فہرست سے نام غائب، الیکشن کمیشن کی معافی

ممبئی تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ممبئی میں تقریباً 15 فیصد لوگ ووٹنگ سے محروم رہے

الیکشن کمیشن نے مہاراشٹر میں بڑے پیمانے پر لوگوں کے نام ووٹر لسٹوں سے غائب ہونے پر معافی مانگی ہے۔

ممبئی میں جمعرات کو ہونے والی ووٹنگ میں گذشتہ سال کے مقابلے میں دس فیصد زیادہ پولنگ کے باوجود تقریباً 15 فیصد لوگ ووٹ کے حق سے محروم رہے۔

بھارت کے انتخابات: خصوصی ضمیمہ

بی جے پی کا الزام ہے کہ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگوں کے نام ووٹر لسٹوں سے غائب تھے۔ اس طرح تقریباً 15 فیصد لوگ ووٹ نہیں ڈال سکے۔

تاہم اس بار ممبئی میں دس فیصد زیادہ پولنگ ہوئی۔

کئی نامور شخصیات کے نام بھی فہرست سے غائب تھے، جن میں سینیئر وکیل رام جیٹھ ملانی، ایچ ڈی ایف سی بینک کے چیئرمین دیپک پرکھ، ممبئی اسٹاک ایکسچینج کے چیئرمین آشیش کمار چوہان، اداکار اتل کُلکرنی، وندنا گپتے اور سوپنيل جوشی وغیرہ شامل ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر لوگ 20، 25 سال سے ایک ہی پتے پر رہ رہے ہیں اور لوک سبھا کے گذشتہ کئی انتخابات میں ووٹ ڈال چکے ہیں۔

ان میں سے کسی نے بھی اپنا نام فہرست سے ہٹانے کے لیے درخواست نہیں دی تھی۔

اداکار اتل کلکرنی کا نام بھی ووٹر لسٹ سے غائب تھا۔ بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’میں اسی پتے پر پچھلے 20 سالوں سے رہتا ہوں، میں نے اب تک ہر الیکشن میں اسی پولنگ بوتھ سے ووٹ دیا ہے، خواہ وہ بلدیاتی انتخابات ہوں یا اسمبلی انتخابات۔ (اس کے باوجود) آن لائن ووٹر لسٹ میں میرا نام شامل نہیں تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’پوچھ گچھ پر بتایا گیا کہ پولنگ سٹیشن پر بھیجی گئی فہرست میں میرا نام ہو سکتا ہے۔ جب میں ووٹ دینے پہنچا تو پتہ چلا کہ وہاں بھی میرا نام نہیں ہے۔‘

اس معاملے میں کلکرنی نے وہاں موجود حکام سے شکایت درج کی لیکن وہ ووٹ نہیں دے پائے۔

اسی طرح رام جیٹھ ملانی، دیپک پرکھ اور آشیش کمار چوہان کو بھی پولنگ سٹیشن پر پہنچنے پر ووٹر لسٹ سے نام غائب ہونے کا پتہ چلا۔

مہاراشٹر کے انتخابی افسر نتن گردے نے اس بارے میں بات کرنے سے انکار کر دیا۔ جب کہ الیکشن کمیشن کے نائب مہاسچالك اور مہاراشٹر کے انچارج سدھیر ترپاٹھی نے سارا دوش ووٹروں کے سر ہی تھوپ دیا۔

ان افسران کا کہنا ہے کہ ووٹروں کو شناختی کارڈ ہونے کے باوجود وقت سے پہلے اس بات کا یقین کر لینا چاہیے کہ ان کا نام فہرست میں ہے یا نہیں۔

تلسي دھام سوسائٹی کی دو اور تین نمبر بلڈنگ کے زیادہ تر لوگوں کے نام بھی ووٹر لسٹ سے غائب تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جہاں کئی نامور شخصیات کے نام فہرست سے غائب تھے تو وہیں بہت سی اہم شخصیات نے ووٹ ڈالا

سوسائٹی میں رہنے والے پرساد موڈك نے کہا: ’ہمارے گھر میں پانچ ووٹ ہیں، جن میں تین پرانے ووٹر ہیں۔ میرے بیٹے کا نام ابھی لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ جب ہم ووٹ ڈالنے پہنچے تو میرا، میری بیوی اور ماں باپ کا نام فہرست سے غائب تھا۔ فہرست میں صرف میرے بیٹے کا نام تھا۔‘

تھانے کے ہی تلسي دھام، وسنت وہار، پاچپاكھاڈي، نوی ممبئی اور ممبئی کے دادر، سانتاكروڑ، کولابہ جیسے علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر لوگوں کے نام فہرست میں نہیں تھے۔

جنوبی ممبئی سے ایم این ایس کے امیدوار بالا نادگاؤكر نے الزام لگایا کہ یہ ایک سازش ہے: ’ہم اس معاملے میں الیکشن کمیشن سے شکایت کریں گے، ہم پیر کو بامبے ہائی کورٹ میں مفادِ عامہ کی عرضی دائر کرنے والے ہیں۔‘

حکام کے اس جواب سے نہ تو ووٹر مطمئن ہیں اور نہ ہی بی جے پی اور دیگر جماعتیں۔

بی جے پی کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں میں اتنے بڑے پیمانے پر لوگوں کے نام غائب ہونا دراصل ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔

اسی بارے میں