سابق طالبان رہنما سے ملاقات

Image caption اکبر آغا امریکی فوجوں کے افغانستان میں قیام سے متعلق سکیورٹی کے معاہدے یعنی بی ایس اے کے بھی شدید مخالف ہیں

افغان دارالحکومت کابل میں ایک مکان کے باہر پہنچے تو چند مسلح لوگوں کو بیٹھے پایا۔ یہاں سکیورٹی یا تو سرکاری لوگوں کی ہے یا اس قسم کے غیرسرکاری لوگوں کی۔ یہ مکان ہے اُس شخص کا جسے دس سال پہلے اقوام متحدہ کے تین اہلکاروں کو کابل سے اغوا کرنے کے الزام میں سولہ سال قید کی سزا دی گئی تھی۔

البتہ صدر حامد کرزئی نے انھیں دو ہزار نو میں معافی دیتے ہوئے رہا کر دیا۔ رہتے تو وہ کسی اور مکان میں ہیں لیکن ہمیں بظاہر ان کے اس مکان میں لے جایا گیا جسے وہ شاید حجرے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ دروازے سے داخل ہوں تو ایک مٹی سے اٹی گاڑی جسے شاید دس برسوں سے وہاں سے ہلایا نہیں گیا پنکچرڈ کھڑی ہے۔ ہمیں اس کمرے میں لے جایا گیا جہاں چند صوفے پڑے تھے۔ ساتھ قالین والا کمرہ شاید فرشی اجلاسوں کے لیے مختص تھا۔

تھوڑی دیر بعد ہی پٹوں لپیٹے، بڑے سے چہرے پر اسی طرح کی لمبی سیاہ گھنی داڑھی سابق اہم طالبان رہنما اکبر آغا کمرے میں داخل ہوئے۔

دعا سلام کے بعد وہ سامنے ایک صوفے پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے۔ انھیں کراچی میں پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے دو ہزار چار میں گرفتار کیا تھا۔ ڈیڑھ ماہ پاکستانی حراست میں رکھنے کے بعد انھیں امریکیوں کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ آج کل وہ کہتے ہیں وہ نہ حکومت کا حصہ ہیں نہ طالبان کا۔ لیکن جیش المسلمین نامی ایک جماعت کی قیادت کر رہے ہیں۔

حالیہ افغان صدارتی انتخابات کی ان کا کہنا ہے کہ وہ نہ حمایت کرتے ہیں اور نہ مخالفت۔ وہ اپنی ہی ایک کوشش میں مصروف ہیں جس میں وہ غیرجانبدار علماء اور ایسے سابق مجاہدین کے اشتراک سے، جنھوں نے لڑائی میں حصہ نہ لیا ہو، افغانوں کو اختیار دلوا کر افغانستان کا قضیہ خود حل کرنا چاہتے ہیں۔

’خارجیوں سے ملک کو مکمل طور پر پاک کروا کر افغان خود یہ مسئلہ حل کر سکتے ہیں۔ لوگ افغان حکومت اور طالبان دونوں سے ناراض ہے اور پھر دونوں لڑ لڑ کر تھک بھی گئے ہیں۔ ایک جانب اگر کرزئی غیرملکیوں کو لے کر آئے ہیں تو دوسری جانب بدعنوانی بھی بڑھی ہے۔ گورنری اور ضلعی عہدے فروخت ہوتے ہیں۔ دوسری جانب طالبان کی لڑائی اور تشدد سے لوگ تنگ آچکے ہیں۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے طالبان ذرائع دبئی یا کہیں اور کرزئی کے ساتھ کسی قسم کے رابطوں یا مذاکرات کی تردید کرتے ہیں۔اکبر آغا کرزئی حکومت پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ بات چیت میں مخلص نہیں۔

’طالبان اخلاص کے ساتھ قطر گئے تھے لیکن یہ سب حامد کرزئی نے خراب کروا دیا۔ لیکن یہ بھی واضح ہے کہ طالبان محض جنگ کے ذریعے دوبارہ قبضہ نہیں کر سکتے ہیں۔ اب اس کا بھی امکان نہیں رہا۔‘

اکبر آغا امریکی فوجوں کے افغانستان میں قیام سے متعلق سکیورٹی کے معاہدے یعنی بی ایس اے کے بھی شدید مخالف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مجوزہ معاہدہ نہ صرف افغانستان بلکہ اس خطے کے لیے ایک مصیبت ہے۔

’یہ جنگ کو دوام دے سکتی ہے۔ میں ان کے قیام سے متفق نہیں جو لوگ اس کی حمایت کر رہے ہیں وہ دراصل اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔ امریکیوں کے پاس پیسہ ہے جس سے افغان رہنما اپنا کاروبار چمکا رہے ہیں۔‘

طالبان کی سوچ سمجھنے کے لیے میں ایک افغان تجزیہ کار نظر محمد مطمئن کے پاس پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات اس سے قبل بھی دو مرتبہ ہوچکے ہیں لہٰذا جب تک صلح یا مصالحت نہیں ہوتی ان سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

’یہ درست ہے کہ افغان حکومت مذاکرات کی خواہاں ہے لیکن طالبان کہہ چکے ہیں کہ جب تک غیرملکی موجود ہیں ان کی مسلح مزاحمت جاری رہے گی۔ ایسے میں اگر بی ایس اے پر دستخط ہوتے ہیں تو اس سے جنگ مزید طول پکڑ سکتی ہے۔‘

نظر محمد مطمئن کے خیال میں اگر ڈاکٹر اشرف غنی احمدزئی یا ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ میں سے کوئی ایک بھی صدر بنا طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع ہونے کے امکان کم ہیں۔ ’عبداللہ عبداللہ کے بارے میں تو طالبان کا موقف واضح ہے لیکن اشرف غنی کی ٹیم (جنرل رشید دستم) متنازع ہے۔ میرا نہیں خیال کہ اشرف غنی سے بات چیت کرسکتے ہیں۔ تو جو بھی نئی حکومت آئے گی مشکل ہے کہ طالبان ان سے مذاکرات پر رضامند ہوں گے۔‘

Image caption خارجیوں سے ملک کو مکمل طور پر پاک کروا کر افغان خود یہ مسئلہ حل کر سکتے ہیں: آغا اکبر

پوچھا کہ اب غیرملکی افواج کی اکثریت تو واپس جا رہی ہے تو طالبان کا موقف کمزور نہیں ہوگا؟ جواب تھا کہ اگر طالبان افغان فوج سے لڑیں گے تو خدشہ ہے کہ بعض غیرملکی قوتیں چاہیں گی کہ ان میں یہ لڑائی جاری رہے نا ایک کا پلڑا بھاری ہو نہ دوسرے کا۔ ’ایسے میں امکان ہے کہ یہ لڑائی کئی برسوں مزید جاری رہے۔‘

اکبر آغا اور نظر محمد مطمئن کی باتیں سن کر جب روانہ ہوا تو محسوس ہوا کہ افغانستان میں اگرچہ زمینی حالات میں تبدیلی کافی آئی ہے لیکن صلح اور مذاکرات کے ذریعے حل میں ابھی وقت لگے گا۔ واپسی میں گاڑی کے ڈرائیور نے ایسا سوال کیا جس کا میرے پاس جواب نہیں تھا۔ کہنے لگا ’طالبان تو منحرف لوگوں کو زندہ نہیں چھوڑتے تو پھر اکبر آغا جیسے لوگ زندہ کیوں ہیں؟‘

اسی بارے میں