16 مئی کے بعد من موہن سنگھ کہاں جائیں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption من موہن سنگھ پر سنہ 2004 سے 2009 کے درمیان الزامات لگتے رہے

بھارت میں انتخابی ہلچل میں بحث صرف یہی ہے کہ اگلی حکومت کون بنائے گا؟ اس شور شرابے میں اگر کسی سے لوگوں کی نظریں ہٹ چکی ہیں تو وہ ہیں موجودہ وزیر اعظم من موہن سنگھ۔

زیادہ تر انتخابی ہلچل دہلی کے باہر ہے اور نئی دہلی کے ساؤتھ بلاک میں واقع وزیر اعظم کے دفتر میں من موہن سنگھ کی موجودگی کم ہوتی جا رہی ہے۔

چونکہ ضابطۂ اخلاق نافذ ہے اس لیے نہ تو بڑے فیصلے ہو رہے ہیں اور نہ ہی تبادلے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ایم او میں ان دنوں من موہن سنگھ کا ذاتی سامان پیک کیا جا رہا ہے، جس میں ان کی کتابیں شامل ہیں۔

لیکن اس بات کا کسی کو بھی علم نہیں کہ 16 مئی کے بعد من موہن سنگھ کیا کریں گے یا کہاں ہوں گے؟

دراصل اس سوال کا جواب خود من موہن سنگھ کے خاندان والوں کے پاس بھی نہیں ہے کہ وزیر اعظم کے عہدے کے بعد وہ کیا کریں گے۔

ان کے خاندان کے ایک رکن نے کہا: ’ان میں متحیر کر دینے والے فیصلے کرنے کی زبردست صلاحیت ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ وہ ایسا ہی کچھ کرنے والے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption من موہن سنگھ پر آنے والی کتاب سے ان کی شخصیت اور دور پر روشنی پڑتی ہے

ان کے قریبی افراد پر اعتماد ہیں کہ اب من موہن سنگھ سرگرم سیاست کے میدان میں اترنے والے ہیں۔

من موہن سنگھ پہلے بھی کئی دفعہ اس طرف اشارہ کر چکے ہیں۔ واضح رہے کہ پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے رکن کے طور پر ابھی ان کے پاس پورے چار سال کی مدت بھی ہے۔ اس دوران نہ چاہتے ہوئے بھی انھیں پارلیمان کی سیاسی سرگرمیوں سے دو چار تو ہونا ہی پڑے گا۔

ویسے اطلاعات کے مطابق من موہن سنگھ کے پاس کیمبرج یونیورسٹی سے ایک پرکشش پیشکش بھی ہے۔ انھوں نے کیمبرج سے معاشیات کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے اور انھیں اس ادارے خاص لگاؤ بھی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ من موہن سنگھ کیمبرج میں جا کر کچھ دن کے لیے معاشیات پڑھانے کی پیشکش پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہوں۔ اگر وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں تو اس کے لیے انھیں وقتاً فوقتاً برطانیہ جا کر رہنا ہوگا اور اس طرح وہ خود بخود فعال سیاست سے دور ہو جائیں گے۔

کسی زمانے میں من موہن سنگھ کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی میں کام کرنے والے ایک سابق پروفیسر کا خیال ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں لکھنے پڑھنے میں مصروف ہو جائیں گے۔ ان کے خاندان کے رکن کے مطابق: ’من موہن سنگھ ہمیشہ سے ہی اخبار اور میگزین وغیرہ پڑھتے وقت بھی نوٹ بناتے رہتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption من موہن سنگھ کو سونیا گاندھی کے وفاداروں میں شمار کیا جاتا ہے

لیکن اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے کہ کیا من موہن سنگھ اپنے دس سال کے دورِ اقتدار پر بھی کتاب لکھ سکتے ہیں؟ بعض قریبی لوگوں کا خیال ہے کہ بہت ممکن ہے کہ وہ سونیا اور راہل گاندھی کے لیے پس پردہ مشیر کا کردار ادا کریں گے۔

