شمالی افغانستان میں سیلاب سے 43 ہلاک

Image caption صوبے میں بہت سے مکانات اب بھی زیرِ آب ہیں

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے شمالی علاقوں میں تباہ کن سیلاب سے کم از کم 43 افراد ہلاک اور سینکڑوں بےگھر ہوگئے ہیں۔

صوبہ جوزجان کے گورنر نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

سیلاب سے متاثرہ علاقے میں لوگوں نے اپنے مکانات کی چھتوں پر پناہ لی ہوئی ہے اور ان کی امداد کے لیے ہیلی کاپٹر روانہ کیے گئے ہیں۔

جوزجان کے علاوہ افغانستان کے شمال اور مغربی صوبوں میں بھی سیلاب کی اطلاعات ہیں۔

جوزجان کے گورنر بامراد قونلی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سیلاب سے ہزاروں مکانات تباہ ہوئے ہیں اور ہزاروں شہری مشکلات کا شکار ہیں۔‘

طوفانی بارش اور سیلاب نے علاقے کے کچے مکانات کو تباہ کر دیا ہے اور اس صوبے میں بہت سے مکانات اب بھی زیرِ آب ہیں۔

متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے والے بی بی سی کے نامہ نگار نوید نذیری کا کہنا ہے کہ ایک مقامی خاتون نے بتایا کہ اچانک شام کے وقت سیلابی پانی آیا اور اس کے دو بچے بہہ گئے۔

گورنر بامراد نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبے کے تین دوردراز اضلاع سیلاب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