بی جے پی کے نظریاتی قبلے کی تبدیلی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نریندر مودی ان انتخابات میں بی جے پی کے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار کے طور پر میدان میں ہیں

بھارت میں پیر سات اپریل سے ہونے والے عام انتخابات میں ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

اس کی وجہ وزارت عظمیٰ کے عہدے کے امیدوار بی جے پی کے رہنما نریندر مودی کی ذاتی مقبولیت بتائی جا رہی ہے اوراس مقبولیت کا سبب 12 برس کے دوران مودی کے دورِ حکومت میں گجرات کی ترقی کو قرار دیا جارہا ہے۔

نریندر مودی کا دعویٰ ہے کہ وہ بھارت سے بے روزگاری، مہنگائی، بھوک اور غربت کے خاتمے کے ساتھ ہی ملک کی معاشی حالت بھی مستحکم کر دیں گے۔ مودی کے مخالفین بھلے ہی ان کے ترقی کے دعووں کو جھوٹا مانتے ہوں لیکن یہ بات تو طے ہے کہ ان کا یہی دعویٰ ان انتخابات میں ان کی ہار یا جیت کی بنیاد بن سکتا ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ اس الیکشن میں مودی کی ایک دوسری بڑی کامیابی کو بی جے پی بالکل دبا کر بیٹھ گئی ہے۔ اور وہ ہے ان کی فعال اور متحرک ہندو نظریاتی پہچان جس کے سبب وہ برسوں سےگجرات میں انتخابات جیتتے آ ئے ہیں۔

ریاست اتر پردیش کے شہر بنارس سے انتخاب لڑنے والے مودی اب تک ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ پر قائم کیے جانے والے عارضی طور پر تعمیر کیے جانے والے رام مندر میں پوجا کے لیے نہیں گئے ہیں اور نہ ہی انھوں نے وہاں رام مندر بنانے کی بحث چھیڑی ہے، جو بی جے پی ہر انتخاب کے پہلے عادتاً کرتی رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایل کے اڈوانی مودی کو لائے تھے لیکن مودی اپنے گرو سے آگے نکل گئے

لیکن ان انتخابات میں مودی کی ہندو نظریاتی شبیہ سے کنارہ کشی کی وجہ بہت واضح ہے۔ سیکولرازم کے خاتمے اور ہندو راج کے قیام کے مقاصد کے تحت دائیں بازو کے نظریے نے بھلے ہی انھیں گجرات میں فائدہ پہنچایا ہو، ملکی سطح پر یہ حکمت عملی ماضی کے انتخابات میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔

اکتوبر 2001 میں گجرات کا وزیر اعلیٰ بنائے جانے سے پہلے نریندر مودی بی جے پی کی سرپرست تنظیم آر ایس ایس کی جانب سے پارٹی میں ایک متوسط درجے کے کارکن کی حیثیت سے پسِ پردہ کام کیا کرتے تھے۔

ستمبر 2001 میں گجرات کے ضمنی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی غیر متوقع شکست سے گھبرا کر بی جے پی کے سرکردہ رہنما اور اس وقت کے نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی نے مودی کو وزیر اعلیٰ بنا کر گجرات بھیج دیا تھا۔ سرکاری عہدہ سنبھالنا تو دور کی بات ہے، مودی نے اس سے پہلے انتخاب تک نہیں لڑا تھا۔ اڈوانی کا خیال تھا کہ مودی ان کے نمائندے بن کر ان کے اشاروں پر چلیں گے۔

لیکن جب فروری 2002 میں گودھرا شہر میں ایک ٹرین میں آگ لگنے سے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے 59 کارکن ہلاک ہوگئے تو پانچ ماہ قبل بننے والے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی زندگی یک لخت تبدیل ہو گئی اور وہ خود مختار ہوگئے۔

فسادیوں نے ٹرین میں آتش زنی کے لیے اس محلے کے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جس کے قریب اس روز آگ لگنے کے وقت ٹرین رکی تھی۔ اگلے دنوں میں فسادیوں نے گجرات بھر میں سینکڑوں مسلمانوں کو قتل کر ڈالا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مودی نے ہندوتوا کے تمام علمبرداروں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی ہے

اس قتل عام کو مودی نے ہندوؤں کا ردعمل قرار دیا۔ مودی پر الزام لگائے جاتے ہیں کہ انھوں نے فسادات میں بی جے پی اور وی ایچ پی کے جارحانہ رخ کا ساتھ دیا۔ اس واقعے کے بعد ملک ہی نہیں، دنیا بھر کے اپنے حامیوں میں مودی ہندو قلب کے بادشاہ کہلانے لگے۔

فسادات کے آٹھ ماہ بعد گجرات اسمبلی کے انتخابات میں مودی نے بی جے پی کو زبردست کامیابی دلائی۔ تبھی سے وہ مستقل وزیر اعلیٰ بنے ہوئے ہیں۔ لیکن دہلی کے تاج کی تمنّا نے مودی کو اپنے سر سے ہندو نظریاتی تاج اتارنے پر مجبور کر دیا ہے۔

انتخابات کے دوران بی جے پی کے ہندوتوا کے اتار چڑھاؤ کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اصل میں ہندو نظریاتی جماعت ہے لیکن اس کے باوجود پارٹی کی سیاسی زندگی کا پہلا نعرہ ہندوتوا نہیں بلکہ رواداری پر مبنی گاندھی کا نظریۂ سوشلزم تھا۔