اگرچہ کانگریس کے ایک بڑے لیڈر نے اسے نظر انداز کر دیا لیکن ان کی طرح بہت سے دوسرے رہنماؤں کو اس بات کا مکمل یقین ہے کہ سونیا گاندھی من موہن سنگھ کو ان کی ایمانداری اور ’وفاداری‘ کے لیے مخصوص جگہ دیتی رہی ہیں۔

اقتصادی معاملات پر من موہن سنگھ کی گرفت کے پیش نظر انھیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، تاہم یہ بھی سچ ہے کہ من موہن سنگھ کے بعض قریبی لوگ اس بات سے بالکل بھی خوش نہیں ہے کہ 2014 کے انتخابات کے پہلے کانگریس پارٹی کے بڑے رہنماؤں نے من موہن دور کا بچتے بچاتے ہی ذکر کیا۔

زیادہ توجہ راہل گاندھی کی قیادت میں ’پروان چڑھنے والی‘ نوجوان پارٹی پر ہی رہی۔ خود من موہن سنگھ نے پارلیمنٹ سے لے کر پارٹی اجلاسوں تک میں راہل کے نام پر مہر بھی لگائی لیکن انتخابات سے ٹھیک پہلے انھیں ’ریٹائرڈ‘ سا قرار دینے کی بات سے وہ دلبرداشتہ ضرور ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption من موہن سنگھ نے کئی بار راہل گاندھی کو آگے بڑھانے کی کوشش کی

شاید یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں ان کے سابق میڈیا مشیر سنجے بارو کی کتاب ’دی ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر‘ یعنی ’اتفاقی وزیراعظم‘ شائع ہونے کے فوراً بعد من موہن سنگھ کی بیٹیوں نے اپنے والد کے دفاع میں بیان دیے۔

من موہن سنگھ کے دوسرے دور میں میڈیا مشیر پنکج پچوری نے ایک پریس کانفرنس میں زور دے کر کہا: ’وزیر اعظم نے گذشتہ دس سالوں میں ایک ہزار سے زیادہ تقاریر کیں۔‘

جب من موہن سنگھ وزیر خزانہ تھے اس دور میں ان کے ساتھ کام کرنے والے بعض لوگ بتاتے ہیں کہ ’وہ اپنی ایماندارانہ شبیہہ کے پیشِ نظر ہمیشہ سنجیدہ رہے اس لیے فیصلے کرنے سے قبل وہ پورا وقت بھی لیتے ہیں۔‘

بہر حال من موہن سنگھ نے اس فیصلے میں زیادہ دیر نہیں لگائی کہ وہ سات ریس کورس (وزیر اعظم کی رہائش) چھوڑنے کے بعد دہلی میں کہاں رہیں گے۔

انھوں نے اپنی بیوی گرچرن کورکے ساتھ انتخابات کے اعلان سے قبل ہی یہ طے کر لیا تھا کہ انھیں صرف ایک چار بیڈرومز والا گھر چاہیے۔ دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ شیلا دکشت کی اس وقت کی رہائش گاہ 3 موتی لال نہرو پلیس کو اس کے لیے منتخب کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption من موہن سنگھ گھڑی میں وقت دیکھ رہے ہیں۔ ایک بار انھوں نے کہا تھا تاریخ کشادہ دلی کے ساتھ میرا تجزیہ کرے گی

فی الحال وہاں مرمت کا کام جاری ہے اور گھر کے ساتھ تین ایکڑ کے باغ تک میں کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں کیونکہ وزیر اعظم کے خاندان کا خیال ہے کہ 16 مئی کو عام انتخابات کے نتائج سے پہلے ہی انھیں اس میں شفٹ کر دیا جائے۔

اس تاریخ کی ایک اور اہمیت یہ ہے کہ اس کے بعد سے من موہن سنگھ بھارتی تاریخ میں مسلسل دو بار پانچ سالہ مدت پوری کرنے والے وزیر اعظم کے طور پر یاد کیے جائیں گے۔

جنوری 2014 میں اپنی ایک اہم پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا تھا: ’امید ہے کہ تاریخ میرا تجزیہ کشادہ دلی سے کرے گی۔‘

من موہن سنگھ کہیں بھی رہیں، کچھ بھی کریں، ان کی باریک نظر اپنے بارے میں لکھی جانے والی تاریخ پر ضرور رہے گی۔

اسی بارے میں