نیویارک: فلک بوس عمارت کی قرقی کی ایرانی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گذشتہ برس ایک وفاقی عدالت نے اپنے فیصلے میں عمارت کی قرقی کی اجازت دی تھی

ایران نے امریکی حکام کی جانب سے نیویارک کی اس فلک بوس عمارت کی قرقی کے فیصلے کی مذمت کی ہے جس کی مالک فلاحی تنظیم پر ایرانی حکومت سے تعلقات کا الزام ہے۔

مین ہٹن کے علاقے میں واقع اس 36 منزلہ عمارت علوی فاؤنڈیشن کی ملکیت ہے جو کہ ایک ایرانی اور اسلامی کلچرل سنٹر چلاتی ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ جائیداد کی قرقی کا یہ فیصلہ غیرقانونی اور مذہبی آزادی کے خلاف ہے۔

گذشتہ جمعرات کو امریکی محکمۂ انصاف نے فیصلہ کیا تھا کہ اس عمارت کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم ان متاثرین کو دی جائے گی جو ایران نواز شدت پسندوں کے حملوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخام نے سنیچر کو کہا ہے کہ ’ایک غیرجانبدار فلاحی تنظیم کی جائیداد کی ضبطی سے امریکہ کے نظامِ انصاف پر سوال کھڑا ہوجاتا ہے۔‘

2009 کے ایک مقدمے میں امریکی اٹارنی جنرل کے سفتر نے کہا تھا کہ علوی فاؤنڈیشن کا کنٹرول ایرانی حکومت کے پاس ہے تاہم ایران اس الزام سے انکار کرتا ہے۔

گذشتہ برس ایک وفاقی عدالت نے اپنے فیصلے میں اس عمارت کی قرقی کی اجازت دی تھی اور کہا تھا کہ تنظیم امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایرانی اثاثے چھپانے کی مرتکب ہوئی ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان یہ تازہ تنازع امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے اس قانون پر دستخط کے بعد سامنے آیا ہے جس کے تحت اقوامِ متحدہ کے لیے ایران کے نامزد سفیر حامد ابوطالبی کو اس لیے ویزا دینے سے انکار کیا گیا ہے کہ وہ 1979 میں تہران میں امریکی سفارتخانے کے محاصرے میں ملوث تھے۔

اسی بارے میں