دہلی میں 64، یو پی میں 65 فیصد ووٹ ڈالے گئے: الیکشن کمیشن

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنہ 2009 کے عام انتخابات کے دوران بی جے پی کو ان 91 نشستوں میں سے محض 13 سیٹیں ملی تھیں لیکن اس بار رائے عامہ کے جائزوں میں بی جے پی کی حالت بہتر ہے

بھارت کے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ لوک سبھا انتخابات کے تیسرے مرحلے میں جمعرات کو ملک کی 11 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی کل 91 سیٹوں کے لیے ووٹنگ ہوئی۔

بھارت کے الیکشن کمیشن کے مطابق زیادہ تر ریاستوں میں گذشتہ لوک سبھا انتخابات کے مقابلے زیادہ ووٹ ڈالے گئے۔

کمیشن نے بتایا کہ دہلی میں 64 فیصد سے زیادہ پولنگ ہوئی جب کہ اتر پردیش کی دس نشستوں پر 65 فیصد سے زیادہ پولنگ ہوئی۔

مدھیہ پردیش کی نو نشستوں پر 60 فیصد سے زیادہ شہریوں نے اپنے ووٹ ڈالے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق بہار میں 55 فیصد، جھارکھنڈ میں 58 فیصد، چھتیس گڑھ میں 51 فیصد، مہاراشٹر میں 58 فیصد، ہریانہ میں 73 فیصد، کیرالہ میں 73 فیصد، چنڈی گڑھ میں 74 فیصد، لکش دیپ میں 80 فیصد، اوڈشا اور انڈمان نکوبار میں 67 فیصد سے زیادہ افراد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

سنہ 2009 کے عام انتخابات کے دوران ان 91 نشستوں میں سے 45 پر کانگریس کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی تھی جب کہ بی جے پی کو محض 13 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی لیکن اس بار کے انتخاب سے قبل رائے عامہ کے جائزوں میں بی جے پی کی حالت بہتر بتائی جا رہی ہے۔

16 ویں لوک سبھا کی تشکیل کے لیے ملک بھر میں نو مراحل میں انتخابات کرائے جا رہے ہیں۔ سات اپریل سے شروع ہونے والے عام انتخابات 12 مئی کو ختم ہوں گے اور 16 مئی کو ووٹوں کی گنتی کی جائے گی۔

نامور امیدوار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سات اپریل سے شروع ہونے والے عام انتخابات 12 مئی کو ختم ہوں گے اور 16 مئی کو ووٹوں کی گنتی کی جائے گی

دہلی میں جن لوگوں کی قسمت کا فیصلہ ہونا ہے ان میں کانگریس کے مرکزی وزیر کپل سبل، کانگریس کی مرکزی وزیر کرشنا تيرتھ، سابق مرکزی وزیر اجے ماکن، دہلی پردیش بی جے پی کے سینیئر رہنما ہرش وردھن، دہلی پردیش کانگریس کے سابق صدر جے پی اگروال، دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ شیلا دکشت کے بیٹے سندیپ دکشت جیسے معروف چہرے شامل ہیں۔

بی جے پی کی ٹکٹ پر پارٹی کے ترجمان مینا کشی لیكھی اور بھوجپوری فنکار منوج تیواری بھی انتخابی میدان میں ہیں، جب کہ عام آدمی پارٹی کی جانب سے دہلی حکومت کی سابق وزیر راکھی بڑلان اور معروف ٹی وی صحافی اشوتوش جیسے نام شامل ہیں۔

دہلی کے علاوہ لوگوں کی نظریں مغربی اتر پردیش کی دس نشستوں پر بھی ہوں گی۔ اس میں فساد زدہ مظفرنگر، کیرانہ، سہارن پور، میرٹھ، بجنور، بلند شہر، علی گڑھ، پت، غازی آباد اورگوتم بدھ نگر کے پارلیمانی علاقے بھی شامل ہیں۔

راشٹریہ لوک دل کے صدر اور مرکزی وزیر اجیت سنگھ بھی انتخابی میدان میں ہیں۔

غازی آباد سے سابق فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ بھی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مغربی اتر پردیش سے فلمی ستارے جیا پردا (آر ایل ڈی کے ٹکٹ پر بجنور سے)، نغمہ (کانگریس کے ٹکٹ پر میرٹھ سے) اور راج ببر (کانگریس کے ٹکٹ پر غازی آباد) سے اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ اداکارہ کرن کھیر چندی گڑھ سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔

اس کے علاوہ مہاراشٹر کے ودربھ علاقے کے عوام بی جے پی کے سابق صدر نتن گڈکری کی قسمت کا فیصلہ بھی کریں گے۔

کیرل کی ترونتپرم سیٹ سے ششی تھرور مسلسل دوسری بار انتخاب جیتنے کے ارادے سے انتخابی میدان میں ہیں۔

اسی بارے میں