بھارت: ایک ہی خاندان کے 115 ووٹر

Image caption خاندان کے 50 خواتین اور 65 مرد ووٹ ڈالنے کا حق رکھتے ہیں

بھارت کے مشرقی ریاست بہار میں ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے ایک ہی خاندان میں 115 ووٹر ہیں۔ یہ عجیب لگتا ہو گا لیکن یہ خاندان اس بات کو فخریہ انداز میں پیش کرتا ہے۔

بہار کے دارالحکومت پٹنہ کے لوہانپور علاقے میں چندیل خاندان کا پتہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں۔ یہاں ایک چار منزلہ عمارت میں اس خاندان کی چار نسلیں رہائش پذیر ہیں۔

ووٹ کی خاطر سیاست دانوں کا ہر انتخابات کے موقعے پر اس خاندان کے گھر آنا ایک رسم بن گیا ہے۔

یہ خاندان کل ڈیڑھ سو ممبران پر مشتمل ہیں جس میں آٹھ نئے ووٹر بنے ہیں۔ایک ماہ پہلے انتخابات کے علان کے بعد اس خاندان کے ارکین متعدد ووٹ مانگنے والوں سے ملتے ہیں۔

خاندان کے سربراہ 84 سالہ پرشورام سنگھ چندیل کا کہنا ہے کہ ’میں سنہ 1954 میں اس شہر میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے آیا تھا اور سرکاری نوکری ملنے کے بعد یہاں آباد ہو گیا۔‘

سالوں سے اس خاندان نے ایک روایت کو بھی برقرار رکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر انتخابات کے موقعے پر سب سے پہلے گھر کی خواتین ووٹ ڈالنے کے لیے باہر جاتی ہیں۔

خاندان کے 50 خواتین اور 65 مرد ووٹ ڈالنے کا حق رکھتے ہیں۔اس خصوصی خاندان کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ آپس میں صلاح مشورے کرنے کے بعد اتفاق رائے سے ایک ہی امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں۔

آرون کمار جن کے بچوں کو اس دفعہ ووٹ ڈالنے کا حق ملا ہے، انھوں نے کہا کہ ’ہم ایک ایسی حکومت کو ووٹ دیں گے جو ترقی کو یقینی بنائے۔‘

چندیل خاندان کے اراکین کا یہ بھی کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ان کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے سب کے لیے ایک ہی کچن میں کھانا پکانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ manish shandilya BBC
Image caption خاندان اس بات پر افسردہ ہے کہ چند نئی بیاہی گئی دلہنوں نے ابھی تک ووٹر کا شناختی کارڈ حاصل نہیں کیا

پرشورام سنگھ چندیل نے کہا کہ ’گاؤں میں خاندانی زمین پر کاشت کاری سے اس گھر میں چلنے والی باورچی خانوں کا خوراک پورا ہو جاتا ہے۔ لیکن ہماری تمام جائیداد اب تک مشترکہ ہے۔‘

تاہم خاندان اس بات پر افسردہ ہے کہ چند نئی بیاہی گئی دلہنوں نے ابھی تک ووٹر کا شناختی کارڈ حاصل نہیں کیا۔ بھارت میں ووٹ کا حق حاصل کرنے کے یہ کارڈ لازمی ہوتا ہے۔

بھارت میں مشترکہ بڑے خاندان عام ہیں بالخصوص دیہاتی علاقوں میں، لیکن ایک ہی خاندان میں ووٹروں کی بڑی تعداد اس علاقے سے انتخابات لڑنے والے تمام امیدواروں کے لیے دلچسپی کا باعث ہے۔

بھارت میں آج کل عام انتخابات ہو رہے ہیں جو سکیورٹی اور ترسیل کی وجوہات کی بنا پر پانچ ہفتوں پر محیط ہیں۔ ملک میں 543 پارلیمانی سیٹوں پر انتخابات ہو رہے ہیں اور اس میں بہار کی 40 سیٹوں کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں