بھارت: اتر پردیش کی سیاست کے پانچ ’دبنگ‘

تصویر کے کاپی رائٹ harshjoshi
Image caption سیاسی جماعتوں میں شامل بعض رہنماؤں سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ سیاست کو جرائم سے پاک رکھنے کے معاملے میں کس حد تک سنجیدہ ہیں

بھارت میں جاری ایوان زیریں یعنی لوک سبھا انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے سکیورٹی اور سیاست میں جرائم کو اہم موضوع بنایا گیا ہے لیکن اس بارے میں یہ جماعتیں کس قدر سنجیدہ ہیں، یہ بات ان کی جانب سے میدان میں اتارے جانے والے بعض امیدواروں کے تعارف سے ظاہر ہے۔

مختار انصاری

تصویر کے کاپی رائٹ harshjoshi
Image caption مختار انصاری کے دادا اپنے زمانے میں کانگریس پارٹی کے صدر تھے

مختار انصاری کا خاندان کئی پشتوں سے سیاست سے منسلک رہا ہے۔ ان کے دادا اپنے زمانے میں کانگریس پارٹی کے صدر رہ چکے تھے۔ لیکن مختار کو مشرقی اتر پردیش میں ’دبنگ‘ کا درجہ تقریباً 20 سال پہلے ہی مل چکا تھا۔

مئو اسمبلی حلقے سے سنہ 1996 میں پہلی بار منتخب ہونے کے بعد مختار انصاری فی الحال چوتھی بار رکن اسمبلی ہیں اور اب گھوسی پارلیمانی سیٹ سے اپنی قائم کردہ پارٹی ’قومی ایکتا دل‘ سے لوک سبھا کے لیے امیدوار ہیں۔

انصاری پر قتل کے کم از کم پانچ الزامات ہیں اور گذشتہ عام انتخابات کی طرح ہی وہ جیل میں رہتے ہوئے انتخاب لڑنے والے ہیں۔ سنہ 2007 میں انھیں بی ایس پی میں شامل کرنے کے بعد مایاوتی نے 2010 میں پارٹی سے یہ کہہ کر نکال دیا تھا کہ ’ان پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شواہد ہیں۔‘

مختار کی غیرموجودگي میں ان کے دو بھائی افضل اور صبغت اللہ انصاری قومی اتحاد پارٹی چلاتے ہیں۔

دھننجے سنگھ

تصویر کے کاپی رائٹ harshjoshi
Image caption دھننجے سنگھ کو انگریزی ناول پڑھنے کا شوق ہے

سنہ 1990 کی دہائی میں دھننجے سنگھ اکثر و بیشتر لکھنؤ یونیورسٹی میں پائے جاتے تھے اور ان کے دوست مجھے بتاتے تھے کہ انھیں انگریزی ناول پڑھنے کا شوق ہے۔

جونپور کے رہنے والے اس رہنما کی سیاست اور ’داداگیری‘ کا سفر جون پور سے شروع ہوا جہاں سے پہلے وہ رکن اسمبلی بنے اور پھر ایم پی بنے۔ قومی دیہی صحت مہم سے متعلق ایک گھپلے سے منسلک ایک قتل میں ان کا نام بھی آیا۔

سنہ 2011 میں جون پور میں سماج وادی پارٹی کے دو رہنماؤں کے قتل کے معاملے میں بھی ان پر الزام لگے۔ ان پر تازہ ترین الزام دہلی میں ان کی رہائش گاہ پر ایک نوکرانی پر مبینہ تشدد اور قتل کا لگا ہے جس کے لیے انھیں اور ان کی بیوی کو حراست میں بھی رکھا گیا۔

مایاوتی نے سنہ 2014 کے انتخابات کے ذرا قبل انھیں اپنی پارٹی سے نکال دیا۔ فی الحال وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں ہیں لیکن صرف اتر پردیش میں ہی ان کے خلاف دس سے زیادہ مجرمانہ معاملے عدالتوں میں چل رہے ہیں۔

عتیق احمد

تصویر کے کاپی رائٹ harshjoshi
Image caption وہ سنہ 2009 کے انتخابات میں ’اپنا دل‘ کے امیدوار تھے

