانستان میں موجود مترجموں کی فون کالز اور ای میلز موصول ہوتی ہیں اور افغانستان میں موجود ان مترجموں کو مدد کی ضرورت ہے ۔

’جیسے ہی امریکی فوج افغانستان سے نکلے گی، مترجموں کو جن کے پاس کوئی مدد نہیں وہ مارے جائیں گے۔، ان پر خاندان کے سامنے تشدد کیا جائے گا اور ان کے جسم کے حصے دیگر لوگوں،مترجموں کو بجھوائے جائیں گے تاکہ وہ امریکہ کے ساتھ کام کرنے سے باز آ جائیں۔‘