اس نعرے کو بی جے پی کے پہلے صدر اٹل بہاری واجپئی نے 1980 میں پارٹی کے قیام کے ساتھ ہی دیا تھا۔ لیکن سنہ 1984 کے عام انتخابات میں یہ نعرہ پٹ گیا۔ بی جے پی کے 224 امیدواروں میں سے صرف دو جیتے اور واجپئی خود ہار گئے۔ یہ بی جے پی کا پہلا رسمی انتخاب تھا۔

سنہ 1977 میں جنتا پارٹی سے ہارنے کے بعد سنہ 80 کے انتخابات میں اندرا گاندھی بڑی کامیابی کے ساتھ واپس آئی تھیں۔ واجپئی سمجھتے تھے کہ ایسے ماحول میں ہندوتوا کے نام پر ووٹ نہیں ملیں گے۔ اسی لیے انھوں نے گاندھی وادی سوشلزم کا نعرہ دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گودھرا میں ٹرین میں آگ کے واقعے کے بعد گجرات میں مسلم کش فسادات نے نریندر مودی کو ہندو قلب کا بادشاہ بنا دیا

لیکن اکتوبر 1984 میں اندرا گاندھی قتل کر دی گئیں اور پھر عام انتخابات میں ان کے بیٹے راجیو گاندھی نے زبردست اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ ایسے میں واجپئی پیچھے ہٹ گئے اور بی جے پی میں ان کے ہم عصر ہندو نظریاتی رہنما لال کرشن اڈوانی کا اضافہ ہوا۔

سنہ 1986 سے 1991 تک اس وقت کے بی جے پی کے صدر اڈوانی نے بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کے تنازعے کو پارٹی کی سیاست کا محور بنایا۔ سنہ 1989 کے انتخابات میں بی جے پی 85 سیٹیں جیت کر لوک سبھا میں تیسری سب سے بڑی جماعت بن گئی اور اس کی حمایت سے مرکز میں حکومت سازی ہوئی۔

1990-91 میں پہلی بار چار ریاستوں میں بی جے پی اقتدار میں آگئی۔ اس میں سب سے اہم کامیابی ریاست یو پی کی رہی جہاں ایودھیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مدھیہ پردیش، راجستھان اور ہماچل پردیش میں آزادی کے بعد یہ کانگریس کی پہلی شکست تھی۔

سنہ 1991 کے عام انتخابات سے آٹھ ماہ قبل اگست 1990 میں اڈوانی نے بابری مسجد کے مقام پر رام مندر بنانے کے لیےگجرات سے ایودھیا تک رتھ یاترا شروع کی جس کے سبب ملک بھر میں فرقہ وارانہ فسادات برپا ہوئے۔ اکتوبر میں اڈوانی بہار میں گرفتار کر لیے گئے۔ ایک ہفتے بعد ایودھیا میں بابری مسجد پر حملہ کرنے والے بی جے پی اور وی ایچ پی کے درجنوں کارکن پولیس فائرنگ میں مارے گئے۔

ان واقعات کے سبب ہی ہندوتوا کی فصل لہلہانے لگی اور اقتدار پانے کے لیے بی جے پی نے 1991 میں پہلے کے مقابلے دوگنے امیدوار کھڑے کیے لیکن پھر بھی بی جے پی صرف 120 سیٹیں جیت سکی تاہم وہ پارلیمنٹ میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی بن گئي۔

6 دسمبر 1992 کو بی جے پی اور وی ایچ پی کے کارکنوں نے حملہ کر کے بابری مسجد کو منہدم کر دیا۔ اسی دن کانگریس کی مرکزی حکومت نے بی جے پی کی ریاستی حکومتیں برخاست کر دیں اور یہیں سے ہندوتوا کی انتخابی بے وفائی کا آغاز ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اٹل بہاری واجپئی کو بی جے پی کے سب سے سیکولر چہرے کے طور پر پیش کیا گيا تھا

ان ریاستوں میں نومبر 1993 کے وسط مدتی انتخابات میں بی جے پی نے جیت کی آس لگائے رکھی، لیکن راجستھان چھوڑ کر تینوں ریاستوں میں اسے بری شکست ہوئی۔ بابری مسجد کا سایہ سنہ 1996 کے لوک سبھا انتخابات پر بھی پڑا اور بی جے پی 161 نشستیں جیت کر سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری لیکن اکثریت کے لیے قابل اعتماد ساتھی اکٹھا نہ کر پانے کے سبب پہلی بار وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونے والے اٹل بہاری واجپئی کو 13 روز بعد ہی استعفیٰ دینا پڑا۔

1998 کے عام انتخابات کے وقت بی جے پی کو اعلان کرنا پڑا کہ وہ بابری مسجد کی جگہ پر رام جنم بھومی کے مسئلے کو ’دھیمی آنچ‘ پر ڈال رہی ہے۔ اپنی جان بچانے کے لیے بی جے پی ہندوتوا کی ڈوبتي کشتی سے کود پڑی۔ تب سے بی جے پی کی ذیلی تنظیمیں تو ہندوتوا کا یہ راگ الاپتی رہتی ہیں لیکن خود بی جے پی انتخابی مہم کے دوران کبھی بھی ہندوتوا اور رام جنم بھومی کی تحریک تک پوری طرح نہیں لوٹ پائی ہے۔

تو کیا ہندوتوا جس دھیمی آنچ پر تھا اس سلنڈر کی گیس ختم ہو چکی ہے؟

اسی بارے میں