’مودی بھارت کی شناخت کے لیے خطرہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فی الحال تمام انتخابی جائزوں میں مسٹر مودی آگے نظر آتے ہیں

سلمان رشدی اور انیش کپور سمیت کئی سرکردہ ادیبوں، دانشوروں اور فنکاروں نے بی جے پی کے لیڈر نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے امکان پر ’گہری فکر’ کا اظہار کیا ہے۔

ان ادیبوں نے برطانوی اخبار گارڈین کو ایک خط میں کہا ہے کہ اگر مسٹر مودی وزیر اعظم بن جاتے ہیں ’تو ایک ایسے ملک کے طور پر ہندوستان کی شناخت خطرے میں بڑ جائے گی جہاں سب کو ساتھ لےکر چلنے کی روایت ہے اور ہر مذہب اور برادری کے لوگوں کا تحفظ کیا جاتا ہے۔‘

اس خط پر شہری حقوق کے لیے کام کرنے والے برطانوی کارکنوں، سینیئر وکلا اور تین اراکینِ پارلیمان نے بھی دستخط کیے ہیں۔

نریندر مودی بھارت کی وزارت عظمیٰ کے لیے بی جے پی کے امیدوار ہیں اور فی الحال وہ بظاہر اس دوڑ میں آگے نظر آ رہے ہیں۔ مسٹر مودی کے مخالفین ان پر مذہبی منافرت کی سیاست کا سہارے لینے کا الزام لگاتے ہیں۔ ان پر گجرات میں سنہ 2002 کے مذہبی فسادات روکنے کے لیے خاطر خواہ کارروائی نہ کرنے کا بھی الزام لگایا جاتا ہے لیکن ان کے خلاف کبھی کوئی جرم ثابت نہیں ہوا ہے۔

Image caption سلمان رشدی اور دیپا مہتا کے علاوہ دیگر ادیبوں نے بھی اپنی فکر مندی کا اظہار کیا

تاہم گزشتہ برس ستمبر میں مظفرنگر میں ہونے والے مذہبی فسادات کے بعد سے اس الزام میں نئی شدت دیکھنے میں آئی کیونکہ مسٹر مودی نے اپنے قریبی معتمد امت شاہ کو اترپردیش کا انچارج بنایا تھا اور کئی سیاسی جماعتوں کا الزام ہے کہ مسٹر شاہ کو یو پی بھیجنے کا مقصد ووٹروں کو مذہبی بنیاد پر تقسیم کرنا تھا۔

بھارت میں جمعرات کو تیسرے مرحلے کی پولنگ ہوئی جس میں مظفرنگر اور اس کے آس پاس کے اضلاع میں بھی ووٹ ڈالے گئے اور عام تاثر یہ ہے کہ پولنگ میں مذہبی وابستگی نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

فنکار انیش کپور نے گارڈین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’صرف خط پر دستخط کرنے والوں کو ہی نہیں بہت سے دوسری لوگوں کو بھی یہ فکر ہے کہ مسٹر مودی انڈیا کو ہندوتوا کے راستے پر لے جائیں گے۔۔۔ اور اس کے خوفناک نتائج ہوسکتے ہیں۔‘

خط کے جواب میں بی جے پی نے کہا کہ اس پر دسخط کرنے والے لوگوں کا جھکاؤ ’بائیں بازو‘ کی طرف ہے اور وہ ہمیشہ سے بی جے پی پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

خط پر دستخط کرنے والے دوسرے لوگوں میں ماہر اقتصادیات پربھات پٹنائک، مورخ گیتا کپور اور فلم ساز دیپا مہتا بھی شامل ہیں۔

کنڑ زبان کے مشہور ادیب ڈاکر اننت مورتھی نے اعلان کیا تھا کہ اگر مودی وزیر اعظم بن جاتے ہیں تو وہ انڈیا چھوڑ کر چلے جائیں گے۔

فی الحال تمام انتخابی جائزوں میں مسٹر مودی آگے نظر آتے ہیں اور وہ بظاہر مضبوط قیادت اور اقتصادی ترقی کے اپنے پیغام سے ووٹروں کو متاثر کرنےمیں کامیاب ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں