انتخابات اور کشمیری نوجوانوں کا ’پرامن جہاد‘

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں کل (جمعرات) سے مرحلہ وار ووٹنگ ہو رہی ہے تاہم اس سے قبل کشمیر کے نوجوانوں نے سکیورٹی پابندیوں، گرفتاریوں اور اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن کے خلاف پرامن احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

مختلف تعلیمی اداروں کے طلبا نے بدھ کو سرینگر میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر نوجوانوں کے سیاسی استحصال کے خلاف ’پرامن جہاد‘ کا اعلان کیا گیا۔

ان نوجوانوں نے کشمیر میں نافذ سخت فوجی قوانین خاص طور پر آرمڈ فورسز سپیشل پاورس ایکٹ (افسپا) کے قانون کے خاتمہ کا مطالبہ کیا۔

مظاہرے میں شریک عدنان نامی ایک طالب علم نے بتایا ’سیاستدان ہمارا استحصال کرتے ہیں۔ وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو اعلی نوکریاں دیتے ہیں لیکن عام نوجوانوں کو کالے قوانین کے تحت قید کیا جاتا ہے۔‘

ایک اور نوجوان ثاقب عمر نے بتایا ’اگر افسپا جیسے قوانین کو ختم نہ کیا گیا تو کشمیر میں ایسی تحریک چلے گی جس سے حکومت ہند لرز جائے گی۔‘

اس قانون کے تحت کسی بھی فوجی یا نیم فوجی اہل کار کو اختیار ہے کہ وہ محض شک کی بنا پر کسی کو گرفتار کرے یا کسی گھر کی تلاشی لے یا کسی شخص کو شدت پسند سمجھ کر قتل کردے۔

ایسے کئی واقعات ماضی میں بھی رونما ہوئے اور بعدازاں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ فرضی جھڑپوں میں معصوم شہریوں کو قتل کیا گیا۔

اس مظاہرے کی خاص بات یہ تھی کہ نوجوانوں نے عہد کیا کہ وہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کے لیے پرامن جدوجہد کریں گے۔

عین انتخابات سے قبل سڑکوں کا رُخ کرنے والے ان طلبا کا کہنا تھا کہ جو لوگ انتخابات لڑتے ہیں وہ نوجوانوں کا استحصال کرتے ہیں لیکن پارلیمان یا اسمبلی میں نوجوانوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ کشمیر میں ہر بار ایسا ہوا ہے کہ ہند مخالف تحریک کے کسی خونیں دور کے بعد ایک سیاسی لہر چلی ہے جس کے تحت نوجوان سماجی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کرنے کے لیے نیا سیاسی لہجہ اختیار کرتے ہیں۔

کیا اس بار بھی ایسا ہورہا ہے؟ اس سوال کے جواب میں کئی گروپوں کے اتحاد کولیشن آف سول سوسائیٹیز کے ترجمان خرم پرویز کہتے ہیں ’حکومت عوام کے سبھی حلقوں کو سیاسی عمل کی اجازت نہ دے کر یہاں مسلح تشدد کے لیے ماحول بنا رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’آج بھی اُن نوجوانوں کو ستایا جارہا ہے، انھیں گرفتار کیا جا رہا ہے جو آزادی کی بات کرتے ہیں۔ کشمیریوں کو سیاسی سپیس نہ دے کر ہند نوجوانوں میں انتقامی جذبات بھڑکانے کی مرتکب ہورہی ہے۔‘

قابل ذکر ہے کہ انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہوتے ہی یہاں کے متعدد تعلیم یافتہ نوجوان مختلف سیاسی گروپوں میں شامل ہوگئے۔ علیحدگی پسند رہنما اکثر یہ کہتے ہیں کہ ہند نواز سیاسی گروپ کشمیریوں کے جذبات کا استحصال کرتے ہیں لیکن اکثر نوجوان انتظامیہ یا سیاسی ڈھانچہ کا حصہ بننے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔

ان نوجوانوں کا خیال ہے کہ وہ سسٹم کے اندر داخل ہوکر نوجوانوں کے حق میں حالات بدل سکتے ہیں۔