دو ملک، دو انتخابات: بھارت و افغانستان میں انتخابات پر ایک نظر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بھارت میں راہل گاندھی (بائیں) اور نریندر مودی دو مختلف قسم کی سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں

ھارت میں انتخابات جاری ہیں جبکہ افغانستان میں انتخابات کے بعد گنتی کا عمل جاری ہے۔ مورخ ولیم ڈیل رِمپل نے دونوں ممالک میں مماثلت اور اختلاف پر نظر ڈالی ہے۔

آپ دہلی سے ہوائی جہاز کے ذریعے صرف 90 منٹ میں کابل پہنچ جاتے ہیں۔ پرواز کا یہ وقت دہلی سے بھارت کے دوسرے شہروں ممبئی اور کولکتہ سے بھی کہیں کم ہے۔

مگر جب آپ دہلی کی سرسبز شاہراہوں سے نکل کر افغانستان کے دارالحکومت کابل کی دھول سے بھری سڑکوں، خاردار تاروں سے گھری عمارتوں اور سکیورٹی ناکوں سے گھرے شہر میں پہنچتے ہیں تو لگتا ہے جیسے کسی اور دنیا میں پہنچ گئے ہیں۔

ظاہر ہے کہ افغانستان اور بھارت میں زیادہ مماثلت ہونی بھی نہیں چاہیے۔ بھارت برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک اور کئی لوگوں کی نظر میں ابھرتی ہوئی عالمی طاقت بھی ہے جو سافٹ وئیر کی دنیا، بالی وڈ کے دلکش چہروں، مضبوط معیشت اور امیر تاجروں کی وجہ سے مشہور ہے۔

دوسری جانب افغانستان ہے جسے ایک ناکام ریاست سمجھا جاتا ہے، جو کل تک اسلامی انتہا پسندی کا گڑھ تھا، جو اس وقت ایشیا کا غریب ترین ملک اور دنیا کا تیسرا بدعنوان ترین ملک ہے۔

تاہم دونوں ممالک میں موجود مغلیہ دور کے گنبد ان کی مشترکہ تاریخ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ماضی میں دہلی کا تعلق کابل سے بھارت کے دوسرے حصوں مثلاً چنئی کے مقابلے پر کہیں زیادہ قریبی رہا ہے۔ 1730 کی عشرے تک کابل پر دہلی ہی سے حکومت کی جاتی تھی اور ہندوستان کے کئی عظیم حکمرانوں جیسا کہ اشوکا، کنشک اور شاہ جہاں نے دونوں شہروں پر حکمرانی کی۔

اس ہفتے کابل اور دہلی خود کو ایک بار پھر مشترکہ ڈور میں بندھ گئے ہیں۔ دونوں ممالک میں انتخابی عمل جاری ہے اور اس کے نتائج پورے خطے کے مستقبل پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

ایک عشرے تک دونوں ممالک نے غیر معمولی سیاسی استحکام اور تسلسل کا دور دیکھا ہے۔ صدر کرزئی 2001 سے افغانستان کے صدر ہیں، جبکہ بھارت میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے اقتصادی ماہر اور کانگریس کے رہنما من موہن سنگھ 2004 سے نہرو گاندھی خاندان کے نمائندہ وزیراعظم ہیں۔ تاہم دونوں رہنما اب اپنے دورِ اقتدار کے اختتام تک پہنچ گئے ہیں اور حالیہ انتخابات میں دونوں ممالک میں طاقت کا محور بدلنے والا ہے۔

دونوں ممالک میں انتخابی پسندیدگی کا اظہار شخصی سیاست اور معاشرے میں موجود قدیم اختلافات کی بنیاد پر ہو گا۔

افغانستان میں بنیادی فیصلہ قبائل اور ذات کی بنیاد پر ہو گا جس میں تین نمایاں امیدوار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ، اشرف غنی اور ڈاکٹر زلمے رسول سامنے آئے ہیں اور ان کا تعلق تین مختلف قبائل غزالی، درانی اور تاجک سے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حامد کرزئی 2001 سے افغانستان کے صدر ہیں

دوسری طرف بھارتی انتخابات میں مختلف سوچ اور پس منظر رکھنے والے لوگ انتخابی میدان میں ہیں۔

