کابل ایک گہری نیند سے جاگ اٹھا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کابل اسی طرح زندگی سے بھرپور اچھا لگتا ہے

افغان اتنے نامساعد حالات میں بھی کافی ’اینٹرپرائزنگ‘ ثابت ہوئے ہیں۔

ایک لطیفہ ہے کہ ایک افغان نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے ایک بیٹا دے، ایک گدھا دے اور ایک چمڑے کی رسی دے دے باقی میں خود بندوبست کر لوں گا۔ آج کا افغان مانگتا ہوگا کہ امن دے، اتحاد دے اور ہمسایوں کے شر سے پناہ دے باقی میں خود سنبھال لوں گا۔

صدارتی انتخابات کے دوران سکیورٹی بھی افغانوں نے خود کامیابی سے سنبھال لی تھی۔ اس کے بعد اب ایسا لگتا ہے جیسے دارالحکومت کابل کئی روز کی گہری نیند کے بعد جاگ اٹھا ہے۔

اب زندگی واپس لوٹ آئی ہے، بازار اور دکانیں کُھل گئی ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز، جنہوں نے پورے شہر کو کئی روز سے نرغے میں لیا ہوا تھا اب خال خال ہی دکھائی دیتی ہیں۔

قدم قدم پر پولیس چوکیاں اب ختم کر دی گئی ہیں۔ سڑکوں پر ٹریفک بھی بحال ہوچکی ہے۔ دفاتر کھل گئے ہیں اور لوگوں نے بھرپور انداز میں بازاروں کا رخ کر لیا ہے۔

کابل اسی طرح زندگی سے بھرپور اچھا لگتا ہے۔ اسی طرح بری نظرِ بد سے بچا رہے۔

صدارتی انتخابات اور غیرملکی فوج کے انخلاء کے اعلان کے بعد سے اس کی ترقی کو ایک بریک ضرور لگا ہے۔ چیزیں جیسے اپنی جگہ منجمد ہوگئی ہیں۔ تعمیراتی عمل بھی رک سا گیا ہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ سرمایہ کاری بھی رک گئی ہے۔ سرمایہ کاروں کو اب انتظار ہے کہ سکیورٹی صورتحال کیا رخ لیتی ہے۔ انتخابات کے کامیاب انعقاد کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں کا حوصلہ مضبوط ہوا ہوگا۔

اربوں ڈالر کے نیو کابل سٹی منصوبے کے بارے میں بھی امید کی جا رہی ہے کہ چند ماہ میں بس شروع ہونے والا ہے۔

پرانے شہر کا مسئلہ نکاسی آب ہے۔ ایک ماہر نے بتایا کہ پورے شہر میں یہ نظام تعمیر کرنے پر تین ارب ڈالر کی رقم لگ سکتی ہے لہذا اس سے ڈبل قیمت میں پورا شہر بسایا جاسکتا ہے۔

اس شہر میں سو دو سو مربع کلومیٹر وسعت کے پارک ہوں گے تو باقی کیسا ہوگا یہ منصوبہ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یہ منصوبہ کئی نجی کمپنیوں کے اشتراک سے یعنی کئی ’ملک ریاض‘ مل کر بنا رہے ہیں۔

اسی بارے میں