سیاسی مٹھائیاں

تصویر کے کاپی رائٹ PM TIWARI
Image caption سندیش مغربی بنگالی کی معروف مٹھائي ہے اور اپنے نام کی طرح یہ لوگوں کو اب پیغام بھی دے رہی ہے

بھارت کے عام انتخابات کے دوران سیاسی رہنماؤں کی ایک دوسرے پر سخت نکتہ چینی سے بھلے ہی ماحول گرم ہو اور سیاسی کارکنوں کے درمیان تلخی کا سماں ہو، لیکن ریاست مغربی بنگال کے شہر کولکتہ میں مٹھائی کی ایک قدیم دکان اپنے خاص انداز سے ماحول میں مٹھاس بھرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہاں انتخابی ماحول سے مکمل طور پر مستفید ہونے کے لیے اہم جماعتوں یعنی ترنمول کانگریس، کانگریس، سی پی ایم اور بی جے پی کے انتخابی نشان والی مٹھائیاں تیار کی جا رہی ہیں۔

لڈّو، برفی اور گلاب جامن کی ہی طرح ’سندیش‘ بنگال کی مشہور مٹھائی ہے۔ آج کل اس دکان پر چاروں اہم جماعتوں کے انتخابی نشان والی یہ مٹھائی (سندیش) گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے اور خوب فروخت بھی ہو رہی ہے۔

یہ مٹھائی سستی نہیں ہے۔ انتخابی نشان والے ایک سندیش کی قیمت 115 روپے ہے۔ اس کو آج کل ’نرواچني مشٹي‘ یعنی انتخابی مٹھائی کے نام سے پکارا جا رہا ہے۔

شہر کے بھوانی پور علاقے میں واقع اس ’بلرام ملّك اینڈ رادھا رام ملّك‘ دکان کے مالک پردیپ ملّك کہتے ہیں: ’ہم نے ہر پارٹی کے انتخابی نشان والے سندیش بنائے ہیں۔ ہر پارٹی کے کارکن اور حامی یہاں سے آرڈر دے کر پچیس، پچاس اور سو سندیش خرید رہے ہیں۔‘

لیکن ان کو ایسی مٹھائی بنانے کا خیال کیسے آیا؟ جواب دیتے ہوئے ملّك کہتے ہیں: ’ہم نے گذشتہ اسمبلی انتخابات میں بھی مقامی جماعتوں کے انتخابی نشان والے سندیش بنائے تھے۔ تب وہ کافی مقبول ہوئے تھے اور بکے تھے، اس لیے ہم نے ان پارلیمانی انتخابات کے موقعے پر بھی انھیں تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PM TIWARI
Image caption یہ مٹھائی روزانہ ایک ہزار کی تعداد میں تیار کی جا رہی ہے

ان کا کہنا تھا ’درگا پوجا اور کرسمس کی طرح بنگال میں انتخابات بھی کسی جشن سے کم نہیں ہوتے، اس لیے انتخابی نشان والی مٹھائی بنانے کا خیال آيا تھا اور اب تو یہ آئیڈیا کافی ہٹ ہو گیا ہے۔‘

مہنگی ہونے کے باوجود مختلف جماعتوں کے حامیوں کے علاوہ عام لوگ بھی اسے خرید کر اپنے دوستوں اور اہل خانہ میں تقسیم کر رہے ہیں۔

دکان پرموجود ایک خریدار موہن گپتا نے چاروں سیاسی جماعتوں کے نشان والے سندیش کا آرڈر دیا تھا۔ وہ اس مٹھائی کوگھر میں سجا کر رکھنا چاہتے ہیں۔

موہن کہتے ہیں: ’بہت اچھا لگ رہا ہے۔ چاروں بڑی پارٹیوں کے انتخابی نشان والی مٹھائی ایک ساتھ دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ کم سے کم یہ یہاں تو ایک ساتھ ہیں۔ لوگ اس کا مزا لے سکتے ہیں۔‘

شہر میں اس دکان کی پانچ شاخیں ہیں اور ان سب پر انتخابی نشان والی مٹھائیوں کی بہت مانگ ہے۔ مٹھائی بنانے والے کاریگر مہندر بتاتے ہیں: ’روزانہ ہم پانچ سو سے ایک ہزار پیس تک مٹھائی بنا رہے ہیں۔ ترنمول کانگریس اور بی جے پی سمیت تمام جماعتوں کے لوگ خرید کر دوستوں اور رشتہ داروں کو تحفے کے طور پر دے رہے ہیں۔‘

معاملہ سندیش تک ہی محدود نہیں رہے گا، آگے کئی اور منصوبے بھی ہیں۔ ملّك بتاتے ہیں: ’آگے جو پارٹی جیتے گی اس کے انتخابی نشان والی مختلف ڈیزائن کی مٹھائیاں تیار کی جائیں گی۔‘

دکان کے مالکان نے بنگال میں ووٹنگ کا عمل شروع ہونے کے دن یعنی 17 اپریل سے نمو ( نریندر مودی)، راگا (راہل گاندھی) اور دیدی ( ممتا بینرجی) والے سندیش بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

ان مٹھائیوں پر ان رہنماؤں کے چہرے کندہ ہوں گے۔ بالکل اسی طرز پر جیسے فی الحال وہ انتخابی علامات کی شکل میں تیار کی گئی ہیں۔

اسی بارے میں