تخلیقی نعرے انتخابات میں کامیابی کی ضمانت!

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا نعرہ ہے ’اب کی بار، مودی سرکار‘

کیا کوئی تخلیقی نعرہ انتخابات میں کامیابی کا ضامن بن سکتا ہے؟

بھارت کی سیاسی تاریخ پر اگر نظر ڈالیں تو اس کا جواب ہاں اور نہ دونوں میں ہو سکتا ہے۔

بہت سی سیاسی جماعتوں نے تخلیقی یا اختراعی نعروں کی بنیاد پر جہاں انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے وہیں کئی جماعتیں اپنے غیر مؤثر نعروں کی صورت میں شکست سے دو چار ہوئی ہیں۔

انتخاب جیتنے کی امید میں سیاسی جماعتوں سے منسلک الفاظ کے بازی گر سر جوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں تاکہ کچھ رنگین، پرکشش، اور سریلے مگر بنیادی الفاظ پر مبنی نعرے وضع کر سکیں۔

بھارت کے موجودہ عام انتخابات میں بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے ایسے ہی بہت سے نعروں کی گونج ہے۔ یہ نعرے ہر روز اخباروں میں شائع ہورہے ہیں اور دیگر تشہیری ذرائع سے نشر بھی کیے جاتے ہیں۔

بھارت کی متنوع سیاسی ثقافت میں انتخابی نعرہ ملک کا مزاج جاننے کی سیاسی جماعت کی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ایک اچھا نعرہ جہاں مذہب، علاقائیت، ذات اور زبان کی بنیاد پر تقسیم لوگوں کو متحد کر سکتا ہے تو خراب نعرہ سیاسی عزائم کو زور کا جھٹکا دے سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption کانگریس کا نعرہ ہے: ’ہر ہاتھ شکتی، ہر ہاتھ ترقی‘

ان انتخابات میں اہم اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے وزارت عظیٰ کے عہدے کے اپنے امیدوار نریندر مودی کی مقبولیت پر داؤ کھیلا ہے اور اس کا نعرہ ہے ’اب کی بار، مودی سرکار۔‘

یقیناً یہ نعرہ چل پڑا ہے۔ اس کے پرستار اور مخالفین دونوں کو یکساں طور پر اس نے اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

بی جے پی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ نعرہ اس بات کا مظہر ہے کہ پارٹی مودی کے ’شکنجے‘ میں ہے اور انتخابی مہم میں کسی دوسرے لیڈر کو ان کے مقام کے لائق نہیں سمجھا گیا۔

اس نعرے کے سیاسی فائدے کیا ہوں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن اس وقت یہ نعرہ سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ مداحوں نے اس نعرہ کی مثبت تک بندی بھی کی ہے۔ جیسے ایک میں کہا گیا ہے : ’ٹوئنکل ٹوئنكل لٹل سٹار، اب کی بار مودی سرکار۔‘

حکمراں جماعت کانگریس کے نعرے کا اہم پیغام اتحاد اور سب کی ترقی ہے۔ اس کا نعرہ ہے، ’ہر ہاتھ شکتی، ہر ہاتھ ترقی‘۔

لیکن کانگریس صرف ایک نعرے سے ہی مطمئن نہیں اور دوسرے نعرے میں اس نے ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کو نشانہ بنایا ہے: ’کٹر سوچ نہیں، یوا ( نوجوان) جوش‘۔

اس بار کس جماعت کا نعرہ فتح سے ہم کنار ہوگا اس کا جواب 16 مئی کو ووٹوں کی گنتی سے ملے گا۔ لیکن تب تک ہم بھارت کے سیاسی نعروں کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے 1971 کی انتخابی مہم میں ’غریبی ہٹاؤ‘ کا نعرہ دیا تھا

بھارت میں سیاسی نعروں میں سے کئی تو تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ جیسے کہ ’غریبی ہٹاؤ‘، ’انڈیا شائننگ‘، ’جے جوان جے کسان‘۔

بھارت کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے 1971 کی انتخابی مہم میں ’غریبی ہٹاؤ‘ کا نعرہ دیا تھا جس کی گونج پورے ملک میں سنی گئی اور اس نے کانگریس اور اندرا گاندھی کو بڑی فتح سے ہمکنار کرایا۔