ایک طرف تو ہندو قوم پسند رہنما نریندر مودی ہیں جو سٹیشن پر چائے بیچنے والے کے بیٹے ہیں، تو دوسری جانب سابق وزیراعظم جواہر لال نہرو کے پڑ پوتے اور اندرا گاندھی کے پوتے راہل گاندھی ہیں۔

یہاں کا انتخاب مختلف قسم کی تفریق کی نشاندہی کرتا ہے جس میں بائیں بازو کا مقابلہ دائیں بازو سے ہے، یعنی سیکیولر نہرو کا مقابلہ فرقہ وارانہ سوچ رکھنے والے قوم پرستوں سے ہے۔

دونوں ممالک کے انتخابات میں سیاست اور مذہب کے درمیان تعلق بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ بھارت میں کانگریس نے سیکیولر ہونے کی بات فخر سے کی ہے جبکہ بی جے پی نے اسی فخر سے کہا ہے کہ بھارت ہندو ملک ہے جس کی حکمرانی دھرم کے اصولوں کے ساتھ کی جانی چاہیے، اور اس نے اپنے انتخابی منشور میں ایودھیہ میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر تعمیر کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

دونوں ممالک میں انتخابات اس سوال پر ریفرینڈم بھی سمجھتے جا سکتے ہیں کہ مذہب کا معاشرے میں کتنا اثر و نفوذ ہونا چاہیے۔

افغانستان میں طالبان کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ کے بعد انتخابات میں حصہ لینا دو دنیاؤں کے درمیان انتخاب ہو گا: ایک وہ جہاں سیاست کو مذہب سے جدا ہو اور دوسری وہ جہاں شریعت کی سخت گیر تعبیر زندگی کے بیشتر پہلوؤں کا احاطہ کرے گی۔

اسی طرح دونوں ممالک کے انتخابات میں معیشت بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ دونوں میں معاشی ترقی کی شرح میں کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ انتظامی معاملات میں غفلت اور بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے ہیں اور اسی تناظر میں عوام میں تبدیلی کی خواہش اجاگر ہو رہی ہے۔

ان سب باتوں کے باوجود میں ان انتخابات کو ایک مختلف نظر سے دیکھتا ہوں۔

میں افغانستان کے تلخ ماضی کے بارے میں پچھلے پانچ سال سے لکھ رہا ہوں۔ یہ ایسا ملک ہے جہاں اگر انتخابات امن و امان سے ہو جاتے ہیں تو میں اسے ایک کامیابی سمجھوں گا۔ دوسری جانب بھارت ایک پرامن ملک ہے اور مجھے اس سے محبت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغان ووٹر ووٹ ڈالنے کے لیے ایک انتخابی مرکز میں موجود ہیں

یہ پچھلے 30 سال سے میرا ملک رہا ہے۔ یہاں ہونے والے انتخابات سے میں بہت پریشان ہوں۔ خصوصاً میری پریشانی بی جے پی کے رہنما نریندر مودی کی جانب سے ہے جنھیں رائے عامہ کے کئی جائزوں میں فاتح سمجھا جا رہا ہے۔

مودی بہت مقبول ہیں اور انھیں بہت لوگوں کی حمایت حاصل ہے، ان کی بھی جن کا تعلق ہندو مذہب سے نہیں ہے۔ وہ ان سب کے لیے معاشی استحکام کی امید ہیں۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ بھارت کی عوام کو کانگریس کی کمزور کارکردگی کے بعد تبدیلی کی خواہش ہے، مگر میں یہ نہیں سمجھ سکتا کہ یہ لوگ کس طرح مودی کے بھارتی مذہبی اقلیتوں کے ساتھ رویے کو بھول سکتے ہیں۔

مگر یہ دونوں انتخابات ایک بات کی نمائندگی ضرور کرتے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی مخالفت کے باوجود 58 فیصد افراد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ ادھر بھارت میں انتخابات کے پہلے دور میں آسام میں 78 فیصدافراد نے ووٹ ڈالے۔

اب چاہے جو جیت جائے، یہ بات تو طے ہے کہ جنوبی اور وسطی ایشیا میں جمہوریت کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا، اور یہ یقیناً بہت اچھی خبر ہے۔

اسی بارے میں