انتخابات میں شکست کا ریکارڈ

تصویر کے کاپی رائٹ Tapan Padhi
Image caption ڈاکٹر سبودھی سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ کے خلاف بھی انتخاب لڑ چکے ہیں

ریاست اڑیسہ کے شیام بابو سبودھی سنہ 1962 کے بعد سے ہونے والے تمام بھارتی پارلیمان کے انتخابات لڑتے رہے ہیں لیکن انھیں کامیابی کی دیوی ان سے ہمیشہ روٹھی رہی ہے۔

لیکن اتنی شکستوں کے باجود 78 برس کی عمر میں بھی سبودھی ہار ماننے والے نہیں اور ان انتخابات میں پھر ایک بار قسمت آزمائی کے لیے تیار ہیں۔

ڈاکٹر سبودھی ضلع بیرہام پور میں ہومیو پیتھی کا کلینک چلاتے ہیں، وہ اس بار دو حلقے بیرہام پور اور اسکا سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔

ماضی کے تمام انتخابات میں انھیں اتنے کم ووٹ حاصل ہوئے کہ ہر بار ان کی ضمانت تک ضبط ہوگئی، لیکن اس کے باوجود ان انتخابات میں انھیں دونوں حلقوں سے کامیابی کا پورا یقین ہے۔ ان کے ایک صفحے پر مشتمل منشور میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ موجودہ انتخابات کے بعد ان کے ملک کا اگلا وزیرِ اعظم بننے کے امکانات روشن ہیں۔

بھارتی پارلیمان میں رکن کی حیثیت سے داخل ہونے کی امید میں ان کی یہ تیرہویں لگاتار کوشش ہے۔

ڈاکٹر سبودھی نے اپنی رہائش گاہ پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’لوگ موجودہ رہنماؤں سے مایوس ہوچکے ہیں، جو پارٹی کی طرف سے ٹکٹ نہ ملنے کے سبب فوراً ہی پارٹی بدل دیتے ہیں۔ وہ یہ دیکھ چکے ہیں کہ صرف میں ہی وہ شخص ہوں جس نے سنہ 1960 کے عشرے سے کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت کو یکسر مسترد کیا ہے۔‘

ڈاکٹر سبودھی نے پہلی بار سنہ 1957 میں ریاستی وزیر برندہ بن ناوک کے خلاف انتخاب لڑ کر اپنی انتخابی مہم جوئی کی ابتدا کی تھی۔ ان کے خلاف لڑنے کی وجہ علاقے میں سکول کا قیام تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Tapan Padhi
Image caption شیام بابو اپنا کمایا ہوا اپنا پیسہ خرچ کرتے ہیں اور الیکشن کے لیے کسی سے کچھ مدد نہیں لیتے

وہ بڑے فخر سےکہتے ہیں: ’میں نے ان کے خلاف ہنجلی کی ریاستی سیٹ سے انتخاب لڑا تھا اور بہت کم فرق سے ہارا تھا۔‘

لیکن یہ پہلا مقابلہ ہی ان کے لیے انتخابی سرگرمی کا ایسا موڑ ثابت ہوا جس کے بعد ان کا سفر ابھی تک جاری ہے۔ ان کی ٹریڈ مارک ٹوپی پر بیرہام پور کی ایک معروف سائٹ بنی ہے، جو ہمیشہ ان کے سر پر رہتی ہے۔ ایک بڑے کالے بیگ کے ہمراہ اس سخت گرمی میں بھی وہ سوٹ پہنے ہوئے نمایاں نظر آتے ہیں۔

سنہ 1980 تک تو وہ ریاستی اور پارلیمانی انتخابات دونوں لڑتے تھے لیکن سنہ 1980 میں ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ جے بی پٹنائک کے خلاف انتخاب ہارنے کے بعد سے وہ صرف پارلیمانی انتخاب پر ہی توجہ دینے لگے۔

مسٹر سبودھی کے اس طویل انتخابی کریئر میں ایک وہ دور بھی آیا تھا جب سنہ 1996 میں انھوں نے اس وقت کے وزیرِ اعظم نرسمہا راؤ کے خلاف بھی بیرہام پور سے انتخاب لڑا تھا۔

وہ کہتے ہیں: ’میں انتخابی سیاست میں صرف ملک سے بدعنوانی ختم کرنے کے لیے ہوں۔‘

لیکن اگر وہ انتخاب جیت بھی جائیں تو تنہا وہ کرپشن کیسے ختم کرسکتے ہیں؟ اس کے جواب میں ان کا کہنا ہے: ’مجھے یقین ہے کہ دوسرے ارکان پارلیمان بھی اس کام میں میرا ساتھ دیں گے۔

اگرچہ وہ خود عمردراز ہیں اور دو حلقوں سے انتخاب لڑ رہے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ کامیاب ہوئے تو دو حلقوں سے اور 60 برس کے اوپر کے لوگوں پر الیکشن لڑنے کی پابندی عائد کروادیں گے۔

ان کی انتخابی مہم بھی دوسروں سے ہٹ کر ہے۔ اس جدید دور کی چمک دمک سے دور وہ پیدل چل کر لوگوں سے ملتے ہیں۔ سائیکل یا کئی بار بیل گاڑی پر سوار ہوکر بھی وہ اپنی انتخابی مہم چلاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انتخابات میں بعض امیدوار بے تحاشہ پیسہ خرچ کرتے ہیں

لیکن اس مہنگائی کے دور میں اس کے باوجود اس بار ان کے تقریباً پانچ لاکھ روپے خرچ ہو جائیں گے۔ ان کے گھر کا کوئی فرد انھیں اگر پیسے ضائع نہ کرنے کا مشورہ دیتا ہے تو وہ اسے ہنسی میں ٹال دیتے ہیں۔

ان کی بہو رشمیتا کا کہنا ہے کہ وہ اپنا کمایا ہوا اپنا پیسہ خرچ کرتے ہیں اور الیکشن کے لیے کسی سے کچھ مدد نہیں لیتے۔

شہر کے بہت سے لوگ انھیں پاگل سمجھتے ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ شاید چچا میاں کوگنیز بک میں سب سے زیادہ انتخابات لڑنے کا ریکارڈ درج کرانے کا بڑا شوق ہے۔

لیکن ان کے ایک ہم عمر دوست ونکٹ بہاری انھیں بڑی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ انتخابات میں ایک اچھے لیڈر کی حیثیت سے حصہ لیتے ہیں اور شوق کے لیے نہیں ہے۔

بہاری کے مطابق ’لیکن اکثر لوگ پارٹی کے امید وار کو ووٹ دینے کے قائل ہیں اور کسی فرد کو نہیں چنتے۔‘

ایسے آثار تو اس بار بھی نہیں نظر آتے کہ رائے دہندگان اپنا موڈ بدلیں گے لیکن ڈاکٹر سبودھی کو اس کی پروا نہیں اور وہ میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں