سونیا گاندھی اتنی امیر کیسے ہوگئیں؟

سونیا گاندھی اتنی امیر کیسے ہوگئیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سونیا گاندھی سابق وزیراعظم آنجہانی راجیو گاندھی کی بیوہ ہیں

مینکا گاندھی کا سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی سے وہی تعلق تھا جو سونیا گاندھی کا ہے۔ وہ راجیو گاندھی کے چھوٹے بھائی سنجے کی بیوہ ہیں۔ سنجے کی جوانی میں ہی ایک فضائی حادثے میں موت ہوگئی تھی، اس کے بعد وہی ہوا جو ساس اور بہو کے ٹی وی سیریلز میں اکثر ہوتا ہے۔

مینکا گاندھی بی جی پی کی لیڈر ہیں۔ ایک انتخابی جلسے میں انھوں نے کہا کہ سونیا اٹلی سے خالی ہاتھ انڈیا آئی تھیں، اب ان کے پاس اتنی دولت کہاں سے آگئی؟

سونیا گاندھی کی آمدنی کی باریکیوں میں جائے بغیر بھی اس معصوم سوال کا جواب آسانی سے دیا جاسکتا ہے۔

کانگریس پارٹی اندرا گاندھی کے زمانے سے ہی غریبی کے خاتمے لے لیے کام کر رہی ہے۔ انھوں نے ’غریبی ہٹاؤ، دیش بچاؤ’ کا مقبول نعرہ سب سے پہلے بلند کیا تھا۔ آپ نے تو خود اندر سے دیکھا ہوگا کہ غریبی کو امیری میں کیسے بدلا جاتا ہے۔

کانگریس دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے کروڑوں لوگوں کو غریبی کے نرغے سے باہر نکالا ہے، تو پھر سونیا کیسے بچ جاتیں؟ اور اگر بچ جاتیں تو پارٹی غریبوں کو کیا منہ دکھاتی؟ کیا لوگ یہ نہ کہتے کہ پہلے اپنا حال تو سدھار لو؟

کانگریس کے امیدوار بھاگ رہے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Vipul Gupta BBC
Image caption اب نوئیڈا میں کانگریس کا کوئی امیدوار نہیں ہے

دلی کے نواحی علاقے نوئیڈا میں ملک کی اقتصادی ترقی اور بدلتے ہوئے سیاسی اقدار کی ایک جھلک نظر آتی ہے۔

وہاں سے کانگریس پارٹی نے رمیش تومر کو ٹکٹ دیا تھا۔ انھوں نے کئی دن زور شور کے ساتھ انتخابی مہم چلائی اور پھر وہ کیا جو شاید پہلے کبھی کسی نے نہ کیا ہو۔ وہ بی جے پی کے لیڈر نریندر مودی کی انتخابی ریلی میں پہنچے، مسٹر مودی نے انھیں گلے لگایا اور وہ بس انھی کے ہوگئے۔

اب نوئیڈا میں کانگریس کا کوئی امیدوار نہیں ہے۔ مسٹر تومر کو تو سیاست کے بجائے محکمۂ موسمیات میں ہونا چاہیے۔ انھیں شاید لگتا ہے کہ وہ ہوا کا رخ خوب پہچانتے ہیں لیکن انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انڈیا میں محکمہ موسمیات کی پیش گوئی شاذ و نادر ہی درست ثابت ہوتی ہے۔

پانی میں سے بجلی نکال لی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انتخابی مہم سے لگتا ہے کہ نریندر مودی ہر مرض کی دوا ہیں

پنجاب میں 1950 اور 60 کےعشرے میں جب بھاکڑا نانگل ڈیم تعمیر ہوا تو مقامی رہنماؤں نے اس کی کافی مخالفت کی تھی۔ ایک انتخابی جلسے میں ایک دور اندیش رہنمانے کہا کہ جب بھاکڑا نانگل کے پانی میں سے بجلی ہی نکال لی توگیہوں کیا خاک پیدا ہوگا۔

انڈیا میں اس وقت بھی کچھ ایسا ہی عجیب و غریب ماحول ہے۔ بس تناظر مختلف ہے۔

اب نریندر مودی ہر مرض کی دوا ہیں۔ وہ وزیر اعظم بنے تو بدعنوانی کا خاتمہ ہوگا، بیرون ملک سے کالا دھن واپس آئے گا، ملک ترقی کی راہ پر تیزی سے آگے بڑھے گا، عورتیں بے خوف و خطر عزت و وقار کی زندگی گزار سکیں گی، باقی دنیا انڈیا کے سامنے سر جھکائے گی۔۔۔لیکن اگر وہ نہیں آئے تو کیا ہوگا؟

کیا پھر بھی مسٹر مودی کو امریکہ کا ویزا ملے گا جو گجرات کے فسادات کی وجہ سے اب تک وہ دینے سے انکار کرتا رہا ہے؟

اگر قومی سیاست میں سے نکل کر مودی کو واپس گجرات جانا پڑا تو کیا گیہوں پیدا نہیں ہوگا؟

جواب کے لیے بس ذرا انتظار۔

اسی بارے میں