افغانستان: ووٹوں کی گنتی جاری اور دھاندلی کے الزامات

تصویر کے کاپی رائٹ f
Image caption افغانستان میں آزاد انتخابی کمیشن کا کہنا ہے کہ تین ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں

افغانستان میں پانچ اپریل کے صدارتی اور صوبائی کونسلوں کے انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی اب تک جاری ہے اورابتدائی غیر رسمی نتائج کے اعلان کے لیے تقریباً 16 دن مزید انتظار کرنا پڑے گا لیکن ابھی سے دھاندلی کی شکایات میں اضافہ ہورہا ہے۔

افغانستان میں آزاد انتخابی کمیشن کا کہنا ہے کہ 3000 سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں جن کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

لوگوں کو شکایات درج کرنے کے لیے پیر کی رات کا وقت دیا گیا تھا۔ ا نتخابی کمیشن کے افسران کا کہنا ہے کہ زیادہ شکایات مختلف علاقوں میں مقامی اہلکاروں کی انتخابی عمل میں مبینہ مداخلت اور تقریباً 80 شکایات صدارتی امیدواروں کے خلاف موصول ہوئی ہیں۔

صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے اہم امیدوار ڈاکٹر اشرف غنی کے حامیوں نے مشرقی صوبے پکتیا میں منگل کودھاندلی کا الزام لگایا۔

ڈاکٹر غنی کی انتخابی مہم کے انچارج گل بادشاہ مجیدی نے ایک نیوز کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ پہلے اہلکاروں نے دو لاکھ ووٹ پول ہونے کا کہا تھا اور اب تین لاکھ ووٹوں کے ڈالنے کی باتیں کی جارہی ہے۔

مبینہ دھاندلیوں کے دعووں کے سامنے آنے کے بعد کابل میں اقوام متحدہ کے نمائندے جین کیوبز نے افغان امیدواروں اور ان کے حامیوں پر زور دیا ہے کہ ملک کے انتخابی اور شکایات کمیشنوں کا احترام کریں۔

افغان انتخابی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق پانچ اپریل کے انتخابات میں تقریباً سات لاکھ لوگوں نے ووٹ ڈالا تھا جبکہ ووٹروں کی کل تعداد بارہ لاکھ بتائی گئی تھی۔

افغانستان کی کل آبادی کا تخمینہ تین کروڑ لگایا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے انتخابی کمیشن کو یقین دلایا ہے کہ ان پولیس اہلکاروں کو برطرف کیا جائےگا جن کے خلاف انتخابی عمل میں مداخلت ثابت ہو جائے۔

افغان مبصرین کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر تو دھاندلی کے اکا دکا واقعات کا امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا لیکن کسی بڑی دھاندلی اس لیے ممکن نہیں کہ ووٹ ڈالنے کیلئے جو نظام بنایا گیا تھا اس میں ایک سے زیادہ ووٹ ڈالنا ناممکن تھا۔

کالی رنگ کے سیاہی کے ساتھ ساتھ نظر نہ آنے والی سیاہی بھی انگلیوں پر لگائی گی تھی جو لیزر کے ذریعے دیکھی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ووٹوں کی گنتی ابھی جاری ہے اور امیدواروں کو سرکاری نتائج کا انتظارکرنا چاہیے۔ انتخابی کمیشن کے ترجمان نور محمد نور نے کابل میں نیوز کانفرنس کو بتایا کہ کچھ ابتدائی نتائج کا اعلان اسی ہفتے کے آخرتک متوقع ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں سے بیلٹ باکس کی آمد جاری ہے اور اب تک تقریباً ساٹھ فیصد کابل پہنچ چکے ہیں جو دارالحکومت کے قریبی صوبوں پروان اور کاپیسا سے موصول ہوئے ہیں۔

پاکستان کے سرحد کے قریب شمال مشرقی صوبے بدخشاں کے اکثر اضلاع سے اب تک بیلٹ باکس موصول نہیں ہوئے۔ ابتدائی نتائج 24 اپریل اور مکمل نتائج کا اعلان مئی کے وسط تک کیا جائے گا۔

اسی بارے میں