51 سالہ عتیق احمد سنہ 2004 کے لوک سبھا انتخابات میں پھول پور کی تاریخی سیٹ سے سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمان منتخب ہوئے تھے۔

وہ سنہ 2014 کے عام انتخابات میں سماج وادی پارٹی کی جانب سے پہلے سلطان پور سے اپنی قسمت آزمانے والے تھے لیکن بعد میں انھیں شراوستی سے ٹکٹ دیا گیا۔ عتیق جب اپنی طاقت کے مظاہرے کے سلسلے میں سلطان پور پہنچے تھے تو ان کے قافلے میں مسلح لوگوں سے لیس گاڑیوں کی تعداد 200 سے اوپر بتائی گئی تھی۔

ایک زمانے میں عتیق احمد پر 40 سے بھی زیادہ مجرمانہ معاملے درج تھے جن میں قتل، قتل کی سازش، اغوا اور تاوان کے مقدمے شامل تھے۔ واضح رہے کہ کسی بھی معاملے میں انھیں ابھی تک قصوروار نہیں پایا گیا۔ وہ سنہ 2009 کے انتخابات میں ’اپنا دل‘ کے امیدوار تھے، تاہم اس میں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ڈی پی یادو

تصویر کے کاپی رائٹ harshjoshi
Image caption ڈی پی یادو ’راشٹریہ پریورتن دل‘ سے سمبل لوک سبھا سیٹ کے لیے امیدوار ہیں

دھرم پال یادو مغربی اترپردیش کے امیرترین سیاست دانوں میں سے ایک ہیں۔ شرفاباد، نوئیڈا میں ایک کسان خاندان میں پیدا ہونے والے ڈی پی یادو پہلے ایک ڈیری چلایا کرتے تھے اور بعد میں شراب بنانے کے کاروبار میں آئے۔

چینی ملوں، شراب کے کارخانے، ہوٹل اور فیکٹریوں کے مالک ہونے کے علاوہ انھوں نے ملائم سنگھ کی سماج وادی پارٹی سے وابستہ ہو کر سنہ 1989 میں فعال سیاست میں قدم رکھا اور اسمبلی رکن بننے کے بعد ریاست کے وزیر بھی بنے۔

ان پر عدالت میں قتل کے پانچ مقدمے جاری ہیں اور ان کے خلاف درجنوں قتل کی کوشش، ڈاکے اور بھتہ خوری کے معاملے بھی درج ہیں۔

سنہ 2004 میں انھیں بی جے پی میں شامل کیا گیا تھا، تو میڈیا میں اس پر بہت تنقید ہوئی تھی جس کے سبب چار دن بعد فیصلہ واپس لیا گیا۔

ان کے بیٹے وکاس یادو مشہور نتیش كٹارا قتل معاملے میں فی الحال جیل میں ہیں اور خود ڈی پی یادو ’راشٹریہ پریورتن دل‘ سے سمبل لوک سبھا سیٹ کے لیے امیدوار ہیں۔

برج بھوشن سنگھ

تصویر کے کاپی رائٹ harshjoshi
Image caption برج بھوشن شرن سنگھ ’بھارتی کشتی سنگھ‘ کے صدر ہیں

سنہ 1991 میں پہلی بار گونڈا سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہونے والے برج بھوشن کی ویب سائٹ پر لکھا ہے: ’اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے وہ چار بار ایم پی بنے ہیں۔‘

حالانکہ اس بات کا ذکر کہیں نہیں کہ ان پر قتل، آتشزدگی اور توڑ پھوڑ کرنے کے بھی الزامات لگ چکے ہیں۔

ایک زمانے میں گونڈا شہر میں ’مقامی لیڈر‘ کہے جانے والے برج بھوشن شرن سنگھ ’بھارتی کشتی سنگھ‘ کے صدر ہیں اور سنہ 2008 میں بی جے پی چھوڑ کر ملائم سنگھ کی سماج وادی پارٹی میں شامل ہو گئے تھے۔

لیکن 2014 لوک سبھا انتخابات کے کچھ وقت پہلے ہی وہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں واپس آ گئے اور اس بار قیصر گنج سے میدان میں ہیں۔

اسی بارے میں