مودی کی لہر نہیں ہے لیکن کب تک؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’ اب کی بار، بی جے پی سرکار۔‘ صرف 32 منٹ میں انھوں نےاپنا ٹویٹ بدلتے ہوئے کہا: ’اب کی بار، مودی سرکار!‘

مودی کی لہر نہیں ہے لیکن کب تک؟

الیکشن کا سیزن ہو تو ڈائری کا دائرہ بھی سیاست تک ہی محدود ہو جاتا ہے کیونکہ ملک میں اس وقت باقی سارے کام رکے ہوئے ہیں۔ لیکن سیاسی پھلجھڑیوں کی کمی نہیں ہے۔

مرلی منوہر جوشی کو ہی لیجیے، وہ بی جے پی کے سب سے سینیئر رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ وہ بنارس سے الیکشن لڑنا چاہتے تھے لیکن ہندوؤں کے اس مقدس ترین شہر پر نریندر مودی کی نگاہیں تھی اور آج کل بھلا بی جے پی میں نریندر مودی کے سامنے کس کی چلتی ہے۔

مرلی منوہر جوشی کو الیکشن لڑنے کے لیے کانپور جانا پڑا، اب انھوں نے دو دلچسپ باتیں کہی ہیں: ملک میں نریندر مودی کی لہر نہیں بی جے پی کی لہر ہے اور گجرات میں ترقی کا ماڈل پورے ملک کے لیے اختیار نہیں کیا جاسکتا۔

بی جے پی کے مخالفین پہلے سے ہی یہ کہہ رہے تھے۔ لیکن مسٹر جوشی کی بات زیادہ مستند ہے، ان سے کون بحث کر سکتا ہے، وہ وزیر خزانہ بھی رہ چکے ہیں اور بی جے پی کا انتخابی منشور بھی انھی نے تیار کیا ہے۔

چند روز قبل بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’ اب کی بار، بی جے پی سرکار۔‘ صرف 32 منٹ کے اندر انہوں نےاپنا ٹویٹ بدلتے ہوئے کہا:’اب کی بار، مودی سرکار!‘

جوشی صاحب کے بیان کو 32 منٹ سے زیادہ وقت گزر چکا ہے، انھوں نے راج ناتھ سنگھ کا ریکارڈ تو توڑ دیا، اب بس دیکھنا یہ ہے کہ انھیں مودی کی لہر نظر آنے میں کتنا وقت لگتا ہے۔

اڈوانی کو اب بھی ذمہ داری کا انتظار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اشاروں کی زبان ایڈوانی سمجھنا نہیں چاہتے۔

ادھر گجرات سے خبر ہے کہ جوشی کے پرانے لیڈر اور ہندوستانی سیاست کے سب سے پرانے ’یاتری‘ لال کرشن ایڈوانی اب بھی اپنا سیاسی سفر جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کے بعد پارٹی انھیں جو بھی ذمہ داری دےگی وہ اسے نبھائیں گے۔ بس مسئلہ یہ ہے کہ پارٹی اب انھیں کوئی ذمہ داری دینا نہیں چاہتی اور اشاروں کی زبان مسٹر ایڈوانی سمجھنا نہیں چاہتے۔

اگرسمجھتے تو بھوپال سے الیکشن لڑنے کا اصرار نہ کرتے اور جب ان کی چلی نہیں تو واپس گاندھی نگر کا رخ نہیں کرتے۔ بہرحال، کسی کو ان سے یہ ضرور پوچھنا چاہیے کہ کیا گاندھی نگر میں انھیں نریندر مودی کی لہر نظر آرہی ہے؟ وہ تو مودی کا گھر ہے۔ اور اگر آ رہی ہو تو اس سے پہلے کہ کہیں اور سے ٹیلی فون پہنچے، وہ اپنے پرانے ساتھی مرلی منوہر جوشی کو ضرور اطلاع کردیں۔

من موہن سنگھ کمزور وزیر اعظم تھے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption من موہن سنگھ کمزور وزیر اعظم تھے، یہ بات کوئی راز نہیں ہے

وزیراعظم من موہن سنگھ پر ان کے اپنے ہی سابق مشیر سنجے بارو کی کتاب نے آج کل ہنگامہ مچایا ہوا ہے۔ سنجے بارو نے سوا تین سو صفحات پر مشتمل اپنی کتاب میں ایک بنیادی بات کہی ہے اور وہ یہ کہ من موہن سنگھ بہت کمزور وزیر اعظم تھے، ان کے اپنے وزرا ان کے کنٹرول میں نہیں تھے اور اقتدار کا اصل مرکز دس جن پتھ میں تھا جہاں اتفاق سے سونیا گاندھی رہتی ہیں۔

اتنی سی بات کے لیے اتنی لمبی کتاب لکھنے کی کیا ضرورت تھی، یہ بات تو جوشی اور ایڈوانی تک کو معلوم تھی۔

اسی بارے میں