کیا اس حمام میں بھی سب ننگے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption راہول گاندھی کا الزام یہ تھا کہ جس شخص نے کبھی اپنے حلف ناموں میں اپنی بیوی کا ذکر تک نہیں کیا، اس سے عورتوں کے احترام کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا وہ سب سے بڑا راز کیا تھا جو افشاں تو اب ہوا ہے لیکن جسے پہلے سے ہی سوا ارب لوگ جانتے تھے؟

آپ نے شاید پہلے یہاں وہاں کہیں دوران گفتگو سنا ہو کہ ہندوستان میں سیاسی پارٹیاں ایک غیر تحریری ضابطہ اخلاق پر عمل کرتی ہیں جس کے تحت سینئر رہنماؤں کے اہل خانہ کی نجی زندگیوں کو سیاسی الزام تراشی کے دائرے سے باہر رکھا جاتا ہے۔

اور ہندوستان میں میڈیا بھی نجی زندگیوں کی کوریج سے اکثر گریز کرتا ہے۔ 2012 میں جب عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کیجریوال نے پرینکا گاندھی کے شوہر رابرٹ وڈرا پر زمینوں کی خریدو فروخت میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا الزام لگایا تو پارٹی کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے یہ حیرت انگیز بیان دیا تھا:

’سیاست کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں، اروند کیجریوال نے ایک حد پار کی ہے۔۔۔ ہمارے پاس بھی بی جے پی کے سینئر رہنماؤں (مسٹرسنگھ نے ٹی وی پر رہنماؤں کے نام بھی لیے تھے) کے قریبی رشتہ داروں کے خلاف شواہد موجود ہیں لیکن کیا ہم نے کبھی ان کے خلاف ایک لفظ بھی کہا ہے۔۔۔؟‘

بظاہر یہ ’اصول‘ بالکل مجبوری کی حالت میں ہی توڑے جاتے ہیں۔ جب راہول گاندھی نے ایک انتخابی جلسے میں وزارت عظمی کے لیے بی جے پی کے امیدوار نریندر مودی کی شادی پر سوال اٹھائے تو بی جے پی نےدو ٹوک الفاظ میں وارننگ جاری کی: راز ہمیں بھی معلوم ہیں!

راہول گاندھی کا الزام یہ تھا کہ جس شخص نے کبھی اپنے حلف ناموں میں اپنی بیوی کا ذکر تک نہیں کیا، اس سے عورتوں کے احترام کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟ یہ ایک الگ بحث ہے لیکن بی جے پی کے جواب سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سیاست کے اس اصول پر کس حد تک عمل ہوتا ہے۔

راجیہ سبھا میں پارٹی کے لیڈر ارون جیٹلی نے کہا ہے کہ ’ کئی کانگریسی رہنما صرف الیکشن کے ٹائم پر ہی اپنی بیویوں کو پریڈ کراتے ہیں!‘

’ایسے کتنے موجودہ سینئر کانگریسی رہنما ہیں جن کے غیر ازدواجی تعلقات ہیں اور وہ صرف الیکشن کے ٹائم پر ہی اپنی بیویوں کے ساتھ نظر آتے ہیں؟

ان کے بقول ’اگر لوگوں کو نریندر مودی کے قانونی رشتوں کے بارے میں جاننے کا حق ہے تو انہیں کانگریسی رہنماؤں کے غیرازدواجی تعلقات کے بارے میں بھی بتایا جانا چاہیے۔‘

مسٹر جیٹلی نے یہ بھی کہا کہ ’راہول گاندھی کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کانگریس کے ایک سابق وزیر اعظم کی ’ڈسٹربڈ’ ازدواجی زندگی کو کبھی سیاسی اشو نہیں بنایا گیا۔۔۔ سیاست کا ایک اصول ہے، ہم خاندانوں اور خواتین کو نشانہ نہیں بناتے۔‘

مسٹر جیٹلی کا اشارہ کس طرف تھا، اور اگر مسٹر دگ وجے سنگھ کی طرف سے کوئی جواب آتا ہے تو ان کا اشارہ کس طرف ہوگا، سیاسی اور صحافتی حلقوں میں یہ کوئی راز نہیں ہے، اکثر آپ کو پرانے اور نئے رہنماؤں کے بارے میں طرح طرح کی افواہیں سننے کو مل ہی جاتی ہیں۔

لیکن کیا غیر ازدواجی تعلقات واقعی کسی کی سیاسی رہنما کا ’نجی’ معاملہ ہوتے ہیں یا یہ ایک ایسا پیمانہ ہے جس سے ان کے کردار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے؟

شاید انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ آپ دنیا کے کس حصے میں رہتےہیں۔ امریکی صدر بل کلنٹن کا آج بھی جب ذکر ہوتا ہے تو مونیاکا لیوئنسکی کی تصویر بھی ذہن میں ابھرتی ہے لیکن فرانس کے صدر کی زندگی ایک نئی خاتون اول کے ساتھ پھر رواں دواں ہے!

ہندوستان میں ہی مسلح افواج پر اگر نظر ڈالیں تو غیر ازدواجی تعلقات کی بنیاد پر گزشتہ کچھ عرصے میں ہی کئی افسران کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

ارون جیٹلی کے انتباہ کے بعد راہول گاندھی نے کہا ہے کہ مسٹر مودی کی نجی زندگی کو نشانہ نہیں بنا رہے تھے، وہ صرف ان کے حلف نامے کی تفصیلات کی طرف توجہ دلا رہے تھے۔

یہ بات ایک دو دن میں ہی واضح ہوجائے گی کہ جماعتوں کے درمیان سیاست کا یہ اصول محفوظ رہے گا یا نہیں۔ اگر بالآخر یہ اصول ٹوٹتا ہے تو فی الحال تو سیاسی بحث کا معیار اور گرجائے گا لیکن مستقبل میں شاید سیاسی رہنما دوسرے روایتی اصولوں پر زیادہ توجہ دیں گے تاکہ اس اصول کی ضرورت ہی نہ پڑے!

اسی بارے میں