اس وقت بھارتی معیشت کی حالت خستہ تھی اور غریبوں کو اس نعرے میں امید کی کرن دکھائی دی تھی۔

لیکن چار برس بعد ایک عدالت نے ان کی جیت کو غیر قانونی قرار دیا تھا جس کے بعد مسز گاندھی نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔ اس دوران کئی اپوزیشن رہنماؤں کو جیل بھیج دیا گیا اور پریس کی آزادی پر سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

اس کے جواب میں کئی اپوزیشن جماعتوں نے متحدہ طور پر ایک عوامی فرنٹ تشکیل دیا جس نے ’اندرا ہٹاو، دیس بچاو‘ اور ’سمپورن کرانتی‘ یعنی مکمل انقلاب جیسے نعرے دیے۔ اس سے فرنٹ کو 1977 کے انتخابات میں کامیابی ملی تھی۔

اندرا گاندھی کے والد اور ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نعروں سے زیادہ اپنے خطاب کے لیے مشہور تھے۔

لیکن 50 کے عشرے کے اوائل میں ان کا نعرہ ’ہندی، چینی بھائی بھائی‘ کافی مقبول ہوا تھا۔ تاہم چین اور بھارت کے تعلقات تیزی سے خراب ہوئے اور بالآخر 1962 میں دونوں کے درمیان جنگ ہوگئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption 2004 کے انتخابات میں بی جے پی کا معروف ’انڈیا شائننگ‘ کا نعرہ بری طرح ناکام رہا

ان کے بعد بھارت کے دوسرے وزیراعظم لال بہادر شاستری نے آزادی کے بعد سے ملک کا سب سے مقبول نعرہ دیا۔

سنہ1965 میں بھارت پاکستان کے ساتھ جنگ میں الجھا ہوا تھا اور ملک غذائی اشیاء کی قلت سے دو چار تھا۔ شاستری کے نعرے ’جے جوان جے کسان‘ نے نہ صرف ملک کا حوصلہ بلند کیا بلکہ انتخابات میں کانگریس کو جیت بھی دلائی۔

سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے سنہ 1998 میں ایٹمی تجربے کے بعد اس نعرے کو قدرے تبدیل کیا۔ انھوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی بڑھتی اہمیت کو مد نظر رکھ کر کہا ’جے جوان جے کسان، جے سائنس۔‘

بی جے پی سنہ 1996 میں واجپئی کی صاف ستھری شبیہہ کو مد نظر رکھ کر مرتب کیےگئے نعروں کے کی بدولت اقتدار میں آئی تھی۔ انتخابات کے دوران بی جے پی کے کارکنان کا پسندیدہ نعرہ تھا: ’سب کو دیکھا باری باری، اب کی باری اٹل بہاری۔‘

سیاسی جماعتوں نے سنہ 2004 کے انتخابات میں بھی کئی نعرے بنائے تھے اور انتخابی مہم کے لیے پیشہ ورانہ تعلقات عامہ کے اداروں سے خدمات بھی حاصل کیں۔ لیکن باہری لوگوں سے کام لیکر پارٹیوں نے عوام سے کٹ جانے کا خطرہ بھی مول لیا۔

اس کی قیمت بی جے پی کو سنہ 2004 کے انتخابات میں اس وقت اٹھانی پڑی جب اس کا معروف ’انڈیا شائننگ‘ کا نعرہ بری طرح ناکام رہا۔

اس انتخاب میں بی جے پی کے مقابلے سونیا گاندھی کی قیادت والے کانگریس اتحاد کا نعرہ ’عام آدمی کو کیا ملا؟‘ زیادہ عملی تھا اور ’انڈیا شائننگ‘ کا معقول جواب تھا۔

کئی علاقائی جماعتوں کے بھی اپنے خاص انتخابی نعرے رہے ہیں۔ اس میں ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کا نعرہ ’ماں، ماٹی، مانش‘ یعنی ماں، زمین اور انسان اہمیت کا حامل ہے۔

اسی نعرے کی بدولت ممتا بنرجی ریاست بنگال میں کمیونسٹ پارٹی کے 35 برس پرانے راج کم ختم کرنے میں کامیاب ہوئیں اور مغربی بنگال میں اقتدار میں آئیں۔

اسی بارے میں