افغانستان:’صدر کا انتخاب دوسرے مرحلے میں ہوگا‘

Image caption عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی دونوں کہہ چکے ہیں کہ وہ دوبارہ الیکشن کے لیے تیار ہیں

افغانستان میں صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں کوئی بھی امیدوار کامیابی کے لیے درکار 50 فیصد ووٹ حاصل نہیں کر سکا ہے اور اب نئے صدر کا انتخاب دوسرے مرحلے کے الیکشن میں ہوگا۔

افغانستان کے الیکشن کمیشن کی جانب سے پانچ اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے غیرحتمی نتائج کے مطابق الیکشن میں کُل 6617666 ووٹ ڈالے گئے اور مردوں میں ووٹنگ کا تناسب 64 فیصد جبکہ خواتین میں 36 فیصد رہا۔

پہلے مرحلے میں سابق وزیرِ خارجہ عبداللہ عبداللہ چوالیس اعشاریہ نو فیصد ووٹ حاصل کر کے پہلے نمبر پر رہے۔ انھوں نے 29 لاکھ 73 ہزار سے زیادہ ووٹ لیے۔

انھیں اپنے قریب ترین حریف اور سابق وزیرِ خزانہ اشرف غنی پر 13 فیصد کی مجموعی برتری حاصل رہی جو اکتیس اعشاریہ پانچ فیصد یعنی 20 لاکھ 89 ہزار ووٹ ہی لے سکے۔

تیسرے نمبر پر آنے والے زلمے رسول سات لاکھ 59 ہزار ووٹ ہی لے سکے۔

اب پہلے دو نمبروں پر آنے والے امیدواروں کے درمیان صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں مقابلہ ہوگا جو کہ سات جون کو متوقع ہے۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لیئون کا کہنا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے شکایات میں اضافہ ہو رہا ہے جن کے ازالے کے بعد 14 مئی کو انتخابات کے پہلے مرحلے کے حتمی نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج میں تاخیر کی وجہ سے نتائج کو بدلنے کے حوالے سے شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دونوں طرف سے بیلٹ بکسوں کو بھرنے اور گنتی کے عمل میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی دونوں کہہ چکے ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ دوبارہ الیکشن کے لیے تیار ہیں۔

عبداللہ عبداللہ نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم نے کسی سے بھی مخلوط حکومت بنانے کے حوالے سے بات چیت نہیں کی۔‘

عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی میں سے جو بھی نیا صدر منتخب ہو گا وہ ملک کے موجودہ صدر حامد کرزئی کی جگہ لے گا جو کہ ملک میں طالبان کے خلاف غیرملکی افواج کی آمد کے بعد سے اب تک اس عہدے پر فائز رہنے والی واحد شخصیت ہیں۔

عبداللہ عبداللہ سنہ 2009 کے انتخاب میں صدر کرزئی کے خلاف ایک اہم امیدوار تھے اور انتخابات میں واضح برتری حاصل نہ ہونے کے باعث الیکشن کمیشن نے حامد کرزئی اور عبداللہ عبدللہ کو دوسرے مرحلے کے صدارتی انتحابات کے لیے اہل قرار دیا تھا۔

تاہم عبدللہ عبداللہ نے دوسرے مرحلے میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ انتحابات کا پہلا مرحلہ شفاف نہیں تھا جس کے نتجے میں افغان الیکشن کمیشن نے حامد کرزئی کو فاتح قرار دیا تھا اور وہ صدر کے عہدے پر فائز ہو گئے۔

اشرف غنی بھی 2009 کے صدارتی انتخاب میں امیدوار تھے مگر جیت نہ پائے۔ حامد کرزئی نے صدارت کے اپنے دوسرے دور میں انھیں بین الاقوامی افواج سے کنٹرول افغان افواج کو دینے کا کام سونپا اور وہ سنہ 2002 سے 2004 تک وزیر خزانہ بھی رہ چکے ہیں۔

اسی بارے میں